ہمارے شہروں سے متعلق فیصلے کون کرتا ہے؟

گزشتہ 2 دہائیوں میں لاہور شہر بہت تیزی سے تبدیل ہوا ہے اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بھی اب نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن گئی ہیں۔ ان نئی تعمیرات میں پُرتعیش بنگلے، تجارتی مراکز اور جدید سہولیات شامل ہیں۔

ہم اپنے اردگرد جو تعمیرات دیکھتے ہیں وہ خاص تعمیراتی قوانین کے تحت ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر گھر کے باہر سڑک کتنی چوڑی ہوگی، کسی علاقے میں عوامی عمارتوں، تجارتی حصے، سبزے اور فٹ پاتھ کے لیے کتنی جگہ مختص ہوگی، ان سب معاملات کا فیصلہ ان اصولوں اور قوانین کے تحت ہوتا ہے۔

کچھ ہاؤسنگ اسکیموں میں کم مالیت کے چھوٹے پلاٹ بھی موجود ہوتے ہیں کیونکہ ان اصولوں میں یہ بات بھی شامل ہے۔ اکثر شہروں میں بہت بحث و مباحثے کے بعد ان قوانین میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ ایم آئی ٹی میں لینڈ اسکیپ آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ کی پروفیسر ایرن بین جوزف کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ’مجوزہ اصولوں اور منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کو دُور کرنا ہوتا ہے‘۔

اسی مقصد کے تحت ہم اس مضمون میں لاہور شہر میں رائج رہائشی قوانین میں ہونے والی حالیہ تبدیلی پر بات کریں گے۔

گزشتہ سال جون میں لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2014ء میں 18 ترامیم کی گئیں، اور اس بات میں کوئی حیرانی نہیں ہے کہ ان ترامیم کے اثرات پر کوئی خاطر خواہ بحث نہیں ہوئی۔

جیسا کہ نام ہی سے واضح ہے کہ پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز میں نجی ہاؤسنگ اور فارم ہاؤسنگ اسکیموں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اصول موجود ہوتے ہیں۔ ان میں پلاننگ کی اجازت لینے کا طریقہ، اجازت کے حصول کے مراحل، پلاننگ کے کم از کم معیار کی فہرست، مارکیٹ کے اصول اور پابندیاں، اپیل کے مراحل اور تعمیراتی کام کی نگرانی جیسے معاملات کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔

یہ بات طے شدہ تھی کہ ایک اسکیم میں کتنے فیصد پلاٹ کم آمدن والے طبقے کے لیے ہوں گے
یہ بات طے شدہ تھی کہ ایک اسکیم میں کتنے فیصد پلاٹ کم آمدن والے طبقے کے لیے ہوں گے

دسمبر 2018ء میں حکومتِ پنجاب کے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ (HUD & PHED) نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا کام ایل ڈی اے ایکٹ 1975ء، ایل ڈی اے پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2014ء، ایل ڈی اے لینڈ یوز رولز 2014ء اور ایل ڈی اے بلڈنگ اینڈ زوننگ ریگولیشنز پر نظرثانی اور انہیں بہتر بنانے کے لیے تجاویز مرتب کرنا تھا تاکہ نجی اور سرکاری تعمیراتی سیکٹر کو سہولیات فراہم کی جاسکے۔

اس کمیٹی میں ایل ڈی اے کے چیف ٹاؤن پلانر، HUD & PHED کے 2 نمائندے، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز (ABAD) کے چیئرمین اور ایک ٹاؤن پلانر شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ستمبر 2019ء میں ایل ڈی اے کے اسٹاف، ABAD کے نمائندوں، منتخب آرکیٹیکٹ اور وزیر برائے ہاؤسنگ کے سامنے اپنی تجاویز پیش کیں۔

اس کے بعد اکتوبر 2019ء میں ایل ڈی اے کے نائب چیئرمین امتیاز محمود کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں ان تجاویز پر حتمی فیصلے کیے گئے۔ جون کے گزٹ میں ان میں سے کئی فیصلوں کو نوٹیفیکیشن کے بعد باضابطہ طور پر جاری کردیا گیا ہے۔

اگرچہ ہر ترمیم مزید جانچ پڑتال اور بحث کی متقاضی ہے تاہم یہاں ہم ایل ڈی اے پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2014ء میں ہونے والی کچھ ترامیم پر ہی بات کریں گے تاکہ یہ بات بتائی جاسکے کہ ان ترامیم پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔

ترمیم نمبر 1 اور 7: کم قیمت رہائش

کم قیمت رہائش کے حوالے 2 اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:

ماضی میں کسی بھی اسکیم میں 20 فیصد پلاٹ کم آمدن والے طبقے (جس کی ماہانہ آمدن 24 ہزار روپے سے کم ہو) کے لیے اس طرح مختص کیے جاتے تھے کہ 10 فیصد پلاٹ 3 سے 5 مرلے کے ہوں گے (ایک مرلہ تقریباً 25 مربع گز کے برابر ہوتا ہے) جبکہ باقی 10 فیصد کثیر المنزلہ فلیٹ کے لیے ہوں گے۔

ہاوسنگ اسکیم کی منصوبہ بندی کے اصول
ہاوسنگ اسکیم کی منصوبہ بندی کے اصول

نئی ترامیم کے تحت کم آمدن والے طبقے کے لیے 20 فیصد پلاٹ مختص نہیں کرنے ہوں گے۔ اس کی جگہ کل رہائشی رقبے کا 20 فیصد اپارٹمنٹ یا چھوٹے پلاٹوں (3 سے 5 مرلے) یا دونوں کے لیے مختص کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ڈیویلپر چاہے تو وہ اس جگہ پر چھوٹے لیکن پُرتعیش اپارٹمنٹ بھی تعمیر کرسکتا ہے۔

اگرچہ پچھلے قانون پر بھی عمل نہیں ہورہا تھا تاہم اب تو ایسا لگتا ہے کہ کم آمدن والے طبقے کے لیے رہائش کے حصول کے لیے نہ ہی کوئی کوشش کی جارہی ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

ایسی صورتحال میں کہ جب نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈیولیپمنٹ اتھارٹی 50 لاکھ کم قیمت مکانات کی تعمیر کے ہدف کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے تو پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کروانے اور دیگر ممالک کی طرح مکانات کی کم قیمت کو یقینی بنانے کے طریقے کو متعارف کروانے سے کم قیمت رہائش فراہم کی جاسکتی تھی۔

اس کے برعکس ’لو کاسٹ اپارٹمنٹ ہاؤسنگ اسکیم‘ کے نام سے ایک ’نئی قسم کی ہاؤسنگ اسکیم‘ متعارف کروائی گئی ہے جس میں اگر بلڈر چاہے تو وہ علیحدہ سے اپارٹمنٹ بنا سکتا ہے۔ یہاں ’کم قیمت‘ کی بھی تعریف نہیں کی گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کوئی بلڈر اتنے کم منافع والا منصوبہ کیوں شروع کرے گا؟

اس منصوبے کو بلڈر کی مرضی پر چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے منصوبے شاید کبھی تعمیر ہی نہ ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح مخلوط آمدن کی رہائش کی جگہ طبقاتی سطح پر رہائش کو علیحدہ علیحدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس کم قیمت رہائشی اسکیم کی تفصیلات یوں ہیں کہ اس قسم کی اسکیم کے لیے زیادہ سے زیادہ رقبہ 100 کنال ہوگا، اپارٹمنٹ کا زیادہ سے زیادہ رقبہ 3 مرلے ہوگا، زیادہ سے زیادہ اونچائی 50 فٹ ہوگی اور تمام اندرونی سڑکیں 20 فٹ چوڑی ہوں گی۔ دیگر تمام اسکیموں کے لیے اندرونی سڑکوں کی ’کم از کم‘ چوڑائی متعین کی جاتی ہے لیکن یہاں اسے بس 20 فٹ متعین کردیا گیا ہے۔

