نوجوانوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج نوجوانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر نوجوانوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں پھنسنے سے بھی بچانا ہے۔
رواں برس یہ دن نوجوان تارکین وطن کے نام کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں سوا دو کروڑ افراد اقتصادی بحران کے باعث وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے اکیس لاکھ نوجوان ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اپنی منزل پر پہنچنے تک قوانین اور مقامی ثقافت سے ناواقفیت کی بنا پر ان نوجوانوں کو نسل پرستی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے, بالخصوص خواتین کو جنسی استحصال اور ناروا سلوک کا سامنا ہے۔
تاہم ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ تارکین وطن کی بھیجی ہوئی رقوم اور وطن واپسی کے بعد بیرون ملک سے حاصل ہونے والا تجربہ ان کے خاندان کے ساتھ ملک کے لیے بھی سود مند ثابت ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ نے 1998 میں پہلی بار عالمی یوم نوجوانان منانے کی منظوری دی تھی جس کے بعد سے اسے ہر سال دنیا بھر میں بھرپور جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔
تاہم عالمی سطح پر نہ تو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح کم ہو سکی اور نہ ہی نوجوانوں کو غربت سے بچایا جاسکا جس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کا ہر چوتھا نوجوان غربت کا شکار ہے اور ہر پانچواں روزگار سے محروم ہے۔
عالمی سطح پر 2007 سے 2012 کے دوران نوجوانوں کی بے روزگاری میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔
دو ہزار سات میں 7 کروڑ 10 لاکھ نوجوان بے روزگار تھے اور 2012 میں یہ تعداد بڑھ کر 7 کروڑ 50 لاکھ ہوگئی۔
دنیا بھر کی آبادی کا چھٹا حصہ جبکہ پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہمارے ہاں آبادی میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے یعنی 15 سے 30 سال کے افراد کی عمر کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہے۔
ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے صرف 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں جبکہ عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے۔
ملکی اداروں کے مطابق ہر دسواں پاکستانی نوجوان بے روزگار ہے جبکہ عالمی اداروں کے مطابق ہر چھٹا پاکستانی نوجوان روزگار سے محروم ہے۔












لائیو ٹی وی