آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے پاکستان کے دفاع میں مسیحی برادری کے کردار کی تعریف

25 ستمبر 2023
آرمی چیف سے ڈاکٹر مارشل کی سربراہی میں 13 رکنی وفد نے شرکت کی—فوٹو: آئی ایس پی آر
آرمی چیف سے ڈاکٹر مارشل کی سربراہی میں 13 رکنی وفد نے شرکت کی—فوٹو: آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے پاکستان کی قومی ترقی میں مسیحی برادری کی خدمات کی تعریف کی اور مادر وطن کے دفاع میں ان کے کردار کو سراہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر سے صدر بشپ چرچ آف پاکستان اور بشپ آف رائیونڈ ڈاکٹر آزاد مارشل نے مسیحی برادری کے 13 رکنی وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں مذہبی اور بین المذاہب ہم آہنگی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے قومی ترقی میں مسیحی برادری کی خدمات کی تعریف کی اور معیاری تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور انسان دوست خدمات کے فروغ اور مادر وطن کے دفاع کے لیے ان کے شان دار کردار کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے مسیحی برادری کے لیے گہرے احترام کا اظہار کیا اور متحدہ اور ترقی پسند پاکستان کے لیے قائد کے حقیقی وژن پر عمل کرنے کے لیے معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے، اسلام اور معاشرے میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مہذب معاشرے میں کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مسیحی برادری کے ارکان نے دہشت گردی سے نمٹنے اور ملک میں اقلیتوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پاک فوج کی کوششوں کا اعتراف کیا۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ وفد نے آرمی چیف کے اس اقدام کو پاکستانی اقلیتوں کے لیے ایک تحریک کے طور پر سراہا کہ وہ قوم کی تعمیر میں زیادہ سے زیادہ فعال حصہ لیں اور ایک مربوط معاشرے میں اپنا اعتماد بحال کریں۔

مسیحی برادری کے وفد کی آرمی چیف سے ملاقات پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں چرچز اور مسیحی برادری کے گھر جلانے کے واقعات کے بعد ہوئی جہاں اسسٹنٹ کمشنر کا دفتر بھی جلایا گیا تھا جبکہ ان واقعات پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

آرمی چیف نے جڑانوالہ واقعے کی مذمت کی تھی اور عدم برداشت اور انتہاپسندانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی تھی۔

بیان میں کہا تھا کہ عوام کو سچ، آدھا سچ، جھوٹ، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے درمیان فرق کرنے پر زور دیا تھا۔

دو روز قبل کراچی سے فیصل آباد کا دورہ کرنے والے انسانی حقوق کے دو کارکنوں کو پولیس نے مبینہ طور پر مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا اور ان پر تشدد کیا تھا جبکہ پولیس نے تردید کرتے ہوئے ان دونوں پر بدتمیزی کا الزام عائد کیا تھا۔

سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے ایکس (ٹوئٹر) پر یہ معاملہ سلسلہ وار ٹوئٹس کرکے اٹھایا تھا۔

انہوں نے پنجاب پولیس کے اس ایکشن کو ’انتہائی خطرناک اور قابل مذمت قرار‘ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے 2 نمایاں کارکن پادری غزالہ شفیق اور لیوک وکٹر ریورنڈ فادر ایلیزر سدھو کی مدد کے لیے فیصل آباد کا دورہ کر رہے تھے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں