پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو اسد قیصر کے خلاف کارروائی سے روک دیا

12 اگست 2022
<p>سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر— فائل فوٹو: ڈان نیوز</p>

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر— فائل فوٹو: ڈان نیوز

پشاور ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف کارروائی سے روک دیا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے ایک عہدیدار نے کیس کی جاری تحقیقات میں ایف آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے پیشی کے نوٹس کو چیلنج کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے روک دیا اور پشاور میں پی ٹی آئی کے 2 بینک اکاؤنٹس کی انکوائری شروع کرنے کے خلاف ان کی درخواست پر ایف آئی اے کو مؤقف جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس شکیل احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے پندرہ رز میں مؤقف جمع کرنے کا حکم دیا اور اس میں وہ دستاویزات بھی شامل کرنے کا کہا جس میں ای سی پی کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وفاقی حکومت کو کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات: اسد قیصر کا ایف آئی اے انکوائری کےخلاف عدالت سے رجوع

پشاور ہائی کورٹ نے عدالت کے دفتر کو ہدایت کی کہ وہ اگست کے آخری ہفتے میں اسد قیصر کی جانب سے دائر درخواست کی دوبارہ سماعت مقرر کرے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ایف آئی اے کی جانب سے اسد قیصر کو جاری کردہ نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے، نوٹس میں بطور پارٹی کے صوبائی صدر ان کے زیر انتظام 2018 سے 2013 تک چلنے والے 2 بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے سلسلے انہیں پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

درخواست گزار نے عدالت سے عبوری ریلیف کی درخواست کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ وہ ان کے انکوائری کو معطل کرے اور ایف آئی اے کے متعلقہ حکام سمیت دیگر فریقین کو کیس کے نمٹانے تک اس کے خلاف ‘منفی’ احکامات جاری کرنے سے روکے۔

پشاور ہائی کورٹ بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور انکوائری افسر کی جانب سے بیانات جمع کرائیں۔

دوسری جانب، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق پارٹی مینجمنٹ سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد نعمان افضل پی ٹی آئی کے ان 4 عہدیداروں میں شامل تھے جنہیں پاکستان اور بیرون ملک سے فنڈز وصول کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جب کہ دیگر افراد میں ٹیلی فون آپریٹر طاہر اقبال، اکاؤنٹنٹ محمد ارشد اور آفس ہیلپر محمد رفیق شامل تھے۔

مزید پڑھیں: قاسم سوری ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کوئٹہ میں طلب

پی ٹی آئی کے منحرف رہنما اور ممنوعہ فنڈنگ کیس میں شکایت گزار اکبر ایس بابر کے مطابق چاروں ملازمین کے اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 11 لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے جو ان کے معلوم ذرائع آمدن سے باہر تھے۔

محمد نعمان افضل نے عدالت میں دائر درخواست میں استدلال کیا کہ ان کی جانب سے اکاؤنٹس کو کھولنے اور ان کی دیکھ بھال پر شکایت کنندہ کی طرف سے کبھی اعتراض نہیں کیا گیا، ان اکاؤنٹس کو کبھی بھی کسی رجسٹرڈ سیاسی جماعت کی فنڈنگ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ایسا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں لایا گیا۔

پی ٹی آئی عہدیدار نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایف آئی اے کو ان اکاؤنٹس سے متعلق کسی بھی پہلو سے انکوائری کرنے کی ہدایت نہیں دی۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملات خاص طور پر صرف ای سی پی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، ایف آئی اے کا ان معاملات سے تعلق نہیں ہے۔

محمد نعمان افضل کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ بغیر کسی قانونی وجہ کے ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ کال اپ نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

قاسم سوری پیش نہیں ہوئے

دوسری جانب قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری، سابق گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا اور پارٹی کے مقامی رہنما داؤد پانیزئی اور عبدالوہاب آغا ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات میں اپنے جوابات جمع کرانے کے لیے ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات: ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرلیا

ایف آئی اے کوئٹہ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری سمیت پارٹی کے 4 افراد کو ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے اپنے دفتر میں طلب کیا تھا۔

ایف آئی اے کوئٹہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ سال 2011 سے 2013 کے دوران پارٹی کے اکاؤنٹ سے 53 لاکھ روپے نکالے گئے اور 55 لاکھ روپے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے، جبکہ بینک اکاؤنٹ قاسم سوری سمیت پی ٹی آئی کے 4 رہنماؤں کے نام پر کھولا گیا تھا۔

ایف آئی اے بینکنگ سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد علی ابڑو نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما جنہیں آج ایف آئی اے کوئٹہ بینکنگ سرکل میں تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا، ان میں سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔

نہوں نے مزید کہا کہ چاروں رہنماؤں کو دوبارہ نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ایف آئی اے کی جانب سے مجھے نوٹس موصول ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل

انہوں نے کہا کہ 2011 سے 2013 تک بھیجی گئی رقم پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ میں آئی، یہ رقم پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے مختلف پارٹی اور دفتری امور کے لیے استعمال ہوئی۔

قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ یہ رقم میرے ذاتی اکاؤنٹ میں نہیں بھیجی گئی تھی۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹسز کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 4 رہنماؤں کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں تاہم کوئی بھی رہنما آج ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں