پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کی کمی

شائع 01 جنوری 2026 01:55am
فائل فوٹو: رائٹرز
فائل فوٹو: رائٹرز

حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.57 روپے فی لیٹر کمی کردی۔

رات گئے اعلان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

اعلان کے مطابق ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 263.45 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 253.17 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 265.65 روپے فی لیٹر سے کم کرکے موجودہ پندرہ روز کے لیے 257.08 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر شعبے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور بالخصوص سبزیوں اور دیگر خوراکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ 2.50 روپے فی لیٹر ماحولیاتی معاونت لیوی بھی عائد ہے۔

اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، چاہے یہ مقامی پیداوار ہوں یا درآمدی۔ مزید یہ کہ تیل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو تقسیم اور فروخت کی مد میں تقریباً 17 روپے فی لیٹر مارجن دیا جاتا ہے۔

پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔

حکومت نے مالی سال 2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.161 کھرب روپے وصول کیے اور موجودہ مالی سال میں اس آمدن کے تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.470 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 1 جنوری 2026
کارٹون : 31 دسمبر 2025