کانگو وائرس: محکمہ صحت سندھ کی ہسپتالوں کے عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت
محکمہ صحت سندھ نے کانگو کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر کراچی سمیت صوبے بھر کے ہسپتالوں کے عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی۔
ڈان نیوز کے مطابق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کانگو بخار میں مبتلا مریضوں کو آئسولیشن وارڈز میں رکھا جائے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کانگو بخار جانوروں پر پائے جانے والے پسو میں موجود وائرس سے ہوتی ہے، جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد اور قصاب احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
کراچی اور بلوچستان میں مارچ سے اگست تک کانگو وائرس کے 14 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اس وائرس کے 3 مریض دوران علاج انتقال بھی کر گئے۔
کانگو وائرس کیا ہے؟
یہ وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔
اس بیماری میں جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ وائرس زیادہ تر افریقہ اور جنوبی امریکا ’مشرقی یورپ‘ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے، اسی بنا پر اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری کہا جاتا ہے، یہ وائرس سب سے پہلے 1944 میں کریمیا میں سامنے آیا، اسی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا تھا۔
کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے، اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔
علامات: تیز بخار سے جسم میں سفید خلیات کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو ہر ممکن احتیاط کرنی چاہیے۔
احتیاطی تدابیر: کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں، مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں، مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں، جانور منڈی میں بچوں کو تفریح کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے۔












لائیو ٹی وی