• KHI: Fajr 4:27am Sunrise 5:53am
  • LHR: Fajr 3:35am Sunrise 5:10am
  • ISB: Fajr 3:31am Sunrise 5:10am
  • KHI: Fajr 4:27am Sunrise 5:53am
  • LHR: Fajr 3:35am Sunrise 5:10am
  • ISB: Fajr 3:31am Sunrise 5:10am

’میرے خلاف نہیں، نفرت اور امتیازی سلوک پر احتجاج کریں‘، بلاول بھٹو کا بھارتیوں کو مشورہ

شائع December 18, 2022
—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بلاول بھٹو کے نریندر مودی کے خلاف ریمارکس پر ملک گیر احتجاج کیا، جس پر پاکستان کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ بی جے پی میرے خلاف نہیں بلکہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور نفرت کے خلاف احتجاج کرے’۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق 15 دسمبر کو اقوام متحدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو گجرات کا قصائی قرار دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ بھارتی شہر گجرات میں سال 2002 کے دوران قتل کیے گئے 2 ہزار سے زائد مسلمانوں کے قاتل کو سزا دینے کے بجائے اسے وزیراعظم بنا دیا گیا۔

بلاول بھٹو نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے ریمارکس پر سخت ردعمل دیا تھاجب انہوں نے 14 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اپنی بریفنگ کے دوران الزام لگایا تھاکہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کی میزبانی کی اور پاکستان ہی دہشت گردی کا سب سے بڑا مرتکب ہے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سے جب صحافی نے ان کے خلاف بی جے پی کے احتجاج کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے تبصرے تاریخ پر مبنی تھے اور تاریخ مٹانا مشکل ہے، آپ اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق تاریخ تبدیل نہیں کرسکتے’۔

نیویارک میں پاکستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نے گجرات میں جو کردار ادا کیا، تاریخ اُس کی گواہ ہے، بی جے پی یا آر ایس ایس چاہے کتنا ہی سخت احتجاج کرلے، وہ تاریخ کو مٹا نہیں سکتی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے ’گجرات کے قصائی‘ کی اصطلاح خود نہیں بنائی بلکہ بھارتی شہریوں نے انہیں (مودی کو) یہ خطاب دیا تھا، لہٰذا آپ چاہے جتنا بھی احتجاج کریں، حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ’انہیں گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرنی چاہیے اور بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی مذمت کرنی چاہیے، کاش یہ لوگ میرے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے بھارت میں مسلمان شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور نفرت آمیز رویے کے خلاف بھی احتجاج کرتے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نفرت کو ختم کرنے کے بجائے بھارتی حکومت اپنے عوام کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا رہی ہے۔

بلاول بھٹو کے خلاف بھارت میں احتجاج

واضح رہے کہ 16 دسمبر کو بھارت کے شہر اتر پردیش میں بلاول بھٹو کے ریمارکس کے خلاف احتجاج ہوا تھا، اس کے علاوہ متھرا میں بھی بی جے پی کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو کا پتلا جلایا۔

اس کے علاوہ لکھنؤ میں بی جے پی کارکن اٹل چوک پر جمع ہوئے اور بلاول بھٹو کے خلاف نعرے لگائے۔

دہلی میں بی جے پی کارکنوں نے پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا، پونے میں مہاراشٹر پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر باونکولے کی قیادت میں تلک چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔

چندر شیکھر نے کہا کہ ’ہم اپنے وزیر اعظم کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان کو برداشت نہیں کریں گے، وزیر اعظم نریندر مودی ہندو مذہب کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان اسے نہیں دیکھ پا رہا، اسی لیے وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو کے خلاف ممبئی، کرناٹک، تلنگانہ، جموں اور بھوبھنیشور میں احتجاج کیا گیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 17 جولائی 2024
کارٹون : 16 جولائی 2024