بلوچستان کی صورتحال پر وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کی صدر، وزیر اعظم سے ملاقاتیں

شائع August 27, 2024 اپ ڈیٹ August 27, 2024 10:26pm
صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ملاقات کا منظر— فوٹو: اے پی پی
صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ملاقات کا منظر— فوٹو: اے پی پی

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے بلوچستان میں سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

ملاقات میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کو بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر بریفنگ دی گئی اور صوبے میں قیام امن کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں سے ملاقات میں صدر نے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔

دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور بلوچستان کی صورتحال پر مکمل بریفنگ دی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ روز ہونے والے حملے بزدلانہ کارروائیاں تھیں اور ان بزدلانہ کارروائیوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے حملے میں شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔

وزیراعظم نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردوں کی نشاندہی کر کے بھرپور کارروائی کرنے کی ہدایات دیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں عسکریت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک ہی دن میں موسیٰ خیل، مستونگ، بولان اور قلات میں مختلف واقعات میں 40 افراد کو قتل کردیا تھا جب کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے علاقے بولان سے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ آپریشن کے دوران 14 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہو گئے تھے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026