عائشہ منزل آتشزدگی: اطلاع تاخیر سےموصول ہوئی، ہنگائی اخراج کا کوئی راستہ نہیں تھا، چیف فائر آفیسر

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2023
اشتیاق احمد نے کہا کہ وہاں سب ایسا سامان تھا جو تیزی سے آگ پکڑتا ہے—فوٹو: ڈان نیوز
اشتیاق احمد نے کہا کہ وہاں سب ایسا سامان تھا جو تیزی سے آگ پکڑتا ہے—فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں فرنیچر مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی کے حوالے سے چیف فائر آفیسر اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اطلاع تاخیر سےموصول ہوئی تھی، عمارت میں ہنگائی اخراج کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

اشتیاق احمد نے بتایا کہ آگ جب چوتھے فلور تک پہنچی تھی تب فائر بریگیڈ کو بلانے کی بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں میں آگاہی کی کمی ہے، لوگ فائر بریگیڈ کا نمبر نہیں جانتے، شروع کے 5 سے 10 منٹ کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں کوئی فائر فائٹنگ کا سامان اور ہنگائی اخراج کا کوئی راستہ نہیں تھا، وہاں سب ایسا سامان تھا جو تیزی سے آگ پکڑتا ہے، ہمیں 5 سے 7 منٹ ٹریفک جام میں پھنسنے کے باعث لگ گئے۔

اشتیاق احمد نے کہا کہ شہر میں بے ہنگم عمارتیں بنی ہوئی ہیں، اب ہمیں میئر کراچی نے اختیارات دیے ہیں، اب ہم کام شروع کررہے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدا میں 3 مقامات پر ٹارگٹ کرکے انسپکشن شروع کردی ہے، ایک بلڈنگ کی انسپکشن میں 3 سے 4 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری 3 مختلف ٹیمیں کام کررہی ہیں، پورے شہر کی انسپکشن کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

اشتیاق احمد نے یاددہانی کروائی کہ رواں برس ایک ہزار 670 چھوٹے بڑے آگ لگنے کے واقعات ہوچکے ہیں، آر جے مال میں کوئی فائر سیفٹی کا سسٹم موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پورے شہر میں 28 فائر اسٹیشنز کام کررہے ہیں، ایک لاکھ کی آبادی پر ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے۔

جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ عائشہ منزل میں گزشتہ روز فرنیچر مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی کے سبب جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

پولیس نے مزید بتایا کہ آتشزگی کے سبب جاں بحق ہونے والے پانچوں افراد کی عمریں 20 سال سے 40 سال کے درمیان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں عائشہ منزل پر واقع عرشی شاپنگ مال میں فرنیچر مارکیٹ کی ایک دکان میں آگ لگ گئی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بقیہ دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

آگ ابتدائی طور پر صرف دکانوں میں لگی تھی لیکن بعد میں آگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی اس نے عمارت میں اوپر بنے رہائشی فلیٹس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

واقعے میں ابتدائی طور پر 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں