بھنڈی، ٹماٹر اور ایٹمی طاقت

03 ستمبر 2013

ای میل

فائل فوٹو --.
ڈی آئی خان جیل سے ڈھائی سو کے قریب خطرناک مجرموں کو نکال کے محفوظ مقام تک پہنچانا اگرچہ کوئی معمولی بات نہیں اور جو لوگ پہلے ہی اپنی پھانسی کے منتظر تھے اب ان کو خودکش حملہ آور بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا لیکن ایسی بھی کیا بدگمانی کہ ہم اس واقعے کو ریاست کی ناکامی یا ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے تعبیر کریں۔ -- رضا چنگیزی

میں اپنے دوستوں میں بےوقوف اور بڑ بولے کے نام سے مشہور ہوں۔ میرے بارے میں میرے سارے دوستوں کا متفقہ خیال یہی ہے کہ 'اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی' میں میرا کوئی ثانی نہیں۔

جب بھی میں کوئی سنجیدہ بات کہنے کی کوشش کرتا ہوں محفل ایک دم غیر سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ دوست ایک دوسرے کو کہنیاں مارنا شروع کرتے ہیں. ایسے وقت ہر دوست کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ گفتگو کا موضوع تبدیل ہو لہٰذا کوئی بھنڈی اور ٹماٹر کی قیمتوں پر بات کرنے لگ جاتا ہے تو کوئی عامر لیاقت حسین کے بارے میں گفتگو کرنے لگ جاتا ہے۔

ابھی پرسوں ہی کی بات ہے ایک محفل میں بہت سارے دوست جمع تھے۔ وہ سبھی اس بات پر متفق تھے کہ "مملکت خداداد" پاکستان کو خدا ہی چلا رہا ہے ورنہ حکومت اور ریاستی اداروں کی جو حالت ہے انہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسلام کا یہ قلعہ اور اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ان کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کے لئے بہت سارے دلائل تھے۔ ایک نے حال ہی میں ڈی آئی خان جیل توڑے جانے کا حوالہ دیا تو دوسرے نے کوئٹہ میں ہو نے والے واقعات کی مثال دی۔

کسی نے ہر روز کراچی میں ہونے والی قتل و غارت کا زکر کیا تو کسی نے خیبر پختو نخوا اور قبائلی علاقوں کے حالات کو بطور دلیل پیش کیا۔

نئی حکومت کی بات چھڑی تو وزیراعظم نواز شریف کے دورہ کوئٹہ کا بھی زکر آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کوئٹہ بیس بازاروں اور بیس راستوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھ کر دہشت گردوں کے خلاف منظم کاروئی کرنی چاہئے لیکن ایک دوست کے بقول و زیر اعظم کے اس بیان کو سیکیوریٹی اداروں کے بجائے دہشت گردوں نے زیادہ سنجیدگی سے لیا اور اس کے بعد کوئٹہ میں قتل و غارت کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا۔

ایک دوست نے تو حدہی کردی۔ اس نے پچھلے دنوں اسلام آباد میں ہونے والے ایک معمولی واقعے کو بنیاد بنا کر اتنی لمبی چھوڑی تقریر کر ڈالی کہ کچھ دیر کے لئے میرا بھی ایمان ڈگمگانے لگا۔ لیکن چونکہ میں ایک محب وطن شخص ہوں اس لئے مجھ سے رہا نہ گیا اور میں انہیں سمجھانے میدان میں کود پڑا۔

حالانکہ مجھے یقین تھا کہ پہلے کی طرح اب بھی وہ میری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے، لیکن میں اپنی کوشش کرنا چاہتا تھا. لہٰذا میں نے انہیں یاد دلایا کہ جب کچھ سال پہلے سوات پر طالبان کے قبضے کے بعد شرعی عدالتیں قائم کرکے عوام کو گھر کی دہلیز پر انصاف مہیا کرنے ک اشرعی سلسلہ شروع ہوا، پولیس تھانوں اور سرکاری عمارتوں پر سبز ہلالی پرچم کے بجائے امارات اسلامی کے جھنڈے لہرانے لگے، ٹریفک نظام کو اسلامی اصولوں پر چلانے کی خاطر ٹریفک سپاہی کے لئے داڑھی لازمی قرار دے دی گئی، حجام کو شیو بنانے اور غیر شرعی انداز میں بال تراشنے سے منع کردیا گیا، عورتوں کے بازار نکلنے پر پابندی لگائی گئی اور خلاف ورزی پر انہیں بیچ بازار کوڑے لگائے جانے لگے، سی ڈی کی دکانوں کو ان کے مالکان سمیت بموں سے اُڑانے کا سلسلہ شروع ہوا اور امارات اسلامی میں روزانہ کی بنیاد پر مخالفین کو ذبح کرنے کی رسم چل نکلی تو تب بھی کچھ لوگ ایسی ہی بدگمانی اور مایوسی کی باتیں کرنے لگے تھے۔

