• KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:03pm Maghrib 7:09pm
  • ISB: Asr 5:12pm Maghrib 7:20pm
  • KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:03pm Maghrib 7:09pm
  • ISB: Asr 5:12pm Maghrib 7:20pm

روس سے سستے تیل کی درآمد سے مصنوعات کی قیمتیں فوری طور پر کم نہیں ہوں گی، مصدق ملک

شائع May 30, 2023 اپ ڈیٹ May 31, 2023
روسی تیل کے جہازعمان پہنچ چکے، سپلائی ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گی—فوٹو:ڈان نیوز
روسی تیل کے جہازعمان پہنچ چکے، سپلائی ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گی—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ روس سے سستے تیل کی درآمد کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں فوری کمی نہیں ہوگی تاہم ماسکو سے تیل کی سپلائی جاری رہنے کی صورت میں بتدریج کمی دیکھی جائے گی۔

پاکستان انرجی کانفرنس 2023 میں نشر کیے گئے ان کے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں وزیر مملکت مصدق ملک نے کہا کہ روس سے تیل کی درآمد اب صرف ایک وعدہ نہیں ہے، یہ صرف بات نہیں ہے بلکہ بحری جہاز عمان پہنچ چکے ہیں اور پاکستان کو سستے روسی تیل کی سپلائی ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تیل کے ایک جہاز کی درآمد سے ایندھن کی قیمت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن جب اس کی سپلائی مستقل ہو جائے گی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بتدریج کم ہو جائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کا ہدف ملک کی خام تیل کی ضروریات کا ایک تہائی پورا کرنے کے لیے روس سمیت دیگر ممالک اور ذرائع سے حاصل سستا تیل استعمال کرنا ہے۔

مصدق ملک کی جانب سے یہ بیان ملک میں مستقل اور سستی قیمت پر وافر مقدار میں توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے حکومتی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے دیا گیا۔

پاکستان جو کہ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، وہ توانائی کی مستقل قلت کا شکار نظر آتا ہے اور اپنے استعمال کے لیے 84 فیصد پیٹرولیم مصنوعات خلیجی عرب اتحادیوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے۔

سستے روسی تیل کی درآمد ان ذرائع میں سے ایک ہے جس پر پاکستان اپنا توانائی کا بحران کم کرنے کے لیے انحصار کر رہا ہے جب کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اس کے تیل کی برآمدات روکنے کی عالمی کوششیں بھی جاری ہیں۔

رواں ماہ کے شروع میں روسی برآمدات کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کرنے والےملک امریکا میں مصدق ملک نے تصدیق کی تھی کہ روسی تیل کے لیے پہلا آرڈر دے دیا گیا ہے اور یہ آرڈر ایک ماہ کے اندر پاکستان پہنچ جائے گا جس کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ مستقبل میں کتنی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنی ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان مزید روسی درآمدات برقرار رکھے گا انہوں نے جواب دیا تھا کہ اگر آج ہمیں توانائی کے سستے ذرائع مل گئے تو ہم وہاں جائیں گے۔

اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے آج اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ حکومت کا مقصد مستقل طریقے سے کم لاگت والی توانائی کی فراہمی یقینی بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں رسائی، پائیداری اور کم لاگت یہ ہمارے تین مقاصد ہیں۔

اپنے اس وژن کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کو بتایا کہ ہم ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے ذریعے ذمہ دارانہ طریقے سے توانائی تک رسائی چاہتے ہیں تاکہ ہمیں کسی پابندی کا سامنا نہ کرنا پڑے، ہم اس کا پتا لگانے کا ایک تخلیقی طریقہ تلاش کریں گے اور ہم ایران اور ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جنہوں نے اس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 11 جولائی 2024
کارٹون : 10 جولائی 2024