یہ گرفتاری کس طرح آریان خان کی زندگی کو تبدیل کرسکتی ہے؟

10 نومبر 2021
لکھاری نئی دہلی میں ڈان کے نمائندے ہیں۔
لکھاری نئی دہلی میں ڈان کے نمائندے ہیں۔

آریان خان کو منشیات سے متعلق چلنے والے مقدمے میں ضمانت ملنا ظاہر ہے ایک اچھی خبر ہے، اور بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ منشیات کے استعمال کا مقدمہ جان بوجھ کر بنایا گیا ہے۔

بھارتی فلم اسٹار شاہ رخ خان کے 23 سالہ بیٹے کو ممبئی کے قریب ایک کروز شپ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ 2 مزید دوست بھی گرفتار ہوئے اور ان پر بھی رَیو پارٹی میں شرکت کا الزام عائد ہے۔ آریان کے پاس سے منشیات برآمد نہیں ہوئی اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ انہوں نے منشیات استعمال کیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے استغاثہ کو نمٹنا ہوگا۔

ناقد کہتے ہیں کہ آریان کی گرفتاری دراصل دہلی حکومت کی جانب سے بھارتی فلم انڈسٹری میں ہندوتوا نظریات کی رہی سہی مخالفت ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ آریان کے تجربے کو لبرل سیکولر فلم سازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ اس کام کے لیے وہ منشیات اور مالیات سے متعلق سرکاری اداروں کا استعمال کرتے ہوئے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو حراساں کرتے ہیں۔

اس صورتحال کا موازنہ امریکا کے میک کارتھی دور سے کیا جارہا ہے جس میں میڈیا اور ہولی وڈ کو کمیونزم سے مبیّنہ تعلقات کے حوالے سے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تو کیا آریان بھی اپنی 26 روزہ قید کے تجربے کو ایک تشکیل پاتی پولیس اسٹیٹ کی صورت میں دیکھیں گے؟

پڑھیے: آریان خان کیس: تفتیش کاروں پر شاہ رخ خان سے 25 کروڑ روپے کی رشوت مانگنے کا الزام

کیا لبرل سیکولر والدین کے بیٹے کے لیے ہندوستان پر غالب آتی مذہبی فسطائیت کے خلاف کھڑے مزاحمت کاروں کے حوالے سے بات کرنے کا وقت آ نہیں گیا؟ یہ مزاحمت کار بھی وہ ہیں جن کی قیادت عام آدمی، کسان، مزدور، مقامی افراد، اساتذہ، اقلیتیں، خواتین کے گروہ، کچھ آزاد صحافی اور فلمی صنعت سے وابستہ کچھ افراد کر رہے ہیں۔

اگر آریان ایک محفوظ دائرے سے باہر نکلتے ہیں، اور انہیں ایسا کرنا چاہے، تو انہیں اپنے والد کو بھی تلقین کرنی چاہیے کہ وہ سیکولر بھارتی جمہوریت کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی غیر ضروری خاموشی کو ترک کریں۔ شاید وہ دونوں یہ دیکھ سکیں کہ جہاں بھارتی جمہوریت کے کچھ حصے مکمل اختیارات کے ساتھ کام کر رہے ہیں وہیں کچھ جگہوں پر ایسا کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ آریان کی درخواست ضمانت دو ذیلی عدالتوں سے منسوخ ہوچکی تھی اور پھر بمبئی ہائی کورٹ سے انہیں ضمانت ملی۔ یقیناً یہ ان کی والدہ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

نوجوان آریان کو اس بات کا بھی احساس ہوگا کہ انہیں کسی نہ کسی صورت میں جو انصاف حاصل ہوا ہے، دیگر لوگوں کے لیے اس کا حصول بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایک مخالف ریاست کے خلاف مقدمے کی شفاف پیروی تو دُور کی بات ہے بعض اوقات تو انہیں کسی وکیل کی خدمات تک حاصل نہیں ہوتیں۔

شاید ان کے خاندان کو آگرہ کے ان 3 کشمیری طلبہ سے کچھ دلچسپی ہو جنہیں گزشتہ ہفتے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کے بعد مبیّنہ طور پر پاکستانی جیت کا جشن منانے پر گرفتار کیا گیا۔ ان طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ کیا گیا ہے۔

جی ہاں ایک کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر بغاوت کا مقدمہ۔ اگر پاکستانی کھلاڑی بھارتی شائقین کے لیے اتنے ہی ناپسندیدہ ہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ پھر بھارتی اخبارات ہندوستانی کپتان کی جانب سے مخالف ٹیم کے بلے باز کو گلے لگانے کی تصویر کو کیوں سراہ رہے ہیں؟ خاص طور پر اس وقت جب مخالف ٹیم نے بھارت کے خلاف ایک بہترین فتح حاصل کی ہے۔

پڑھیے: ہندوتوا کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

رپورٹس کے مطابق آگرہ کے وکیلوں کی انجمن نے بھی عدالت میں ان طلبہ کا مقدمہ لڑنے سے انکار کردیا ہے (ماضی میں کشمیر میں مسلم وکیل بھی اقلیتوں کے ساتھ ایسا کرتے رہے ہیں)۔ بلآخر ایک برہمن ایڈووکیٹ ان طلبہ کے لیے میدان میں آیا۔

پھر ڈاکٹر کفیل خان نے ایسا کون سا کام کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا؟ انہوں نے دو ننھے بچوں کے لیے اس وقت آکسیجن کا ہی تو بندوبست کیا تھا جس وقت اس سرکاری اسپتال میں جہاں وہ کام کرتے تھے آکسیجن ختم ہورہی تھی۔

پھر ہمارے سامنے شہریت کا ایک فرقہ وارانہ قانون بھی ہے۔ تمام صحیح الدماغ افراد بشمول فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے بھی اس کی مخالفت کی۔ تاہم شاہ رخ خان اس حوالے سے خاموش رہے۔ آریان کو اس حوالے سے ضرور سوچ بچار کرنا چاہیے کہ خاموش رہنا درست ہے یا پھر روز بروز بڑھتی ہوئی پُرامن مزاحمت کا ساتھ دینا درست ہے۔

شاید آریان کی نظریں عمر خالد پر بھی پڑیں گی جو انہی کی طرح ایک سابق طالب علم ہیں۔ عمر خالد نے شہریت کے نئے قانون کے خلاف ایک پُرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ پولیس نے ان پر دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات شروع کروانے کا الزام لگایا۔ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ اگر آریان کو اپنے خلاف کیس میں کچھ غلط محسوس ہوتا ہے جو ہونا بھی چاہیے تو انہیں چاہیے کہ ان مضحکہ خیز اقدامات پر بھی غور کریں جن کا استعمال ایک جانبدار ریاست اپنے شہریوں کو قانون کے جال میں پھنسانے کے لیے کرتی ہے۔

دہلی پولیس نے گزشتہ سال 6 مارچ کو ایف آئی آر درج کی جس میں عمر خالد کی تقریر کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ یہ بات بھی فرد جرم میں سامنے آئی۔ فسادات کے دوران عمر خالد دہلی میں موجود ہی نہیں تھے۔ پولیس نے الزام عائد کیا کہ وہ منصوبہ بندی کے تحت فسادات کے دوران دہلی سے باہر تھے۔ سمجھ رہے ہو آریان!۔

پڑھیے: ’بندے مار دو، لیکن املاک نہ جلاؤ‘

اس مقدمے میں ایک اور عجیب سی بات ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ’عدالت میں دہلی پولیس نے تسلیم کیا کہ انہوں نے (دو چینلز) کی جانب سے نشر کی جانے والی نیوز ویڈیو پر انحصار کیا ہے۔ دہلی پولیس نے ٹی وی چینلز سے مکمل ویڈیو فراہم کرنے کی درخواست کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ٹی وی چینلز کے مطابق یہ ویڈیو بھارتی جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویا کی ٹوئٹ سے لی گئی ہے، ان کے پاس ویڈیو موجود نہیں ہے اور عمر خالد کی تقریر سننے کے لیے موقع پر ان کے صحافی موجود نہیں تھے‘۔

جب وہ ویڈیو چلائی گئی تو معلوم ہوا کہ عمر خالد تشدد کے خلاف بات کررہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’آپ ہمارے خلاف ہِنسا کریں گے۔۔۔ ہم جھنڈے پھرائیں گے۔۔۔ ہم ہنستے ہنستے جیل جائیں گے‘۔ آریان کے معاملے میں شاید اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا رہے۔

کیا آریان کو آنجہانی فادر اسٹین سوامی کی داستان میں بھی دلچسپی ہوگی؟ انہوں نے جیل میں ایک اسٹرا کی درخواست کی تھی کیونکہ وہ اتنے بیمار تھے کہ گلاس بھی صحیح سے پکڑ نہیں پاتے تھے۔ تاہم ان کی یہ درخواست رد کردی گئی۔ وہ 84 سالہ خدا کا بندہ جیل میں ہی کورونا کے ہاتھوں چل بسا۔

شاید آریان سُدھا بھردواج جیسے بے لوث دانشوروں سے متعارف ہونا چاہیں گے۔ 59 سالہ انسانی حقوق کی وکیل سُدھا بھردواج اگست 2018ء سے ہی پری ٹرائل ڈیٹینشن یا مقدمے سے پہلے ہی ہوجانے والی گرفتاری کا سامنا کررہی ہیں۔ انہیں اَن لا فُل ایکٹیویٹیز پری ونٹیشن ایکٹ کے تحت کالعدم ماؤسٹ تنظیموں کے ساتھ مبیّنہ رابطوں پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف موجود ثبوتوں کو بھی جعلی سمجھا جارہا ہے۔

یوں آریان جدوجہد اور انسانی رفاقت سے بھرپور ایک ایسی حقیقی زندگی کو دیکھیں گے جو انہیں اور جہاز پر موجود ان کے دو دوستوں منمن دھمیچا اور ارباز مرچنٹ کو اپنی جانب بلا رہی ہے۔


یہ مضمون 02 نومبر 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف