سرپرستی ختم کرکے مجھے اپنی زندگی پر اختیار دیا جائے، برٹنی اسپیئرز

اپ ڈیٹ 24 جون 2021
برٹنی اسپیئرز کو 2008 سے اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
برٹنی اسپیئرز کو 2008 سے اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکی گلوکارہ، اداکارہ، ڈانسر و پروڈیوسر 39 سالہ برٹنی اسپیئرز نے امریکی عدالت میں 13 سال میں پہلی مرتبہ زبانی بیان دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی ’سرپرستی‘ کا نظام ختم کرکے انہیں ان کی زندگی پر اختیار دیا جائے۔

برٹنی اسپیئرز کے والد جیمی اسپیئرز 2008 سے اداکارہ کے (conservator) یعنی قانونی طور پر ’سرپرست‘ ہیں اور اداکارہ گزشتہ دو سال سے والد کی مذکورہ حیثیت ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔

برٹنی اسپیئرز کے والد کو امریکی عدالت نے 2008 میں اس وقت گلوکارہ کا ’سرپرست‘ مقرر کیا تھا جب کہ اداکارہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ اپنے فیصلے بھی کرنے کے اہل نہیں تھیں۔

گزشتہ 13 سال سے والد ہی اداکارہ کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں اور برٹنی اسپیئرز والد کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتیں، یہاں تک کہ وہ کسی شو میں پرفارمنس یا کسی مرد سے تعلقات بھی اپنے والد کی مرضی سے استوار کرنے کی پابند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برٹنی اسپیئرز والد کی سرپرستی ختم کرانے تیسری بار عدالت پہنچ گئیں

برٹنی اسپیئرز مذکورہ ’سرپرستی‘ کے نظام کو گزشتہ برس سے ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں اور انہیں تیسری مرتبہ رواں برس مارچ میں لاس اینجلس کی عدالت میں مذکورہ نظام ختم کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی۔

برٹنی اسپیئرز کی پہلی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کچھ عرصے کے لیے ان کے والد اور ایک فرم کو ان کا ’سرپرست‘ مقرر کیا گیا تھا مگر گلوکارہ نے پھر سے مذکورہ نظام کو ختم کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔

اداکارہ دو سال سے والد کی سرپرستی ختم کرانے کی کوششوں میں ہیں—فائل فوٹو: اے پی
اداکارہ دو سال سے والد کی سرپرستی ختم کرانے کی کوششوں میں ہیں—فائل فوٹو: اے پی

ان کی درخواست پر اپریل میں سماعت ہونی تھی مگر بعض وجوہات پر کیس کی سماعت نہ ہوسکی اور 23 جون کو ہونے والی سماعت میں پہلی بار برٹنی اسپیئرز نے ’سرپرستی‘ کے کیس میں بیان ریکارڈ کروایا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق برٹنی اسپیئرز نے 2008 میں اپنی ’سرپرستی‘ والد کو سپرد کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ 23 جون کو فون کے ذریعے 20 منٹ تک عدالت میں بیان دیا۔

مذکورہ کیس میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بھی بیان کو سرعام ریکارڈ کیا گیا اور اسے کمرہ عدالت میں موجود لوگوں سمیت عدالت کے باہر کھڑے برٹنی اسپیئرز کے مداحوں نے بھی سنا۔

اس سے قبل مذکورہ کیس کی سماعتیں میں ہونے والی کارروائیوں اور بیانات کو خفیہ رکھا جاتا تھا۔

اپنے 20 منٹ کے بیان میں برٹنی اسپیئرز جذباتی دکھائی دیں اور انہوں نے کئی انکشافات بھی کیے۔

گلوکارہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ’سرپرستی‘ کا نظام ایک طرح سے انہیں غلامانہ زندگی پر مجبور کر رہا ہے، اس لیے مذکورہ سسٹم کو ختم کرکے انہیں ان کی زندگی پر اختیار دیا جائے۔

گلوکارہ نے والد کے رویے پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ ان کے حقیقی والد انہیں تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں اور ان کی تضحیک ان کے والد کو پرسکون رکھتی ہے۔

جیمز اسپیئر گلوکارہ کے 2008 سے سرپرست ہیں—فائل فوٹو: اے پی
جیمز اسپیئر گلوکارہ کے 2008 سے سرپرست ہیں—فائل فوٹو: اے پی

برٹنی اسپیئرز کے مطابق دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں اپنی زندگی کا اختیار ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو سکون کی نیند لے سکتی ہیں، نہ کھل کر ہنس سکتی ہیں اور نہ وہ خوشی کی زندگی گزارنے کا سوچ سکتی ہیں۔

ان کے مطابق ’سرپرستی‘ کے نظام میں وہ غلام بن کر زندگی گزار رہی ہیں، انہیں ان کی زندگی پر کوئی اختیار نہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ انہیں ان کی زندگی واپس دی جائے، انہیں اپنی مرضی سے جیون گزارنے دیا جائے۔

اداکارہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ’سرپرستی‘ کا نظام نہ ہوتا تو وہ اپنے بوائے فرینڈ ایرانی نژاد امریکی فٹنیس ٹرینر سام اصغری سے شادی کر چکی ہوتیں۔

مزید پڑھیں: برٹنی اسپیئرز کے والد مزید کچھ مدت کیلئے ان کے سرپرست مقرر

برٹنی اسپیئرز کے مطابق ان کی ’سرپرستی‘ کرنے والے انہیں دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت تک نہیں دے رہے، اگر وہ آزاد ہوتیں تو اب تک ان کے ہاں دوسرا بچہ بھی ہوتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2008 سے لے کر اب تک مذکورہ کیس میں ان کے بیانات کو بھی ممکنہ طور پر تبدیل کیا گیا جب کہ حتیٰ الامکان کوشش کی گئی کہ وہ درست نہ ہوسکیں اور انہیں ذہنی مریض کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

برٹنی اسپیئرز کے مطابق انہیں سکون کرنے کے نام پر بھاری مقدار کی نشہ آور ادویات بھی دی جاتی رہیں، جس سے وہ ہمیشہ غنودگی میں رہتیں اور ایسا لگتا جیسے انہوں نے شراب نوشی کر رکھی ہے۔

23 جون کو ہونے والی سماعت کے دوران گلوکارہ نے فون پر بیان ریکارڈ کروایا—فوٹو: رائٹرز
23 جون کو ہونے والی سماعت کے دوران گلوکارہ نے فون پر بیان ریکارڈ کروایا—فوٹو: رائٹرز

اسی حوالے سے ’رائٹرز‘ نے بتایا کہ مذکورہ سماعت کے وقت عدالت کے باہر برٹنی اسپیئرز کے مداح بھی موجود تھے، جنہوں نے ’سرپرستی‘ کا نظام ختم کرکے گلوکارہ کو آزاد کرنے کے نعرے بھی لگائے۔

سماعت کے دوران برٹنی اسپیئرز کے والد جیمز اسپیئرز کے وکیل نے ان کا بیان بھی پڑھ کر سنایا، جس میں انہوں نے بیٹی سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا تھا۔

گلوکارہ کے والد نے بیان میں کہا کہ وہ بیٹی کی صحت اور زندگی سے متعلق پریشان ہیں، وہ دعاگو ہیں کہ ان کی بیٹی جلد ٹھیک ہوجائے۔

عدالت نے کوئی بھی فیصلہ سنائے بغیر کیس کی سماعت ملتوی کردی لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ برٹنی اسپیئرز کی جانب سے پہلی مرتبہ مذکورہ کیس میں کھل کر بات کیے جانے کے بعد ممکنہ طور پر ان کی ’سرپرستی‘ کا نظام ختم کردیا جائے گا۔

برٹنی اسپیئرز نے اپنے بیان میں بوائے فرینڈ سام اصغری کا ذکر بھی کیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
برٹنی اسپیئرز نے اپنے بیان میں بوائے فرینڈ سام اصغری کا ذکر بھی کیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

تبصرے (0) بند ہیں