ای میل

ڈیری کا شعبہ، جسے پاکستان نے کبھی اہمیت نہیں دی

خرم ضیاء خان

پاکستانی برآمدات کا جب ذکر ہو تو عموماً ساری توجہ ٹیکسٹائل صنعت کو ہی دی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ امر فطری بھی ہے کیونکہ پاکستان کی کُل برآمدات میں سے ٹیکسٹائل کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

(نسبتاً ہی سہی) اچھی خبر یہ ہے کہ یہ شعبہ اپنی پوری صلاحیت پر کام کر رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس کی وجہ کورونا وائرس ہے۔ کورونا کی وجہ سے بھارت اور بنگلہ دیش کو ملنے والے آرڈر بھی پاکستان کو مل گئے۔

سو ایک بُری خبر یہ ہے کہ یہ کارکردگی عارضی ثابت ہوسکتی ہے۔ چونکہ معیشت کا خاطر خواہ دار و مدار ٹیکسٹائل پر ہے اس لیے جب حالات معمول پر آجائیں گے تو اس کا اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔

ٹیکسٹائل پر ضرورت سے زیادہ انحصار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حکومت اس شعبے کو وقتاً فوقتاً مشینری اور خام مال کی برآمدات میں سبسڈی دیتی رہتی ہے۔ اس صنعت کو بحال رکھنے کے لیے ملک کی 73 سالہ تاریخ میں متعدد بیل آؤٹ پیکیج بھی دیے گئے ہیں۔

کئی لوگوں نے ٹیکسٹائل پر بہت زیادہ انحصار کرنے پر تنقید کی ہے۔

دسمبر میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے کے لیے ٹیکسٹائل کے شعبے سے آگے بڑھ کر دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کی سالانہ برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالر تک ہی 'محدود' رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم پرزہ جات، خام مال اور دیگر اشیا کی صورت میں چین کی منڈی کا صرف ایک فیصد حصہ بھی حاصل کرلیں تو چین کو ہونے والی ہماری برآمدات 23 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں‘۔

بظاہر باقیوں کی رائے بھی ڈاکٹر عشرت حسین سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ گزشتہ سال چائنا اکنامک نیٹ (CEN) کی جانب سے بتایا گیا کہ چین، پاکستان سے ڈیری مصنوعات درآمد کرے گا۔ بیجینگ میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر بدر الزماں نے CEN کو بتایا کہ پاکستان کو یہ موقع کم قیمت میں دستیاب اعلیٰ معیار کی ڈیری مصنوعات کی وجہ سے ملا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان عالمی سطح پر دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہے۔

بلاشبہ ملک کی ڈیری صنعت میں بہت صلاحیت ہے اور یہ پاکستان کے لیے ’سفید سونا‘ ثابت ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت یہ شعبہ مختلف وجوہات کی بنا پر مشکلات کا شکار ہے۔ اگر اس کی برآمدی صلاحیت کو محسوس کرلیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس شعبے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی بدل سکتا ہے۔

صلاحیت جس کا استعمال نہیں ہوتا

کراچی کی بھینس کالونی کے ایک فارم میں دودھ دوہیا جارہا ہے— تصویر فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار
کراچی کی بھینس کالونی کے ایک فارم میں دودھ دوہیا جارہا ہے— تصویر فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار

اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ 3 دہائیوں میں دنیا بھر میں دودھ کی پیداوار میں 59 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 1998ء میں 53 کروڑ ٹن سے بڑھ کر 2018ء میں تقریباً 84 کروڑ ٹن ہوگئی تھی۔

عالمی سطح پر دودھ کی کھپت میں اضافہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک موقع ہے جو دودھ اور ڈیری مصنوعات کو برآمد کرکے زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے ایک اندازے کے مطابق اگر حکومتی امداد میسر ہو تو پاکستان صرف ڈیری مصنوعات اور دودھ کی برآمدات سے ہی 30 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ مواقع ضائع کیے جارہے ہیں۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی موجودہ برآمدات میں لائیو اسٹاک اور ڈیری کا حصہ صرف 3.1 فیصد ہے جس سے مالی سال 2020ء میں 68 کروڑ ڈالر ہی حاصل ہوں گے۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے کسان اپنے جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کے طریقہ کار سے بے خبر ہیں، اس لیے دودھ کی پیداوار اور معیار پر اثر پڑتا ہے۔ کاشتکار اکثر جانوروں کو مناسب غذائیت سے بھرپور چارہ نہیں کھلاتے (یا اس سے قاصر ہیں) اور بہت سے افراد ان کی وقت پر ویکسینیشن نہیں کرواتے۔ اس کے علاوہ قابل ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عطائی ڈاکٹر جانوروں کو غلط دوائیں دے دیتے ہیں جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہت سے ڈیری فارموں، خاص طور پر شہروں کے قریب فارموں میں کسان دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے مضر صحت طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ برسوں سے کسان جانوروں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے آکسیٹوسن انجیکشن کا غلط استعمال کر رہے ہیں جو دراصل خواتین کو دورانِ زچگی مخصوص ہارمون کی فراہمی کے مقصد سے لگایا جاتا ہے۔

یہ نہ صرف مویشیوں کے لیے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی مضر ہے جو ان مویشیوں کا دودھ پیتے ہیں اور بالآخر یہ کاروبار کے لیے بھی بُرا ہے۔ ایم ایس ایف (ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز) کی 2019ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق آکسیٹوسن کے غلط استعمال کی وجہ سے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں اور پاکستان میں ’آکسیٹوسن بہت سی فارمیسیوں پر نسخے کے بغیر صرف چند روپوں میں دستیاب ہے'۔

کسانوں میں تعلیم کا فقدان بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ درحقیقت کچھ کمپنیاں جو پیک شدہ ڈیری مصنوعات فروخت کرتی ہیں وہ دیہی اور مضافاتی علاقوں میں رہنے والے کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے کسانوں کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو زیادہ سے زیادہ غذائیت بخش خوراک فراہم کرسکیں۔ اس کے علاوہ یہ کمپنیاں جانوروں کو ویکسین لگانے میں بھی کسانوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ تاہم ان کوششوں سے بہت زیادہ فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

بدقسمتی سے دودھ کو ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہونے اور شہروں تک دودھ پہنچانے کے لیے سڑکوں کے فقدان جیسی دیگر وجوہات کے باعث دودھ کی ایک بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔

کم دودھ دینے والے مویشی اور کھلے دودھ کی فروخت

ایک دکان دار لسی تیار کرتے ہوئے—تصویر فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار
ایک دکان دار لسی تیار کرتے ہوئے—تصویر فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار

ایک اور بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر کسانوں کے پاس کم دودھ دینے والے مویشی ہیں، اگرچہ ملک میں دودھ دینے والے مویشیوں کی تعداد امریکا میں دودھ دینے والے مویشیوں سے بہت زیادہ ہے لیکن یہاں دودھ کی پیداوار بہت کم ہے۔

پاکستان میں ایک گائے دن میں اوسطاً 14 لیٹر اور بھینس 10 لیٹر دودھ دیتی ہے۔ دودھ حاصل کرنے کے لیے عالمی سطح پر گائے کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں بھینس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ زیادہ چکنائی اور گاڑھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر ذائقے کی وجہ سے فارم مالکان اور صارفین دونوں ہی بھینس کے دودھ کو ترجیح دیتے ہیں۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق سال 20ء-2019ء میں ملک میں دودھ کی پیداوار 61,690 ہزار ٹن رہی (تقریباً 62 ارب لیٹر)۔ اس میں گائے سے حاصل کیا جانے والا دودھ 22,508 ہزار ٹن جبکہ بھینسوں سے حاصل کیا جانے والا دودھ 37،256 ہزار ٹن تھا۔ بقیہ دودھ بھیڑوں (41 ہزار ٹن)، بکریوں (965 ہزار ٹن) اور اونٹوں (920 ہزار) سے حاصل کیا گیا۔

صارفین کے استعمال کے لیے دستیاب دودھ تقریباً 50 ہزار ٹن ہی ہوتا ہے یعنی (18,007 ہزار ٹن گائے کا، 29,805 ہزار ٹن بھینسوں کا، 41,000 بھیڑوں کا، 965 ہزار بکری کا اور 920 ہزار اونٹوں کا)۔ یہ اوسط 20 فیصد ضائع ہوجانے والے دودھ کے علاوہ ہے۔ اس میں سے 15 فیصد دودھ ٹرانسپورٹ کے مسائل اور دودھ کو ٹھنڈا نہ رکھنے کے سبب خراب ہوجاتا ہے جبکہ 5 فیصد جانوروں کے بچوں کی خوراک بنتا ہے۔

رفیق کا کراچی کے علاقے ملیر میں ایک ڈیری فارم ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ چونکہ بھینس کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے اس وجہ سے کھلا دودھ فروخت کرنے والوں کی جانب سے اس میں پانی ملانا ایک عام بات ہے۔

پاکستان میں 90 فیصد سے زیادہ آبادی آج بھی کھلے دودھ پر انحصار کرتی ہے۔ اس دودھ کو عموماً مناسب طریقے سے ٹھنڈا نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے یہ اکثر خراب ہوجاتا ہے اور استعمال کے قابل نہیں رہتا۔

دودھ بہت جلد خراب ہونے والی شے ہے لیکن فوائل کی تہہ والے ڈبوں میں پیک ہونے پر یہ دکان کے شیلف میں 3 ماہ تک خراب نہیں ہوتا۔ تاہم یہ پیک شدہ دودھ مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر پاکستانیوں کی دسترس سے باہر ہے۔

ٹیٹرا پیک پاکستان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر حسین رضا خان نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں دودھ سے بنی ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ’ہمیں اپنے گھر کو پہلے ترتیب میں لانا ہوگا‘۔

حسین رضا خان کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں حاصل ہونے والا 80 فیصد سے زیادہ دودھ ایسے چھوٹے ڈیری فارمرز کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جن کے پاس دودھ دینے والے جانوروں کی تعداد ایک سے 4 کے درمیان ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت کو ان ڈیری فارمرز کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا اور صرف تب ہی اس شعبے میں تبدیلی آسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دودھ کی تقسیم کے نظام میں نقائص کی وجہ سے پیک دودھ تیار کرنے والی کمپنیاں صرف اپنی 40 فیصد استعداد پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ اگر یہ کمپنیاں 60 فیصد استعداد پر بھی کام کریں تو پیک دودھ کی قیمت میں فی کلوگرام 10 سے 15 روپے کمی آسکتی ہے۔ اس کمی سے یقیناً یہ دودھ زیادہ لوگوں کی قوتِ خرید میں آجائے گا۔

ڈیری مصنوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے

مرد و خواتین دہی خریدتے ہوئے — تصویر عارف علی/وائٹ اسٹار
مرد و خواتین دہی خریدتے ہوئے — تصویر عارف علی/وائٹ اسٹار

امریکا سے تعلق رکھنے والے مصنف اور مشہور ٹیلی ویژن شخصیت کلفٹن فیڈی مین نے ایک بار کہا تھا کہ ’پنیر دراصل دودھ کی لافانی کیفیت کا نام ہے'۔

دودھ بہت جلد خراب ہوجاتا ہے اور اگرچہ دودھ کو برآمد کرنا ممکن ہے (جو کہ نہایت منافع بخش بھی ثابت ہوسکتا ہے) لیکن اس صنعت سے متعلق افراد کے مطابق بہتر انتخاب یہ ہے کہ دودھ کی ویلیو ایڈڈ صورتوں جیسے پنیر، مکھن اور دیسی گھی کو برآمد کیا جائے۔ نہ صرف یہ کہ اس قسم کی مصنوعات زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہتی ہیں بلکہ یہ روزمرہ کے کھانوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔

اگرچہ جنوبی ایشیا میں خاطر خواہ مقدار میں دودھ کی پیداوار ہوتی ہے (دنیا میں دودھ کی کُل پیداوار کا 25 فیصد) تاہم عالمی سطح پر ڈیری مصنوعات کی برآمدات میں اس خطے کا بہت زیادہ حصہ نہیں ہے۔ پاکستان اس شعبے میں پہل کرکے خطے میں قائدانہ حیثیت حاصل کرسکتا ہے۔

پاکستان پنیر اور دودھ سے بنی دیگر اشیا باآسانی تیار سکتا ہے لیکن منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث ہم ان اشیا کی درآمد پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر رہے ہیں۔

ہم صرف پنیر ہی درآمد نہیں کررہے۔ پاکستان میں دودھ کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہم ہر سال 20 ارب روپے دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات درآمد کرنے میں خرچ کردیتے ہیں۔

زوار عباسی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ڈیری فارمر ہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ 5 سے 6 کلوگرام پنیر تیار کرنے میں تقریباً 40 کلوگرام دودھ استعمال ہوتا ہے۔ دودھ کی اتنی ہی مقدار سے 3 کلوگرام مکھن اور ڈیڑھ کلوگرام دیسی گھی تیار کیا جاسکتا ہے۔

زوار یہ تمام اشیا اپنے چھوٹے سے باورچی خانے میں موجود ایک بڑے برتن میں تیار کرتے ہیں۔ ان کی ملتان میں مٹھائیوں کی دکان ہے جہاں یہ تمام اشیا استعمال ہوجاتی ہیں۔ زوار تو یہ کام چھوٹے پیمانے پر کر رہے ہیں تاہم پاکستان پنیر کا ایک بڑا برآمد کنندہ ملک بن سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے دنیا میں پنیر کی کل برآمدات کا 65 فیصد حصہ صرف 15 ممالک کو جاتا ہے جن میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تو تعلقات ہمیشہ مثالی ہی رہے ہیں اور اب روس کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات بہتر ہوتے جارہے ہیں۔ ممکنہ طور یہ تعلقات منافع بخش بھی بن سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر پنیر، مکھن اور گھی کی تیاری شروع کرکے پاکستان نہ صرف ان 2 ممالک کی منڈی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ خلیج اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔

دنیا بھر میں دودھ سے بننے والی اشیا کی مانگ بڑھتی جارہی ہے۔ فی الحال اس شعبے میں بہت زیادہ ممالک موجود نہیں ہیں اور مستقبل میں پاکستان یہاں کے بڑے حصے پر اپنے قدم جما سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی فاسٹ فوڈ اور بین الاقوامی فوڈ چینز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سبب پنیر کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ بہتر معیار کی کم قیمت پنیر تیار کرکے ملکی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر امین کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ملک میں کئی پلانٹ پنیر تیار کررہے ہیں جن میں ایڈمز ملک فوڈز (ایڈمز)، فوجی فوڈز (نورپور)، سیفائر ڈیریز (روایت فارمز) اور اچھا فوڈز (اچھا) شامل ہیں۔ ان بڑی کمپنیوں کے علاوہ متعدد چھوٹی کمپنیاں بھی پنیر تیار کررہی ہیں۔

دنیا میں ہونے والے تجربات سے سیکھیں

ایک ڈیری فارمر بھینس کا دودھ دوہتے ہوئے— تصویر مرتضیٰ علی/وائٹ اسٹار
ایک ڈیری فارمر بھینس کا دودھ دوہتے ہوئے— تصویر مرتضیٰ علی/وائٹ اسٹار

پاکستانی حکومت دنیا بھر میں ڈیری کے شعبے میں اپنائی گئی پالیسیوں سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ’دی ڈیری ٹومارو اسٹریٹجی‘ کے نام سے ایک پروگرام موجود ہے جس میں خاص طور پر ڈیری کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور دستیاب مواقع پر کام کیا جاتا ہے۔ ان میں مویشیوں کی صحت، ماحول کو سازگار رکھنا اور لوگوں کے طرزِ زندگی میں بہتری لانا شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ حکمتِ عملی ڈیری کے شعبے سے وابستہ افراد کی رائے کی روشنی میں ترتیب دی ہے اور پورے عمل میں ڈیری فارمرز کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کی کوئی کوشش سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔

وہاں افراد، جانوروں اور ماحول کے تحفظ کے لیے قوانین بھی بنے ہوئے ہیں اور ان کے نفاذ کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔

نیوزی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے جبکہ وہ ساڑھے 5 ارب ڈالر مالیت کا دودھ برآمد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انہیں ایک فائدہ کم آبادی کی وجہ سے حاصل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت نیوزی لینڈ میں انسانوں سے زیادہ دودھ دینے والی گائیں پائی جاتی ہیں۔

لیکن ضروری نہیں کہ کم آبادی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ امریکا ایک بڑی آبادی والا ملک ہے اور وہاں دودھ کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود امریکا ڈیری مصنوعات کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔

پاکستان کو ان ممالک کی پالیسیوں سے سیکھتے ہوئے نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہیے بلکہ ملک میں موجود سپلائی چین کے مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں دودھ کی سپلائی چین میں سنگین نقائص موجود ہیں۔

یہ بہت مایوس کن بات ہے کہ جس ملک میں بچے بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں وہاں پیدا ہونے والے سالانہ لاکھوں لیٹر دودھ کا بڑا حصہ یونہی ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر غذائی قلت کے مسئلے پر ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں انسانی وسائل کا معیار مزید گِر جائے گا اور ملک کے نوجوان جنہیں قوم کا ستون سمجھا جاتا ہے وہ قوم کے لیے بوجھ بن جائیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو زیادہ دودھ دینے والے مویشی درآمد کرنے چاہئیں۔ پیک شدہ دودھ بیچنے والی کئی کمپنیوں کے پاس درآمد شدہ مویشی ہیں جو مقامی مویشیوں کی نسبت زیادہ دودھ دیتے ہیں۔ لیکن بڑے پیمانے پر اس کے ثمرات سمیٹنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ بڑی تعداد میں ان مویشیوں کی درآمد میں آسانی پیدا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے پنیر بنانے کے پلانٹ اور اسٹوریج یونٹوں کی تیاری میں بھی مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیری اور کیٹل فارمنگ میں سخت قوانین نافذ کیے جانے چاہئیں۔

مثال کے طور پر کراچی میں تقریباً 12 مویشی کالونیاں ہیں۔ ڈیری فارم مالکان بچھڑوں کو پیدا ہوتے ہی بھینسوں سے الگ کردیتے ہیں اور انہیں ذبح ہونے کے لیے فروخت کردیتے ہیں۔ سندھ میں بچھڑوں کو ذبح کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حکومتِ سندھ اور حکومتِ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ ان مویشی کالونیوں کی حالت کو بہتر کریں اور کیٹل فارم مالکان کو مراعات اور تربیت فراہم کریں تاکہ یہ دودھ کا حصول بڑھانے کے لیے ہارمونز لگانے جیسے نقصاندہ طریقے کو چھوڑ سکیں۔

دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی

پاکستان کو ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ یہاں دیہات سے شہروں کی جانب بہت تیزی سے نقل مکانی ہورہی ہے۔ اندازہ یہ لگایا گیا ہے کہ اگلے 15 سے 20 سال میں ملک کی شہری آبادی اس کی دیہی آبادی سے زیادہ ہوجائے گی۔ اس نقل مکانی کو روکنے کے لیے حکومت کو دیہی افراد کو دیہات میں ہی ٹھہرنے پر قائل کرنا ہوگا۔ اس کام کو انجام دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دیہات میں صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اس ضمن میں ڈیری کے شعبے کو بہتر بنانا بھی ایک حل ثابت ہوسکتا ہے۔ مئی 2020ء میں ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس صنعت کے ذریعے ڈھائی لاکھ ڈیری فارمرز کو 120 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں۔ ان ڈیری فارمرز میں کئی خواتین بھی شامل تھیں۔ اس کے باوجود اس شعبے میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ مزید خاندان اور افراد اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اس نقل مکانی کو روکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ڈیری کے شعبے کا انحصار بڑی حد تک ان افراد پر ہے جن کے پاس 3 یا 4 بھینسیں ہیں۔ اگر یہ افراد غیر تسلی بخش معاشی و سماجی حالات کے باعث شہروں کا رخ کرتے ہیں تو ملک میں دودھ کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں تقریباً ہر گھر میں ہی پنیر، مکھن اور دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ دیہات میں جو خواتین مویشیوں کا دودھ دوہتی ہیں وہ ان اشیا کی تیاری میں ماہر ہوتی ہیں لیکن عموماً ان کی مہارت کا بھرپور استعمال نہیں کیا جاتا۔

آج دنیا بھر میں گھریلو صنعتوں کو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ چین نے لاکھوں افراد کو صرف ان گھریلو صنعتوں کی وجہ سے ہی غربت سے نجات دلائی ہے۔ پاکستان نے بھی متعدد بار غربت کے خاتمے کے لیے چینی ماڈل کو اپنانے کی باتیں کی ہیں لیکن اب تک اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔

گھریلو صنعتیں لگانے جیسے اقدامات سے نہ صرف دیہی لوگ خود مختار ہوں گے بلکہ اس سے ملک کے شہروں سے بھی بوجھ کم ہوگا۔ ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ یہ صنعتیں پیداوار میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

ضائع ہوتے مواقع

دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بڑے ڈرم میں ڈالا جارہا ہے— تصویر فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار
دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بڑے ڈرم میں ڈالا جارہا ہے— تصویر فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار

عالمی بینک نے 'پاکستان ایٹ 100 سیریز کی اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پاکستان تجارت اور علاقائی یکجائیت کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کا Trade to GDP (یعنی تجارت کے مقابلے میں قومی پیداوار کا) تناسب اپنے پڑوسی ممالک کے برابر تھا لیکن پھر اس میں بہت زیادہ کمی آگئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک برآمدی تجارت کو ترقی کے دینے میں ناکام رہا۔

2005ء سے 2007ء تک بھارت کی اشیا اور خدمات کی برآمدات میں 216 فیصد اضافہ ہوا، اسی عرصے کے دوران بنگلہ دیش کی برآمدات میں 250 فیصد اور ویتنام کی برآمدات میں 519 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس پاکستان کی برآمدات میں صرف 50 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 19 ارب 10 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 28 ارب 70 کروڑ ڈالر تک ہی پہنچ سکی۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی سے بھی جنوبی ایشیائی کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ تجارت کئی طرح سے پیداوار میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ اس میں مقابلے کا رجحان، معلومات میں اضافہ، بہتر ٹیکنالوجی تک رسائی اور بہتر مشورے شامل ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹ کی صنعت اور بھارت میں گاڑیوں کی صنعت کامیابی کی کچھ بہترین مثالیں ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے تجارتی پالیسیوں کی کمی کے سبب علاقائی سیاست اور نقل و حمل کے مسائل کی وجہ سے پاکستان دستیاب مواقع کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

ایک اور بڑا مسئلہ عالمی منڈی کے رجحانات کو نہ سمجھنا بھی ہے۔

اس کی ایک مثال حلال فوڈ کی مارکیٹ ہے۔ 2019ء میں عالمی حلال فوڈ کی مارکیٹ کا کل حجم ایک کھرب 7 ارب ڈالر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مارکیٹ پر غیر مسلم ممالک کی اجارہ داری قائم ہے جن میں برازیل سرِفہرست ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کھانوں میں صرف حلال اجزا ہی شامل کیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم اس شعبے میں پیچھے ہیں۔ ہم عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہم وہاں اپنی موجودگی ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان کو اسی طرح ڈیری مصنوعات کی مارکیٹ پر اپنی گرفت قائم رکھنی ہوگی۔ کئی سالوں سے تجزیہ کار اور صحافی اس شعبے میں موجود مواقع کے بارے میں لکھ رہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا، اب اس صورتحال کو تبدیل ہونا چاہیے۔

صرف پچھتانے سے کچھ نہیں ہوگا

نہ صرف یہ کہ پاکستان میں ڈیری کے شعبے کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس ضمن میں مناسب پالیسی اور مدد کے فقدانن نے اس صنعت کو مشکلات کا شکار بھی کیے رکھا ہے۔ جیسے جیسے پیک شدہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے مقامی طلب میں بھی کمی آرہی ہے۔

ڈیری کے شعبے میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان کو بھی انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ, بنگلہ دیش، سری لنکا اور ترکی کی طرح عالمی منڈی میں قدم رکھنا ہوگا۔

حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ چین کے Huiyu گروپ نے نیسلے پاکستان کے ساتھ ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان سے ڈیری مصنوعات درآمد کی جائیں گی۔ یہ صحیح سمت کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے اور اس طرح کے اقدامات سے ہی ملک میں ڈیری کی صنعت کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔


خرم ضیاء خان مطالعے کا شوق رکھنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں 7 مارچ 2021ء کو شائع ہوا۔