• KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:03pm Maghrib 7:09pm
  • ISB: Asr 5:12pm Maghrib 7:20pm
  • KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:03pm Maghrib 7:09pm
  • ISB: Asr 5:12pm Maghrib 7:20pm

مالی سال کی پہلی ششماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 3 ارب 33 کروڑ ڈالر ہوگیا

شائع January 19, 2023
پورے مالی سال 2022 میں ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب 40 کروڑ تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
پورے مالی سال 2022 میں ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب 40 کروڑ تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں دسمبر میں ماہانہ تقریباً 59 فیصد اضافہ ہوا لیکن دسمبر 2021 کے مقابلے میں اس میں 78 فیصد کمی دیکھی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 60 فیصد کم ہو کر 3 ارب 66 کروڑ ڈالر رہ گیا جو مالی سال 2022 کی اسی مدت کے دوران 9 ارب 9 کروڑ ڈالر تھا۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نومبر کے 25 کروڑ 20 لاکھ کے مقابلے میں دسمبر میں 40 کروڑ ڈالر ہوگیا تھا جو کہ 58.7 فیصد کا اضافہ ہے، تاہم دسمبر 2021 کے مقابلے میں یہ 78 فیصد کم ہے۔

پورے مالی سال 2022 میں ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب 40 کروڑ تھا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بڑی کمی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈالر کا انتظام کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک ارب 23 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 4 ارب 30 کروڑ ڈالر کی نچلی سطح تک گر گئے جب کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید آؤٹ فلو متوقع ہے۔

گزشتہ روز گورنر اسٹیٹ بینک نے تاجر برادری کو آنے والے ہفتوں میں ڈالر کی آمد کی یقین دہانی کرائی، تاہم کاروباری برادری خاص طور پر درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے بارے میں سخت تحفظات کا شکار تھی اور انہوں نے درآمدی کنسائنمنٹس کو فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا جب کہ کارگوز کی ریلیز میں تاخیر کی وجہ سے لاگت دگنی ہوگئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 ارب 24 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 14 ارب 2 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔

درآمدات گزشہ 6 ماہ کے دوران 29 ارب 50 کروڑ ڈالر تک گر گئیں جو گزشتہ سال 36 ارب 9 کروڑ ڈالر تھیں، تاہم ملک کی درآمدات اب بھی برآمدات سے دگنی ہیں اور حکومت اس خلا اور فرق کو ترسیلات زر سے پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مالی سال 2022 میں 31 ارب ڈالر سے زائد رقم بھیجی لیکن رواں سال مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں کمی آنا شروع ہوگئی۔

اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ سروسز کی برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت میں 3 ارب 43 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں مالی سال کی پہلی ششماہی میں کچھ اضافے کے ساتھ 3 ارب 52 کروڑ ڈالر ہوگئیں، سروسز کی درآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت میں 5 ارب 57 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو کر 3 ارب 88 کروڑ ڈالر رہ گئی۔

تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

مالی سال 22 میں ملک کی مجموعی درآمدات 84 ارب 12 کروڑ ڈالر تھیں جب کہ برآمدات 39 ارب 42 کروڑ ڈالر تھیں، اس فرق کے باعث تجارتی خسارہ 44 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا، ملک اس فرق کو پورا کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے اسے 17 ارب 40 کروڑ ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 11 جولائی 2024
کارٹون : 10 جولائی 2024