روس: کان میں گیس بھرنے کے باعث 50 سے زائد افراد ہلاک

26 نومبر 2021
سرکاری ٹی وی نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کا ماننا ہے کہ کان میں میتھین گیس کا دھماکا ہوا — فوٹو: رائٹرز
سرکاری ٹی وی نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کا ماننا ہے کہ کان میں میتھین گیس کا دھماکا ہوا — فوٹو: رائٹرز

روسی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سائبیرین کوئلے کی کان میں گیس لیک ہونے کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک افراد کی تعداد 52 ہوگئی۔

ہلاک افراد میں 6 ریسکیو ورکرز بھی شامل ہیں جنہیں درجنوں افراد کو نکالنے کے لیے کان میں بھیجا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق علاقائی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ لِسٹوازنیا کان کے ڈائریکٹر اور ان کے نائب سمیت تین افراد کو صنعتی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وینٹی لیشن شافٹ میں گیس بھر جانے کے باعث کان کن دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

سرکاری ٹی وی نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کا ماننا ہے کہ کان میں میتھین گیس کا دھماکا ہوا۔

حادثے کے نتیجے میں اب تک 11 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جاچکی ہے جبکہ چھ ریسکیو ورکرز سمیت 41 افراد لاپتہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 16 افراد ہلاک

کان میں گیس بھرنے سے درجنوں افراد کی حالت غیر بھی ہوگئی جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 4 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ موسکو سے تقریباً 3 ہزار 500 کلومیٹر پر موجود کوئلے کی پیداواری خطے کیمیروف کی کانوں میں سالوں سے جان لیوا حادثات پیش آرہے ہیں۔

لِسٹوازنیا کان، ایس ڈی ایس ہولڈنگ کا حصہ ہے جو نجی سائبیرین بزنس یونین کی ملکیت ہے، یونین کے مالک کا فوری طور پر حادثے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

وزارت ہنگامی صورتحال نے کہا کہ جس وقت وینٹی لیشن شافٹ کے ذریعے دھواں پھیلا اس وقت کان میں لگ بھگ 285 افراد موجود تھے، جن میں سے 239 باہر آنے میں کامیاب رہے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ان کی گورنر اور ایمرجنسی حکام سے بات ہوئی ہے جبکہ کریملن نے کہا کہ اس نے وزیر ہنگامی صورتحال کو مدد کے لیے خطے میں میں پہنچنے کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: روس: کوئلہ کی کان میں دھماکہ، چار کان کن ہلاک

کیمیروف کی حکومت نے حادثے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ 2007 میں اسی خطے میں سوویت یونین کے بعد کان کا سب سے بڑا حادثہ پیش آیا تھا اور اُلیانوسکایا کان میں دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2010 میں خطے کی راسپاسکایا کان میں دھماکوں سے 90 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں