یونیسیف کا سیلاب سے متاثرہ بچوں میں غذائیت کی شدید قلت کا انتباہ

23 اکتوبر 2022
ااب تک صحت کے ماہرین کی جانب سے 22 ہزار سے زیادہ بچوں کی اسکریننگ کی گئی  —تصویر: آن لائن
ااب تک صحت کے ماہرین کی جانب سے 22 ہزار سے زیادہ بچوں کی اسکریننگ کی گئی —تصویر: آن لائن

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی صورتحال تشویشناک ہے ساتھ ہی 70 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ نو عمر لڑکیاں اور خواتین کو غذائیت سے بھرپور خدمات کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات میں داخل ہونے والے 5 سال سے کم عمر کے 9 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار پایا گیا اور 10 لاکھ سے زائد افراد پینے کے صاف پانی جبکہ 60 لاکھ سے زائد افراد کو صفائی کی خدمات ضرورت ہے۔

یونیسیف نے حکومت کی صحت کی فراہمی کی خدمات میں غذائیت کو ضم کرنے اور طویل المدتی میں غذائیت کے لیے حکومتی فنڈز میں اضافہ کرنے پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کی سطح میں کمی، متاثرین نے آبائی علاقوں کا رخ کرلیا

بیان میں کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات پر اس سال ستمبر سے اب تک صحت کے ماہرین کی جانب سے 22 ہزار سے زیادہ بچوں کی اسکریننگ کی گئی جس میں 2 ہزار 630 سے زیادہ یا 9 بچوں میں سے ایک سے زیادہ میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی۔

تازہ ترین نیشنل نیوٹریشن سروے کے پہلے سے موجود غذائی قلت کے پھیلاؤ پر مبنی تخمینے بتاتے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں تقریباً 16 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں اور انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

غذائیت کی کمی کی شکار حاملہ خواتین کو بھی کم وزن والے بچوں کو جنم دینے کا خطرہ ہوتا ہے جو خود بھی غذائیت کی قلت کا شکار ہیں۔

پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادیل نے کہا کہ ہم اس خطرے کی گھنٹی کو کافی زور سے نہیں بجا سکتے ہیں، ہمیں نیوٹریشن ایمرجنسی کا سامنا ہے جس سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

مزید پڑھیں: سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن

ان کا مزید کہنا تھا کہ فوری کارروائی کے بغیر ہم ایک تباہ کن نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں جو بچوں کی نشونما اور بقا کے لیے خطرہ ہے ہم اب تک عالمی برادری کے تعاون کے شکر گزار ہیں لیکن بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح 40 فیصد سے زائد مائیں خون کی کمی کا شکار ہیں، پاکستان بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچے اور خواتین، بشمول سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 70 لاکھ سے زیادہ بچے اور خواتین کو ضروری غذائی خدمات تک فوری رسائی کی ضرورت ہے۔

حکومت نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر یونیسیف نے شدید غذائی قلت اور دیگر قسم کی غذائی قلت کے کیسوں کی روک تھام، پتا لگانے اور علاج کے لیے 271 آؤٹ پیشنٹ علاج کے مراکز قائم کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کا ادارہ 84 سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 73 موبائل ہیلتھ ٹیموں کے ذریعے صحت، پانی، صفائی اور حفظان صحت اور تحفظ کی خدمات کے ذریعے غذائیت کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے بھی کام کر رہا ہے جو بچوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اہم ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں