• KHI: Fajr 4:13am Sunrise 5:42am
  • LHR: Fajr 3:18am Sunrise 4:57am
  • ISB: Fajr 3:13am Sunrise 4:57am
  • KHI: Fajr 4:13am Sunrise 5:42am
  • LHR: Fajr 3:18am Sunrise 4:57am
  • ISB: Fajr 3:13am Sunrise 4:57am

پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل وفاقی وزرا کے نام ای سی ایل سے نکال دیے گئے

شائع April 22, 2024
عمران خان، ان کی اہلیہ بشری بی بی اور پارٹی کے درجنوں رہنماؤں کے نام [نو فلائی لسٹ][1] میں ڈالے گئے تھے—فائل فوٹو: فیس بک/عمران خان
عمران خان، ان کی اہلیہ بشری بی بی اور پارٹی کے درجنوں رہنماؤں کے نام [نو فلائی لسٹ][1] میں ڈالے گئے تھے—فائل فوٹو: فیس بک/عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں وفاقی کابینہ میں شامل ارکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ہٹادیےگئے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم، بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشری بی بی، سابق خاتون کی قریبی دوست فرح گوگی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما، سابق معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کے نام ای سی ایل پر برقرار رہیں گے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ موجودہ وفاقی کابینہ نے پی ٹی آئی کابینہ ارکان کےنام ای سی ایل سے نکالنےکی منظوری دی، وفاقی حکومت نےنیب کی سفارش پر نام ای سی ایل سےنکالنے کی منظوری دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا، اس کے علاوہ سابق وفاقی وزرا غلام سرورخان، مرادسعید، پرویز خٹک، شفقت محمود کے نام ای سی ایل سے نکال دیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی ایل سےنکالےجانے والوں میں اعجاز شاہ، علی زیدی، خسرو بختیار اوراعظم سواتی کےنام بھی شامل ہیں، اسد عمر، عمر ایوب، محبوب سلطان، اور فواد چوہدری کے نام بھی ای سی ایل سے نکال دیے گئے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ای سی ایل سےنکالے جانے والے ناموں میں فروخ نسیم، شیریں مزاری اور دیگر نام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں عمران خان، ان کی اہلیہ بشری بی بی اور پارٹی کے درجنوں رہنماؤں کے نام نو فلائی لسٹ میں ڈالے گئے تھے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ نام پرویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں شامل کیے گئے، جسے عام طور پر ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ یا ای سی ایل کہا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی اور صوبائی اداروں بشمول وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب) اور پولیس کی درخواست پر کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، سابق قانون سازوں اور کارکنان کے نام اس فہرست میں مبینہ طور پر 9 مئی کے فسادات (جو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہوئے) اور کرپشن کے مختلف کیسز کی وجہ سے ڈالے گئے۔

وزارت داخلہ کے حکم نامے کے مطابق اس حوالے سے تمام ایئرپورٹس اور ملک کے خارجی راستوں کو خطوط جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی پاکستان سے باہر نہ جاسکے۔

نو فلائی لسٹ میں نمایاں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناموں میں اسد عمر، فواد چوہدری، ملیکہ بخاری، قاسم سوری، اسد قیصر، مراد سعید، حماد اظہر، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں اسلم اقبال شامل تھے۔

پولیس، انسداد دہشت گردی کے محکموں، صوبائی محکمہ انسداد کرپشن، نیب اور مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نو فلائی لسٹ میں ڈالنے کے لیے یہ نام وفاقی حکومت کو بھیجے تھے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے کافی رہنماؤں نے پولیس کریک ڈاؤن کی وجہ سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کی لیکن انہیں متعلقہ حکام کے احکامات کی وجہ سے روک دیا گیا تھا ۔

منگل کو لاہور پولیس نے پی ٹی آئی کے 700 سے زائد رہنماؤں کے نام ایف آئی اے کو ارسال کیے گئے اور مطالبہ کیا تھا کہ ان کے بیرون ملک جانے پر ایک ماہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

پولیس نے ایف آئی اے سے درخواست کی تھی کہ ان ناموں کو نو فلائی لسٹ میں 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے ڈالے جائیں، جس میں فوجی تنصیابت پر حملے، توڑ پھوڑ اور انہیں نذر آتش کیا گیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 12 جون 2024
کارٹون : 11 جون 2024