تب بھی بعض بدخواہوں کا یہی خیال تھا کہ ملک میں ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور یہ اللہ ہی ہے جو پاکستان کی حفاظت کررہا ہے۔

ان دنوں یہ جھوٹی افوا ہ بھی اڑائی گئی کہ طالبان اٹھکیلیاں کرتے ہوئے مرگلہ کی پہاڑیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں نے تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھالیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر آج طالبان مرگلہ تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے تو کل ان ایٹمی ہتھیاروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جن سے ہمارے دشمنوں کو کوئی ڈر ہو یا نہ ہو لیکن ان کی حفاظت کے غم میں وہ ہم سے زیادہ ہلکان  رہتے ہیں۔

یہی وہ وقت تھا جب ہماری حکومت اور اداروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ "بس بہت ہوچکا"! تبھی گمراہوں کو راہ راست پر لانے کے لئے ہماری فوج نے آپریشن کا آغاز کیا اور کچھ ہی مہینوں میں سوات کو آزاد کراکے دوبارہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شامل کرادیا۔

میں ذاتی طور پر ایمان رکھتا ہوں کہ پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے اب بھی اتنے کمزور نہیں کہ وہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہ کر سکیں۔

جب پاکستان اپنے مقابلے میں آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کئی گنا بڑے اور فوج کی دوگنی تعداد کے حامل انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے تو کچھ ہزار دہشت گردوں کو سنبھالنا اس ایٹمی طاقت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔

اگر بلوچستان کے ایک بزرگ نواب کو کسی گمنام پہاڑی غار میں با آسانی نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو نظروں  کے سامنے رہنے والے دہشت گردوں کو سبق سکھانا کون سا مشکل کام ہے؟

مجھے اس بات پر مکمل یقین ہے کہ اگر پیشگی اطلاع ہونے کے باوجود ڈی آئی خا ن جیل کو توڑنے سے بچانے کی کوشش نہیں کی گئی اور کوئٹہ میں بھی دہشت گردوں کی کھلم کھلا دھمکی کو نظر انداز کردیا گیا جس کے نتیجے میں اعلیٰ افسران سمیت چالیس پولیس اہلکار قربان ہوگئے تو اس کے پیچھے یقیناَ کوئی قومی مفاد پوشیدہ ہوگا یا پھر اس میں اللہ تعالٰی کی کوئی خاص مصلحت ہوگی تبھی تو ان واقعات کو روکا نہیں جاسکا۔

ڈی آئی خان جیل سے ڈھائی سو کے قریب خطرناک مجرموں کو نکال کے محفوظ مقام تک پہنچانا اگرچہ کوئی معمولی بات نہیں اور جو لوگ پہلے ہی اپنی پھانسی کے منتظر تھے اب ان کو خودکش حملہ آور بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا لیکن ایسی بھی کیا بدگمانی کہ ہم اس واقعے کو ریاست کی ناکامی یا ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے تعبیر کریں۔

ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ ہندوستان سمیت کتنے ایسے ممالک ہیں جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ دیگر محب وطن لوگوں کی طرح حکومت اور بعض سیاسی پارٹیوں کی اس بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیں کہ بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرنے والے مسلمان ہرگز نہیں ہو سکتے بلکہ یقیناَ یہ اسرائیل یا کسی دوسرے اسلام دشمن ملک کے باشندے ہونگے جو پاکستان کی تیز رفتار ترقی، خوشحالی اور مثالی امن و امان سے جلتے ہیں۔ یا کم از کم ہمیں عمران خان اور منور حسن کی ان باتوں پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے جن کے مطابق عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر بم دھماکے دراصل ڈرون حملوں کا رد عمل ہیں۔

ہمیں تو ان خود کش حملہ آوروں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو اپنی قیمتی جانیں قربان کرکے امریکہ سے ڈرون حملوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔ صرف وہی  تو ہیں جو امریکہ کو دندان شکن جواب دے سکتے ہیں۔

ان کے اس جہاد سے اگر کچھ ہزار عام پاکستانیوں کی جانیں چلی بھی جاتی ہیں تو اس سے اٹھارہ کروڑ آبادی والے ملک کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ ہمارے محافظ جب بھی چاہیں گے پھونک مار کر سب کچھ ٹھیک کرلیں گے ہمیں بس اس وقت تک  انتظار کرنا ہوگا جب تک وہ ایک بار پھر یہ نہیں کہہ اٹھتے کہ "بس بہت ہو چکا"۔

میں بڑے جوشیلے انداز میں اپنی بات کئے جارہا تھا لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ سب ایک دوسرے کو کہنیاں مار کر میری طرف اشارے کیے جا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بھنڈی اور ٹماٹر کی قیمتوں پر تبصرے ہو رہے تھے۔