آخر یہ 20 فٹ ’کم از کم‘ چوڑائی کیوں نہیں ہے؟ کیا یہ فائر بریگیڈ اور دیگر ریسکیو کی گاڑیوں کے گزرنے کے لیے مناسب چوڑائی ہے؟ اور کیا وہاں پارکنگ کے لیے مناسب جگہ ہوگی؟

ترمیم نمبر 4: زمین کا لازمی حصول

نئے قوانین کے مطابق بلڈر اسکیم کے کل رقبے کا زیادہ سے زیادہ 10 فیصد حصہ (7 فیصد اسکیم کے اندر اور 3 فیصد اسکیم کے ساتھ) کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894ء میں دیے گئے لازمی حصول کے تحت حاصل کرسکتا ہے۔

اس زمین کا معاوضہ مارکیٹ کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا۔ کاغذوں میں تو یہ بہت کارآمد لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بلڈر کو اسکیم کے اندر سڑکوں کو بہتر کرنا ہو تو یہ ضرور فائدہ مند ہوگا، اور ظاہر ہے کہ کچھ لوگ خود بھی اپنی زمین فروخت کرنے پر راضی ہوں گے۔ تاہم یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ ’مفاد عامہ‘ میں استعمال کیا جاتا ہے، آخر یہاں کس کے مفاد کو عزیز رکھا جارہا ہے؟

ہاوسنگ اسکیموں کی اقسام
ہاوسنگ اسکیموں کی اقسام

کیا چھوٹے زمیندار اپنی زمین نہ بیچنا چاہیں تو وہ انکار کرسکتے ہیں؟ کیا انہیں مناسب معاوضہ ملے گا؟ ماضی کے تجربات تو ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ عام لوگوں کے لیے بلڈر کی جانب سے زمین کے حصول کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ہمارے شہری نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے شہری ادارے شہریوں کو جوابدہ نہیں ہیں۔ ماضی میں رول 55 کے تحت کوئی بھی سائل حکومت کے سامنے اپیل کرسکتا تھا۔ تاہم ترامیم کے بعد ’حکومت‘ کو ’اتھارٹی‘ سے تبدیل کردیا گیا ہے۔

دیکھا جائے تو ان ترامیم کو ایل ڈی اے ہی نافذ کرے گا اور وہی اپیلوں پر فیصلہ بھی کرے گا۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ آخر کس طرح ایک ہی ادارہ اپنے خلاف دائر اپیلوں کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے۔ یہ تو مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

ترمیم نمبر 15ڈی: پہلے سے موجود سوسائٹی کے بلڈر سے اجازت

اس ترمیم کے تحت ’اگر کوئی دوسرا فریق کسی پہلے سے منظور شدہ اسکیم کے اندر یا ساتھ موجود خالی جگہ پر کوئی تعمیرات کرنا چاہے کہ راستے کا حق اس سوسائٹی کو حاصل ہو تو اس صورت میں اس بلڈر کی رضامندی ضروری ہوگی جس کی سوسائٹی کا راستہ اور دیگر سہولیات نئی سوسائٹی کے لیے بھی استعمال ہوگا‘۔

یعنی اگر کسی شخص کے پاس پہلے سے منظور شدہ کسی اسکیم کے اندر یا اس کے ساتھ کوئی زمین موجود ہے اور وہ اس پر کوئی چھوٹی ہاؤسنگ اسکیم تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے سے موجود اسکیم کے بلڈر سے اجازت لینی ہوگی۔ یہ شق تو واضح طور پر بڑے بلڈرز کو فائدہ دے رہی ہے کیونکہ آخر کوئی بڑا بلڈر کسی چھوٹے بلڈر کو اپنی اسکیم کے ساتھ اسکیم بنانے کی اجازت کیوں دے گا؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ایل ڈی اے حالات اور دستیاب وسائل کو دیکھتے ہوئے نئی اسکیم کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے۔

موجودہ قوانین میں کل 18 ترامیم کی گئی ہیں۔ ابتدائی منصوبہ بندی کی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت کو ختم کردیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کا چھوٹے اور بڑے ڈیویلپرز نے یکساں طور پر خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اس سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی۔

اب ڈیویلپرز کو منظوری سے قبل انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کا نو اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ (NOC) بھی جمع نہیں کروانا ہوگا لیکن ان پر لازم ہوگا کہ منظوری حاصل کرنے کے 6 ماہ کے اندر وہ یہ NOC جمع کروائیں ورنہ انہیں جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

یہ بات پریشان کن ہے کہ NOC کی شرط کو منظوری کے بعد پر رکھ دیا گیا ہے کہ جس وقت تک تعمیرات کا آغاز ہوچکا ہوگا۔ بلڈرز کا کہنا ہے کہ EPA کی اجازت پہلے بھی بس ایک طرح کی خانہ پری ہی تھی کیونکہ EPA صرف اجازت دینے میں تاخیر اور منصوبوں کی تاریخ میں توسیع کرتا رہتا تھا۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تعمیرات کے آغاز سے پہلے اجازت کی شرط کو ہی ختم کردیا جائے یا پھر EPA کی فعالیت اور اثرات پر نظر ثانی کرنی چاہیے تھی؟

بلڈرز کو اب فی کنال 10 درخت لگانے ہوں گے، (ایک کنال تقریباً 600 مربع گز کے برار ہوتا ہے)۔ درخت بھی وہ جو مقامی ہوں۔ اس کے علاوہ 60 فٹ سے زیادہ چوڑی ہر سڑک پر دونوں جانب کم از کم 4 فٹ چوڑے فٹ پاتھ بھی تعمیر کرنے ہوں گے۔ اگرچہ یہ تبدیلی خوش آئند ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ 60 فٹ سے کم چوڑی اندرونی سڑکوں کے لیے فٹ پاتھ کی تعمیر لازمی نہیں ہے۔

ان اقدامات سے تعمیرات کی قیمت میں تو اضافہ ہوجائے گا لیکن فٹ پاتھ کے ذریعے پیدل آنے جانے میں سہولت فراہم کرنا کسی بھی علاقے کو رہنے کے قابل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے افراد کی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور عوامی مقامات تک رسائی بھی آسان ہوجاتی ہے۔

ہم نے ان ترامیم کا احاطہ اس وجہ سے کیا ہے تاکہ یہ بات سامنے لائی جاسکے کہ ان ترامیم پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔ تاہم اس ضمن میں ہمیں ایک سوال یہ بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے شہروں میں فیصلہ سازی کس طرح ہورہی ہے اور ان میں کون کون شامل ہے؟

اس معاملے کو دیکھا جائے تو یہ ترامیم حکومتی نمائندوں اور بڑے بلڈرز پر مبنی ایک چھوٹی سی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی ہیں، ایسی کمیٹی جس کے اپنے ذاتی مفادات بھی تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ترامیم کا اطلاق پورے لاہور ڈویژن پر ہوگا جس میں قصور، ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ بھی شامل ہیں لیکن جس میٹنگ میں حتمی فیصلے ہوئے اس میں شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے نمائندے موجود نہیں تھے۔ حیرت ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں اتنے اہم فیصلے کس طرح کرلیے گئے۔

ایل ڈی اے نے ان ترامیم کے بارے میں عوامی مشاورت بھی کی ہے لیکن اس کی حیثیت محض ربڑ اسٹیمپ سے زیادہ کی نہیں ہے کیونکہ تمام کلیدی فیصلے پہلے ہی لیے جاچکے۔

ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ان ترامیم سے کسے فائدہ ہوتا ہے اور کسے فائدہ نہیں ہوتا۔ آخر ہم مزید آزادانہ گفتگو کیسے کرسکتے ہیں؟

ہمارے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں اور یہ ہم سب کے ہی مفاد میں ہے کہ فیصلہ سازی اور پلاننگ کرتے ہوئے جمہوری فکر کو اختیار کریں، تاکہ عدم مساوات سے بچا جاسکے اور جو کمزور طبقات ہیں ان کے لیے بہتر فیصلے ممکن ہوسکیں۔


یہ مضمون 28 فروری 2021ء کو ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں