پاکستان اور بھارت کے یادگار مقابلوں کا احوال

پاکستان کی دبئی میں اس تاریخی فتح کی خوشی دوبالا کرنے کے لیے تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر چند سنہری یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2021 10:19am

متحدہ عرب امارات میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ تاہم پاکستان نے ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے ہی میچ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے کیونکہ یہ کسی بھی عالمی کپ کے میچ میں پاکستان کی بھارت کے خلاف پہلی کامیابی تھی۔

اس میچ سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی20 اور ایک روزہ کرکٹ کے 12 ورلڈ کپ میچ کھیلے گئے تھے جو تمام ہی بھارت نے جیتے تھے۔

پاکستان کی دبئی کے میدان پر اس تاریخی فتح کی خوشی دوبالا کرنے کے لیے تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر چند سنہری یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔

لکھنؤ کی تاریخی فتح

پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے بعد 1952ء میں اپنا پہلا دورہ بھارت کا کیا تھا۔ اس سیریز کا اوّلین ٹیسٹ بھارت نے جیت لیا تھا اور سیریز کا دوسرا میچ لکھنؤ کے میدان میں کھیلا گیا۔

23 سے 26 اکتوبر کے درمیان کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں بھارت کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی لیکن matting والی اس پچ پر بھارت کی ٹیم فضل محمود کی شاندار گیندبازی کے باعث صرف 106 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

بھارت کی پہلی اننگ کے جواب میں پاکستان نے نذر محمد کے شاندار 124 رنز کی بدولت 331 رنز بنائے۔

26 اکتوبر 1952ء میں لکھنؤ کے میدان میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کی ایک جھلک—بشکریہ ٹوئٹر آئی سی سی
26 اکتوبر 1952ء میں لکھنؤ کے میدان میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کی ایک جھلک—بشکریہ ٹوئٹر آئی سی سی

اس پاکستانی اننگ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ وکٹ کیپر ذوالفقار احمد کی 34 رنز پر مشتمل اننگ میں ایک چھکا بھی شامل تھا۔ خاص بات اس لیے تھی کہ اس زمانے میں کتابی کرکٹ کو ترجیح دی جاتی تھی اور گیند کو ہوا میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی اس لیے 6 رنز کے لیے گیند کو باؤنڈری لائن کے باہر پھینکنا نایاب ہوتا تھا۔

خیر، ایک بڑے خسارے میں جانے کے بعد بھارت نے دوسری اننگ شروع کی تو ایک مرتبہ پھر ان کے بلے باز فضل محمود کی کاری ضربوں کا شکار ہوئے اور یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے چلے گئے۔

فضل محمود—ڈان
فضل محمود—ڈان

فضل محمود نے صرف 42 رنز دے کر مخالف ٹیم کے 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور تنِ تنہا بھارت کی باری کو 182 رنز پر سمیٹ کر پاکستان کو ایک اننگ اور 43 رنز سے کامیابی دلوا دی۔

اپنا محض دوسرا ٹیسٹ میچ جیت کر پاکستانی ٹیم آسٹریلیا اور انگلینڈ کے بعد تیسری ٹیم بن گئی جس نے اپنی پہلی ہی ٹیسٹ سیریز میں کوئی میچ جیتا ہو۔

یہ سیریز تو بھارت کے نام رہی لیکن لکھنؤ کی اس فتح نے یہ پیغام دے دیا کہ پاکستانی ٹیم اپنے ابتدائی سالوں میں مخالفین کے لیے ترنوالہ ثابت نہیں ہوگی اور آنے والے وقت نے اس بات کو حقیقت کا روپ دھارتے بھی دیکھ لیا۔

شارجہ کا تاریخ ساز چھکا

18 اپریل 1986ء کو شارجہ کے مقام پر بھارت اور پاکستان کے مابین کھیلے گئے میچ کے آخری لمحات میں جو کچھ ہوا وہ ناقابلِ یقین ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابلِ فراموش بھی ہے۔ اس روز میدان کے اندر اور باہر بیٹھے کرکٹ کے جن مداحوں نے بھی اس میچ کی آخری گیند دیکھی ہوگی تو میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ لمحہ آج بھی ان کی یادوں میں روزِ اول کی طرح موجود ہوگا۔

اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو بلے بازی کی دعوت دی۔ بھارت کی ٹیم نے سنیل گواسکر کے 92 رنز کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں 245 رنز بنائے۔

ہدف کے تعاقب میں ایک طرف سے پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گر رہی تھیں تو دوسری طرف جاوید میانداد ایک آہنی دیوار کی طرح بھارت کی فتح کی راہ میں حائل تھے۔ اس میچ کے آخری 13 اوورز میں پاکستان کو 10 رنز کی اوسط سے رنز اسکور کرنے تھے۔

جس وقت میچ کا آخری اوور شروع ہوا تو پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 11 رنز درکار تھے۔ اس اوور کی پہلی گیند پر ایک رن بنا جبکہ دوسری گیند پر 4 رنز کا اضافہ ہوا۔ تیسری گیند کو جاوید میانداد نے مہارت سے باؤنڈری کی جانب نکالنے کی کوشش کی لیکن راجر بنی نے کمال کی فیلڈنگ کرتے ہوئے اس یقینی چوکے کو بچا لیا اور بلے باز صرف ایک رن ہی حاصل کرسکے۔

اب پاکستان کو 3 گیندوں پر 5 رنز درکار تھے۔ اوور کی چوتھی گیند پر وکٹ کیپر ذوالقرنین نے باؤنڈری لگانے کی کوشش کی لیکن وہ کلین بولڈ ہوگئے۔ پاکستان کے گیارہویں کھلاڑی توصیف احمد نے اوور کی 5ویں گیند پر ایک رن لے کر اسٹرائیک جاوید میانداد کو دے دی۔

اب میچ کی آخری گیند پر پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 4 رنز درکار تھے۔ چیتن شرما نے آخری گیند کروانے کے لیے دوڑنا شروع کیا تو شارجہ کا میدان ایک لمحے کے لیے پن ڈراپ سائلنس کا منظر پیش کر رہا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے فضا فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی کیونکہ جاوید میانداد نے اس آخری گیند کو 6 رنز کے لیے میدان سے باہر پھینک کر پاکستان کو ایک تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کروادیا تھا۔

اس فتح کے بعد ایک طویل عرصے تک بھارت کی ٹیم پر پاکستان کا سحر طاری رہا۔ بھارت پر پاکستان کی برتری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میچ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کھیلے گئے اگلے 15 میچوں میں سے 12 پاکستان نے جیتے جبکہ بھارت کی ٹیم صرف ایک میچ ہی جیت سکی۔

آج کل تو لوگ کسی اہم موقعے پر طنز و مزاح کے لیے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر میمز بنا کر رکھتے ہیں، لیکن اس زمانے میں گانوں کی پیروڈی تیار کی جاتی تھی۔ پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نور جہاں کے گیت پر میچ کی آخری گیند کے احوال پر بنائی گئی بشریٰ انصاری کی پیروڈی کو بھی لوگوں نے مدتوں یاد رکھا۔

بنگلور ٹیسٹ کی تاریخی فتح

13سے 17 مارچ 1987ء کے دوران کھیلے گئے سیریز کے 5ویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور پوری ٹیم صرف 116رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں پُراعتماد آغاز کیا لیکن پاکستان کے گیند باز ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے اور ان کو کامیابی بھی ملی کیونکہ وہ بھارت کی ٹیم کو 145رنز تک محدود کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان نے اپنی دوسری باری میں بہتر کارکردگی پیش کی اور 249 رنز بنائے یوں بھارت کو میچ اور سیریز جیتنے کے لیے 221 رنز درکار تھے۔ پاکستان کے باؤلرز اور فیلڈرز نے بھارت کے بلے بازوں کے ساتھ ساتھ ان کے امپائروں کا بھی خوب مقابلہ کیا اور بھارت کی دوسری اننگ کو 204 رنز پر سمیٹ کر پاکستان کو بھارت میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں کامیابی دلوادی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بھارت کے خلاف اسی کی سرزمین پر دوسری فتح حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو 34 سال سے زائد عرصہ انتظار کرنا پڑا جبکہ پاکستان کی اس تاریخ ساز فتح کے بعد بھارتی ٹیم نے اپنے میدانوں پر پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے کے لیے تقریباً 20 سال انتظار کیا۔

شاہد آفریدی کے فتح گر چھکے

مارچ 2014ء میں ڈھاکہ کے میدان پر کھیلے گئے ایشیا کپ کے اس اہم میچ میں قومی ٹیم نے متعدد مرتبہ اچھی پوزیشن میں آنے کے بعد مخالف ٹیم کو میچ میں واپس آنے کا موقع فراہم کیا اور اپنے لیے مسائل پیدا کیے۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی اور مقررہ اوورز میں ان کی اننگز 245 تک محدود کردی۔ ہدف کے تعاقب میں جب تک محمد حفیظ کریز پر تھے تب تک پاکستان کا پلڑا بھاری رہا لیکن حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔

شاہد آفریدی پاکستان کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ جس وقت روی چندر ایشون نے اننگ کے آخری اوور کا آغاز کیا تو پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 10 رنز درکار تھے اور شاہد آفریدی نے اس اوور کی تیسری اور چوتھی گیند پر 2 چھکے لگا کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کروا دیا۔

چیمپیئنز ٹرافی پاکستان آگئی

18 جون 2017ء کو اوول کے میدان میں جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں چیمپئنز ٹرافی کا فائنل کھیلنے میدان میں اتریں تب بھارت کو اس میچ کے لیے فیورٹ قرار دیا جارہا تھا۔ تاریخی اعتبار سے بھی بھارت نے گزشتہ 10 برسوں میں پاکستان کو متعدد مرتبہ شکست سے دوچار کیا ہوا تھا اور اس ٹورنامنٹ کے پول میچ میں بھی بھارت نے پاکستان کو باآسانی شکست دی تھی۔

مگر تاریخ ہمیشہ تاریخ کا حصہ ہوتی ہے اور میچ کا فیصلہ مقابلے والے دن کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس فائنل میں فخر زمان کی شاندار سنچری اور اظہر علی کی نصف سنچری کی بدولت پاکستان نے بھارت کو میچ اور ٹرافی جیتنے کے لیے 339 رنز کا ہدف دیا۔

بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کو دیکھتے ہوئے ایک دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی تھی لیکن محمد عامر جب گیند بازی کرنے آئے تو ان کے تیور کچھ اور ہی تھے۔

انہوں نے پہلے روہت شرما اور ویرات کوہلی کو پویلین کی راہ دکھائی اور پھر شیکھر دھون کو بھی چلتا کیا۔ بھارت کی وکٹیں گرتی رہیں اور پوری ٹیم 158رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ یوں پاکستان نے 180رنز سے میچ جیت کر پہلی مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی بھی جیت لی۔

یہ عالمی سطح کے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھارت کے خلاف پاکستان کی پہلی فتح بھی تھی۔ یہ فتح 32 سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد میلبرن کے مقام پر کھیلے گئے 'ورلڈ چیمپیئن شپ آف کرکٹ' کے فائنل میں بھارت کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے ایک حسین انتقام سے تعبیر کی جاسکتی ہے۔


خرم ضیاء خان مطالعے کا شوق رکھنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]