• KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm
  • KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm

’4 سال کی عمرکے بچوں کو ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنےکے طریقے سکھانا لازمی ہے‘

شائع May 19, 2023
فوٹو: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن
فوٹو: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن

امریکا میں دل کی صحت کی آرگنازیشن اسکولز اور والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چھوٹے بچوں کو ایسی صلاحیت سے روشناس کروائیں کہ وہ ہنگامی صورتحال میں طبی امداد فراہم کرسکیں مثال کے طور پر طبی ہیلتھ لائن 911 کو کال کرنا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن، یورپی ریسیسیٹیشن کونسل اور ریسیسیٹیشن پر بین الاقوامی رابطہ کمیٹی نے جرنل سرکولیشن میں ایک مطالعہ شائع کیا۔

اس مطالعے میں بتایا یا کہ 4 سال سے کم عمر اسکول جانے والے بچے طبی ہنگامی صورت حال میں مدد کے لیے کس طرح کال کرسکتے ہیں اور 10 سے 12 سال کی عمر کے بچے کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (جسے عام زبان میں سی پی آر کہا جاتا ہے) کیسے انجام دے سکتے ہیں؟

کمیٹی کے رکن ڈاکٹر کومیلا ساسن کہتے ہیں کہ چھوٹے بچوں میں درست صلاحیت یا طاقت نہیں ہوتی کہ وہ سی پی آر انجام دے سکیں لیکن وہ اس بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرسکتے ہیں، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اگر کوئی اچانک بے ہوش ہو جائے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے۔

فوٹو:ویری ول ہیلتھ
فوٹو:ویری ول ہیلتھ

مثال کے طور پر 4 سال سے کم عمر بچے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ طبی ہیلتھ لائن 911 کیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ یا اس نمبر پر کیسے کال کی جائے؟

امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق تقریباً 70فیصد سے 90فیصد لوگ جنہیں دل کا دورہ پڑتا ہے وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ جو لوگ ان کے قریب ہوتے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ بنیادی ہنگامی طبی سہولت کیسے دی جائے؟

مطالعے میں کہا گیا کہ بچوں کو ہنگامی صورتحال میں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پہلے انہیں اس حوالے سے آگاہی دی جائے، ان میں شعور اجاگر کیا جائے’۔

مختلف طبی تنظیموں نے طویل عرصے سے چھوٹے بچوں کو یہ سکھانے کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ گھر ، اسکول یا دیگر جگہوں میں طبی ہنگامی صورتحال کے دوران کیا کرنا چاہیے۔

کارٹون

کارٹون : 22 جولائی 2024
کارٹون : 21 جولائی 2024