• KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:55am
  • LHR: Fajr 3:38am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:35am Sunrise 5:13am
  • KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:55am
  • LHR: Fajr 3:38am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:35am Sunrise 5:13am

جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے مقدمے کا آغاز

شائع April 13, 2022
عدالت کے باہر جونی ڈیپ کے مداح بھی موجود تھے—فوٹو: اے پی
عدالت کے باہر جونی ڈیپ کے مداح بھی موجود تھے—فوٹو: اے پی

ہولی وڈ اداکار 58 سالہ جونی ڈیپ کی جانب سے سابق اہلیہ اداکارہ 35 سالہ امبر ہرڈ کے خلاف امریکی عدالت میں دائر کیے گئے 5 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کے ٹرائل کی سماعتیں شروع ہوگئیں، جس میں دونوں اداکار بھی پیش ہوئے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق جونی ڈیپ کی جانب سے دائر کردہ ہرجانے کے ٹرائل کی سماعت 7 جیوری ارکان نے کی جب کہ 4 متبادل ارکان بھی سماعت کے دوران موجود رہے۔

سماعت کے پہلے روز جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے وکلا نے ابتدائی ریمارکس دیے، جس کے بعد جونی ڈیپ کی جانب سے پہلی گواہ ان کی بڑی بہن پیش ہوئیں۔

کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران امبر ہرڈ اور جونی ڈیپ بھی موجود رہے اور ان کے فین بھی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: طویل تاخیر کے بعد جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کا مقدمہ امریکی عدالت میں شروع

دلائل کے دوران امبر ہرڈ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 2018 میں واشنگٹن پوسٹ میں جو مضمون لکھا تھا، اس میں جونی ڈیپ کا نام شامل نہیں تھا اور یہ کہ وہ مضمون اداکارہ نے گھریلو تشدد کے قوانین بنانے کی مشق کے لیے لکھا۔

وکلا نے دلائل دیے کہ امبر ہرڈ کی جانب سے گھریلو اور جنسی تشدد برداشت کیے جانے کا مضمون لکھے جانے سے جونی ڈیپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اداکارہ کے وکلا کے مطابق ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ جونی ڈیپ سابق اہلیہ امبر ہرڈ پر جنسی اور گھریلو تشدد کرتے رہے مگر عدالت کو ان کی خراب ازدواجی زندگی میں جانے کے بجائے کیس پر توجہ دینی چاہیے۔

جونی ڈیپ کے وکلا نے بتایا کہ امبر ہرڈ نے گھریلو اور جنسی تشدد کے اوپر مضمون لکھ کر اس میں تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان پر سابق شوہر ظلم کرتے رہے تھے، جس وجہ سے جونی ڈیپ کا کیریئر خطرے میں پڑا۔

جونی ڈیپ کی بہن نے بھی ٹرائل کے پہلے روز ہی گواہی دی اور کہا کہ ان کے بھائی شروع سے ہی جھگڑوں سے ڈرتے ہیں، ان کی جانب سے کسی اور پر تشدد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اے پی کے مطابق ممکنہ طور پر جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کا مذکورہ ٹرائل 6 ہفتوں تک جاری رہے گا اور کیس کا فیصلہ جولائی یا اگست تک ہونے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: جونی ڈیپ سابق اہلیہ کے خلاف ہرجانے کے ٹرائل میں تاخیر کے خواہاں

ٹرائل کے دوران دونوں کے علاوہ اداکار جیمز فرانکو اور ایلون مسک سمیت دیگر شخصیات کی جانب سے بیان حلفی بھی دیے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل مذکورہ کیس آخری سماعت 2020 کے اختتام پر ریاست ورجینیا کی کاؤنٹی فیئر فیکس کی عدالت میں ہوئی تھی۔

یہ کیس جونی ڈیپ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کا مقدمہ ہے، جس میں انہوں نے سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف 5 کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

مذکورہ مقدمہ جونی ڈیپ نے مارچ 2019 میں سابق اہلیہ امبر ہرڈ کی جانب سے اخبار میں مضمون لکھنے کے بعد دائر کیا تھا۔

جونی ڈیپ کی سابق اہلیہ نے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ میں خواتین پر گھریلو تشدد، انہیں گھریلو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے پر ایک مضمون لکھا تھا۔

امبر ہرڈ نے اپنے مضمون میں امریکی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین کو گھریلو تشدد، گھریلو جنسی ہراسانی اور استحصال سے بچانے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائیں۔

مضمون میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ کافی عرصے تک گھریلو جنسی استحصال، تشدد اور ہراسانی کا شکار رہیں اور معروف ہونے کے باوجود وہ اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ امبر ہیرڈ کے الزامات سے متعلق خاموشی توڑدی

اداکارہ نے اپنے مضمون میں سابق شوہر جونی ڈیپ کا نام استعمال نہیں کیا تھا تاہم ان کا اشارہ ان کی جانب ہی تھا۔

مضمون شائع ہونے کے بعد جونی ڈیپ پر تنقید بڑھ گئی تھی اور ان کا کیریئر بھی خطرے میں پڑگیا تھا، جس کے بعد انہوں نے مارچ 2019 میں امبر ہرڈ کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اور اب اسی کیس کی سماعت 10 سے 12 نومبر تک جاری رہے گی، جس میں دونوں فریقین کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امبر ہرڈ اور جونی ڈیپ کے درمیان 2011 میں تعلقات استوار ہوئے تھے اور دونوں نے فروری 2015 میں شادی کی تھی۔

شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے مئی 2016 میں جونی ڈیپ پر تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

کارٹون

کارٹون : 21 جولائی 2024
کارٹون : 20 جولائی 2024