عورت، عزت اور ووٹ

24 ستمبر 2013

ای میل

لاہور: خواتین ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ سٹیشن کے باہر موجود ہیں۔
لاہور: خواتین ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ سٹیشن کے باہر موجود ہیں۔

موقعہ واردات پر میڈیا سمیت سول سوسائٹی اور سارے سیاستدان موجود تھے اوران تمام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ ہوا - لیکن کسی میں قاتلوں کو روکنے کی ہمت نہیں تھی- یہ سب کچھ یوں ہی ہوتا ہے عورتوں کے خلاف جرائم کی صورت میں، خصوصاً جب یہ جرم عزت کے نام پر ہوتا ہے- سب سے زیادہ عمومی ردعمل یہ ہوتا ہے کہ؛ 

"یہ ان کا خاندانی معاملہ ہے اور ہمیں ان کے خاندانی معاملے میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے". لیکن کیونکہ عورتوں کے ووٹ کے قتل کا معاملہ ہر ایک کا " خاندانی معاملہ " ہے اس لئے اس موقع کو غنیمت جان کرہم اس پرروایت کی چادرڈال دیتے ہیں اورمذھب کی ایک مزید قبا پہنا دیتے ہیں -

عورتوں کا باہر نکلنا اور انفرادی سیاسی فیصلے کرنا پدری ( مردوں کی) روایات اوراقدارکی صریحاً اور شدید قسم کی خلاف ورزی ہے اور اس کی حفاظت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے - تو ظا ہر ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تمام امید واروں اور سیاسی پارٹیوں ، مذہبی ، آزادخیا ل اورسیکولرسب نے مل کر عورتوں کے انتخابات میں حصّہ لینے کے خلاف محاز بنالیا - اس قصہ کا حالیہ حصّہ ابھی ابھی مکمل ہوا ہے - اور اس کے خلاف لوگوں کا ردعمل اگرتقریروں کا مقابلہ نہیں توصرف نمبربنانے کا عمل ہے  -

خواتین ووٹروں پرپابندی ایک پرکشش خبرہے جو اچھی بات ہے لیکن پاکستان میں عورتوں کوسیاست سے علیحدہ کردینے کا عمل اس سے زیادہ معنی خیز ہے - مندرجہ ذیل حقیقتوں کو ملاحظہ کیجئے -

پہلی مثال : رائے دہندگان کی فہرست میں مرد-عورت کے تناسب میں 2002 سے کمی کا رجحان دیکھنے میں آرہاہے اور تمام صوبوں اورعلاقوں میں یہی صورت حال ہے -

اگران اعدادوشمارکا مقابلہ 1970میں ہونے والے عام انتخابات سے کیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ پنجاب میں جہاں رائے دہندگان کی نصف سے زیادہ تعداد بستی ہے عورتں کی رجسٹرد تعداد میں مردوں کے مقابلے میں 8 فی صد کی کمی آئی ہے -

1970

2002

2008

2013

خیبرپختونخوا

00۔61

5۔79

3۔68

00۔75

اسلام اباد

---

4۔88

7۔84

3۔85

فاٹا

---

5۔57

8۔41

2۔52

سندھ

1۔68

1۔84

9۔78

8۔80

پنجاب                    

5۔85

6۔88

7۔81

8۔77

بلوچستان

8۔69

9۔84

5۔84

2۔74

پورا پاکستان

6۔86

6۔85

5۔78

4۔74

دوسری مثال:  پنجاب کے مقابلے میں دیگرصوبوں میں نسبتاً بہتر رائے دہی کے تناسب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان صوبوں میں عورتوں کی سیاسی زندگی میں کوئی بہتری آئی ہے - اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 2002 میں جو فہرست تیار ہوئی اس کی بنیاد 1998کے مردم شماری کے فارم تھے ، نہ کہ گھرگھرجاکررضاکارانہ طور پررجسٹریشن کرنے کا عمل ، جبکہ 2013 میں شناختی کارڈ کے ڈیٹا بیس کے ذریعہ رائے دہندگان کی فہرستیں تیارکی گئیں -

اس سے بھی اہم بات تو یہ ہے کہ بہت سے شاطرسیاسی کھلاڑیوں کو حال حال ہی میں پتہ چل گیا ہے کہ اگرووٹرعورتوں کی تعداد زیادہ ہواور اس کے ساتھ ساتھ روایت کے مطابق کم تعداد میں عورتیں ووٹ ڈالنے جائیں تویہ ان کیلئے سونے کی کان کی طرح ہے- ان کو فقط یہ کرنا ہوگا کہ " متعلقہ افسران" سے انتخابی عمل میں دھاندلی کرنے کا لائسنس حاصل کرلیں - مبصرین کا مشاہدہ ہے کہ عورتوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی کرنا سب سے زیادہ آسان ہے اس لئے بہت سے لوگوں نے یہ کوشش کی کہ عورتوں کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوجبکہ عورتوں کے سیاسی حقوق کے پرجوش حامی اس بات کو بھول گئے کہ اس اضافہ کی حد کیا ہونی چاہئے - مثلًا بلوچستان میں کچھ (Kech) کے  علاقہ میں 2008 میں عورت ووٹروں کی تعداد 120 تھی اور مردوں کی تعداد 100 جبکہ عورتوں کی تعداد حقیقتاً 90 تھی - اس صوبے کے مزید نوعلاقوں میں عورتوں کے ووٹوں کی تعداد ان کی آبادی سے زیادہ تھی -

تیسری مثال: اوپر جو اعدادو شمار پیش کئے گئے ہیں ان کا تعلق محض ووٹروں کی فہرست سے ہے لیکن ان میں سے کتنوں نے اپنے حق کا استعمال کیا اس کا اندازہ ووٹرزکے اعدادوشمار سے ہوگا - افسوس کہ جنس کی بنیاد پرحق رائے دہی استعمال کرنے والوں کے اعدادو شمار دستیاب نہیں ہیں - ہرحلقہء انتخاب میں تین طرح کے پولنگ اسٹیشن ہوتے ہیں  عورت ، مرد اوردونوں کے مشترکہ - مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں کے پولنگ بوتھ مردوں اور عورتوں کے لئے علیحدہ ہوتے ہیں لہٰذا پولنگ کے ڈبے بھی علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں -

ووٹوں کا شمار کرنے کا عام طریقہ یہ ہے کہ پولنگ اسٹیشن کا سربراہ ووٹوں کی گنتی سے پہلے تمام ڈبوں کوایک جگہ الٹ دیتا ہے - چنانچہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر جنس کی بنیاد پرپڑنے والے ووٹوں کے اعدادوشمارحاصل نہیں کیے جاسکتے -

عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ اس کو ممکن بنایا جائے- چنانچہ، بالاخر 2011 میں اس پرعمل کیا گیا -

کمیشن نے پولنگ اسٹیشنوں کے نتیجہ مرتب کرنے والے فارموں میں ترمیم کی ہے لیکن عملہ یا تو ہدایات کو سمجھ نہیں سکا یا پھر وہ ریٹرننگ افسر جو خود کو صحیح سمجھتے تھے اس کو درد سر سمجھتے ہوئے نظرانداز کر دیا - چنانچہ ، ہمیں ابھی تک علم نہیں ہو سکا کہ کتنی عورتوں نے ووٹ ڈالے - اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ افسران اس مسئلہ کو کتنی اہمیت دیتے ہیں -

جنس پرمبنی ان اعدادوشمار کی غیر موجودگی کے باوجود صورت حال کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے جب 2008 میں پہلی بارکمیشن نے تمام پولنگ اسٹیشنوں کے علیحدہ علیحدہ نتائج فراہم کیے تھے - 2013 کے انتخابات سے متعلق اس قسم کے اعدادوشمارتاحال دستیاب نہیں ہیں -

2008 کے عام انتخابات میں عورتوں کے پانچ سو ساٹھ پولنگ اسٹیشن قائم   کئے گئے تھے لیکن ان میں ایک عورت بھی ووٹ ڈالنے نہیں گئی تھی - ان پولنگ اسٹیشنوں کی زیادہ تر تعداد خیبر پختونخوا میں تھی - دیگر علاقوں میں اگرچہ ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں گیا تھا لیکن ان کی افسوسناک حد تک کم تعداد نے ووٹ دئے تھے - مثال کے طور پر فیصل آباد کو لیجئے جہاں قومی اسمبلی کے گیارہ حلقوں میں پنجاب کی قابل لحاظ شہری اور دیہی آبادی شامل تھی - درج ذیل ٹیبل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ عورتوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر مردوں کے پولنگ اسٹیشنوں کے مقابلے میں پندرہ فی صد ووٹ کم پڑے تھے - انہیں اعدادوشمار پر ایک اور زاویے سے غور کیجئے - اگر مردوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر 100 مردوں نے ووٹ ڈالے تو اس کے مقابلے میں عورتوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر 57 عورتوں نے ووٹ ڈالے -

پولنگ اسٹیشن کی قسم

پولنگ اسٹیشن کی تعداد

ووٹرز کی تعداد

ووٹوں کی تعداد

فیصد

ملے جلے

664

644٫325

366٫515

9۔56

عورتوں کے

1٫101

1٫006٫365

416٫179

4۔41

مردوں کے

1٫159

727٫031

1٫275٫454

0۔57

ٹوٹل

2٫924

2٫926٫144

1٫509٫725

6۔51

عورتوں کو ووٹ دینے کے حق سے روکنا تواپنی قسم کا ایک فعل ہے لیکن یہ تو روائتی برف کے تودہ کا صرف سرا ہےاس فعل کے پیچھے جو عزائم چھپے ہوئے ہیں وہ اس ناگوارحقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ عورتوں کو سیاست کے دائرے سے کس طرح خارج کردیا گیا ہے -

پاکستان میں جمہوریت کو اب صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کے نظریوں سے آگے بڑھ کراپنی سونچ کے دائروں کوپھیلانا اورپچھڑے ہوئے طبقات کو شامل کرنا اوران کو متحرک کرناہوگا جس میں سب سے بڑاطبقہ عورتوں کا  ہے -  ورنہ  برف کا یہ تودہ  جمہوریت کے ٹایٔٹینک کو ڈبو سکتا ہے۔


ترجمہ:  سیدہ صالحہ