Dawn News Television Logo
—فوٹو: ناسا

فیکٹ چیک: ’اگست تک موسم سرد رہنے کی خبر غلط ہے‘

غلط معلومات پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ نے لاکھوں لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔
شائع 13 جولائ 2022 07:21pm

اگر آپ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک رہتے ہیں اور بیک وقت آپ بہت سارے واٹس ایپ گروپس میں بھی ایڈ ہیں تو پچھلے ہفتے سے ایک پیغام آپ کو ضرور ملا ہوگا یا پھر آپ نے اس میسیج سے متعلق چہ مگوئیاں ضرور سنیں ہوں گی۔

جولائی کے آغاز سے ہی فیس بک پوسٹس اور ٹوئٹس سمیت دیگر سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ پیغامات میں یہ بات پھیلائی جا رہی ہے کہ 4 جولائی سے 22 اگست تک دنیا بھر کا موسم سرد ہوجائے گا اور اس دوران لوگ بیمار پڑ سکتے ہیں اور ان کے گلے بھی خراب ہوجائیں گے۔

غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ
غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غلط پوسٹ کے مطابق 22 اگست 2022 تک تک موسم گزشتہ سال کی نسبت سرد رہے گا، جسے ’ایفایلئن فنومنا‘ Aphelion phenomenon کہا جاتا ہے۔

غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کے مطابق لوگ 4 جولائی کے بعد Aphelion Phenomenon کے اثرات کو نہ صرف دیکھیں گے بلکہ تجربہ بھی کریں گے۔

پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس دوران لوگ سرد موسم کا تجربہ کریں گے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، جس کی وجہ سے انسانی جسم میں درد اور گلا بھر جاتا ہے جب کہ بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ
غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ

غلط معلومات پر مشتمل پوسٹ میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا کہ اس دوران وٹامنز اور دیگر صحت مند کھانے کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشسش کی جائے۔

پوسٹ میں غلط دعویٰ کیا گیا کہ عام طور پر سورج اور زمین کے درمیان فاصلہ 90,000,000 کلومیٹر ہوتا ہے لیکن اس Aphelion Phenomenon کے دوران دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھ کر 152,000,000 کلومیٹر ہو جائے گا، یعنی فاصلے میں 66 فیصد اضافہ ہوگا۔

غلطمعلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ
غلطمعلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ

غلط معلومات پر مبنی پوسٹس یا پیغامات ملنے کے بعد کئی لوگ پریشانی کا شکار بھی رہے اور اس پر یقین کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ پیغام کو اپنے عزیزوں اور رشتے داروں تک بھی بغیر سوچے سمجھے پھیلایا۔

لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ Aphelion phenomenon ایک اصطلاح ہے جسے سورج اور زمین کے درمیان فاصلے کی بات کرتے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔

غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ
غلط معلومات پر مبنی پوسٹ—اسکرین شاٹ

سائنسی ویب سائٹ ’اسپیس ڈاٹ کام‘ کے مطابق ’ایفایلئن فنومنا‘ Aphelion phenomenon کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب سورج زمین کے سے تھوڑا سا دور ہوجاتا ہے۔

اس سال 4 جولائی کو زمین سے 15 کروڑ 21 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا اور یہ دن صرف سال میں ایک بار ہی آیا اور یہ سلسلہ کچھ ہی لمحوں تک قائم رہا ، جس سے انسان اور اس دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

اسی طرح ایک اور اصطلاح ’پری ہیلئن‘ perihelion اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کہ سورچ زمین کے قریب ترین آجاتا ہے اور ایسا آئندہ سال تین اور 4 جنوری کے درمیان ہوگا۔

’پری ہیلئن‘perihelion کے وقت سورج زمین سے 14 کروڑ 95 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے اور اس وقت جولائی کے مقابلے سورج زمین کے تھوڑا قریب آجاتا ہے مگر مجموعی طور پر ’ایفایلئن فنومنا‘ Aphelion phenomenon اور ’پری ہیلئن‘perihelion کے درمیان فاصلے کا فرق بمشکل ڈیڑھ فیصد تک ہوتا ہے یہ 66 فیصد بلکل نہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں صورتوں کے درمیان کائنات کے نظام سمیت انسانی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس بات کا احساس انسانوں کو ہوتا ہے لیکن یہ ایک سائنسی عمل ہے جو کچھ لمحوں تک قائم رہتا ہے، جس کے بعد تمام معاملات اپنے معمول پر آجاتے ہیں۔

جولائی میں سورج کی دوری کو ایفایلن اور جنوری میں سورج کے قریب ہونے کو پری ہیلئن کہتے ہیں—فوٹو: ٹائم اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام
جولائی میں سورج کی دوری کو ایفایلن اور جنوری میں سورج کے قریب ہونے کو پری ہیلئن کہتے ہیں—فوٹو: ٹائم اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام