جی ایم سید کے بعد

17 جنوری 2013

تصویر بشکریہ وکی میڈیا کامنز --.
تصویر بشکریہ وکی میڈیا کامنز --.

کہا جاتا ہے کہ سندھ کا ہر بندہ اندر میں قوم پرست ہے، مگر ووٹ پیپلز پارٹی کو دے گا۔ بلاشبہ سندھ کی سیاست پر قوم پرستی حاوی رہی ہے۔ اس وجہ سے ہی یہ کہاوت بنی ہوگی۔

سندھ کی سیاست اور سوچ کو قوم پرست تحریک کے پس منظر کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔ پچاس کے عشرے میں شروع ہونے والی یہ قومی تحریک کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ اس تحریک کے بانی بزرگ رہنما جی ایم سید تھے، جنہوں نے قیام پاکستان میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ مگر بعد میں پاکستان کی اسٹبلشمنٹ سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ اور انہوں نے صوبے میں قوم پرست تحریک کی بنیاد ڈالی۔

پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں سندھ کی تحریک ملک کے دوسرے صوبوں بنگال، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ عوامی لیگ یا نیشنل عوامی پارٹی کے روپ میں اتحاد میں رہی۔ مگر بعد میں صوبوں کی مشترکہ تحریک سے الگ ہوگئی۔ آج کم از کم ایک درجن کے قریب تنظیمیں جی ایم سید کے پیروکار ہونے کی دعویدار ہیں اور قوم پرستی کے نام پرسیاست کرتے ہیں۔

سندھ پاکستان میں سیاسی طور پر زیادہ باشعور صوبہ سمجھ جاتا ہے۔ اور یہاں کی قوم پرست تحریک بھی پرانی ہے۔ ا س تحریک کے دو خدوخال اہم ہیں۔ یعنی مسلسل احتجاج اور جدوجہد کو پرامن رکھنا۔

تحریک کے بانی جی ایم سید کے انتقال کے بعد حالات اور صورتحال میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ ان تبدیلیوں نے سندھ کی قوم پرست تحریک کی حکمت عملی، جدوجہد کے طریقہ کار اور مقا صد پر بھی اثر ڈالا۔

سندھ کی قوم پرست تحریک کی صورتحال خصوصا آج کیا ہے؟ اس موضوع سندھ کے قوم پرست رہنماؤں اور دانشوروں سے گفتگو کا نچوڑ پیش کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں حکمت عملی، قیادت، تنظیم سازی، روزمرہ کی سیاسی معاملات کے حوالے سے کئی نکات سامنے آئے ہیں۔

تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کا بڑا کنٹری بیوشن تھا کہ انہوں نے سندھی قوم پرستی کی تشکیل اور بناوٹ دورمیں نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔ لہٰذا سید کا حصہ قوم پرستی میں سیاسی سے زیادہ اس سوچ اور نعرے کو مقبول بنانے میں زیادہ ھے۔ انہوں نے قوم پرست ذہنیت پیدا کی اور اس کے نظریاتی فریم ورک کی بنیاد رکھی۔

ان کی زندگی میں ہی قوم پرست تحریک تنظیمی لحاظ سے کم از کم تین گروپوں میں بٹ گئی تھی۔ اور جی ایم سید سب پر ہاتھ رکھتے تھے۔ انہوں نے شعوری ونظریاتی کام تو کیا، مگرسیاسی تحریکوں میں دوسرا پہلوتنظیم، تربیت اور کردار ہوتا ہے وہ نہیں کیا جا سکا۔ اس مقصد کے لیے واضح حکمت عملی ہوتی ہے جس پروہ خود بھی توجہ نہیں دے سکے۔ نتیجے میں سیاسی سوچ بٹ گئی اور عملی طور پر اور سیاسی اثر سامنے نہیں آسکا۔

صورتحال یہ بنی کہ سندھی لوگوں کی سوچ قوم پرستی کی ہے مگر ووٹ پیپلزپارٹی کو کرتے ہیں۔ جامی چانڈیو کے مطابق آج قوم پرست تحریک تنظیم، لیڈرشپ، اور واضح حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مخصوص سطح سے زیادہ نہیں ابھر سکی ہے۔

ان کا کہنا ہے سید کی سیاست کے تسلسل میں سے کام کرنے والے مختلف گروپ اشو بیسڈ سیاست کر رہے ہیں۔ اور وہ بھی ایک ہی ڈھنگ اور طریقہ کار سے۔ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے بھرپور سیاسی پیغام بھی نہیں بن سکا ہے۔ بات صرف سوچ اور تک رہ جاتی ہے۔

خالص نظریاتی سیاست کے حامی جیئے سندھ محاذ کے جنرل سیکریٹری ہاشم کھوسو کا کہنا ہے کہ سید نے قوم پرستی کی بنیادیں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کسوٹی اور معیار بھی مقرر کئے تھے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد کیڈر کی موقع پرستی اور مصلحت پسندی نے قومپرستی کو کمزور رکر دیا۔ایسے لوگ بھی قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھنے لگے جو سید کی زندگی میں انکے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔ کل تک جماعت اسلامی یا نوشہروفیروز کے جتوئی سید کے مخالف تھے۔ آج یہ لوگ قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم پرست اشوز پر سیاست کرنے لگے ہیں۔ اشوز پرکب تک سیاست چلے گی؟آج قوم پرست ریاست یا ریاستی ڈھانچے کو چیلینج نہیں کر رہی۔

چار عشروں تک جیئے سندھ کی سیاست کرنے والے جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین خا لق جونیجو کا کہنا ہے کہ اشو پر لوگوں کو آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے قوم پرست جماعتیںیہی کام کررہی ہیں۔ سندھی قوم پرست تحریک جاگیردار دشمن، مذہبی نعروں سے دور، سیکیولر رہی ہے۔جسکا جھکاؤ ترقی پسند اور بائیں بازو کی طرف ہی رہا ہے، مگر اب پیر وں وڈیروں بھی قوم پرست ہو گئے ہیں لہٰذا قوم پرستی کا رنگ اور ذائقہ ہی بدل گیا ہے۔

پنجاب سے تضاد: سندھی قوم پرستی کا تصور یہ ہے کہ پاکستان میں پنجاب کی بالادستی ہے اور وہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا ذمہ دار ہے۔لہٰذا اس کا ٹکراؤ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب سے بھی ہے۔

خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ سندھ کے حقوق پنجاب سے لینے ہیں کیونکہ ریاست پر اس کی بالادستی ہے۔ مگربعض قوم پرست حصے اس پر بھی واضح نہیں ہیں۔جو صوبہ سندھ کے حقوق غصب کئے ہوئے ہے اسی کی نمائندہ جماعت سے اتحادمیں ہیں۔

مگر جیئے سندھ قومی محاذ کے وائیس چیئرمین آصف بالادی کا نقطہ نظر ان سے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کچھ قوم پرست گروپوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے، اگر تنہا ہو کر ایک دائرے میں سیاست کرتے ہیں تو تو قومی تحریک کے مخالف یا اس دھارے سے باہر لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ وفاقی سیاست کرنے والوں کو ہمارے خلاف استعمال کریں۔ یہ سلسلہ جوڑنے سے قومی تحریک کو فائدہ ہوا ہے۔

مہاجر تضاد: خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ مہاجر تضاد سندھ کے گلے پڑا ہوا ہے۔ جی ایم سید کا یہ تصور تھا کہ جب تحریک زور پکڑے گی تب ان میں سے ایک حصہ قوم پرست تحریک کا ساتھ دے گا۔ دوسرا حصہ ملک چھوڑکرچلا جائے گا، تیسرا حصہ مخالفت کرے گا۔

آج قوم پرست گروپ انتہاپسندی کی دو چوٹیوں پر کھیل رہے ہیں۔ یا تو انہیں مار بھگانے کی بات کی جاتی ہے یا پھر ہر حال میں راضی رکھنے کی۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کہے ویسے کیا جائے۔ یہ دنوں غیر سیاسی اور غیرسنجیدہ رویے ہیں ۔ اس اشواصل روح یہ ہے کہ وسیع قلبی کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔ نسل پرستی کی طرف دھکیلنے سے سب کچھ نسل پرستی میں چلا جاتا ہے۔

آصف بالادی کا کہنا ہے کہ مہاجر سندھ کی ثقافتی اقلیت ہیں۔ ایم کیو ایم کی سیاست نے صورتحال کو خراب کیا ہے۔

خالق جونیجو کا کہا ہے کہ آج سے تیس چالیس سال پہلے سرائیکی اور دیگر چھوٹی قوموں کے قوم پرست سندھ کی قومی تحریک سے سیکھتے تھے۔ مگر اب وہ کہتے ہیں کہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ جب کہ اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال میں تبدیلیاں آئی ہیں جن کے اثرات قومی تحریک پر بھی پڑے ہیں۔ اب اس تحریک کو نئے بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول قوم پرست گروپ جیئے سندھ قومی محاذ کے رہنما آصف بالادی کا کہنا ہے کہ قوم پرستی کی اصطلاح بہت عام ہو گئی ہے۔ اور بہت سے گروپ قوم پرست کہلانے لگے ہیں۔ سندھی قوم پرستی کا اصل تصور وطن کا تھا۔یعنی سندھ ہزارہا برس سے وطن ہے اور اپنا الگ تشخص رکھتی ہے۔ اب عام اصطلاح میں یہی ہے کہ پاکستان کے فریم ورک میں حقوق ملیں۔ وطن کا پہلو کم ہو گیا ہے۔

مشترکہ پلیٹ فارم پر بھی نظریاتی اور نفسیاتی مرکز کمزور ہوا ہے۔ بشیر خان قریشی نے کسی حد تک اس خلاء کو پر کیا تھا۔ اور قومی تحریک کو عوامی شکل دی تھی۔ مگر اب قومی تحریک کمزور ہے کوئی بھی قدآور شخصیت نہیں ہے جو مرکزیت پیدا کرسکے۔ سید نے فکری طور پر متاثر کیا۔ مگر فکری اثرات تنظیمی شکل اختیار نہ کر سکے۔اس لیے آج تنظیمی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو ابھارکر قومی اور جمہوری تضاد کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔ جس سے مجموعی طور پر اور سیاست میں بھی کنفیوزن پیدا ہوا۔

معاشی مفادات کہ وجہ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اخلاقی کرادر کا پہلو بھی کافی حد تک کمزور ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروپ سرگرم ہو گئے ہیں۔ یہ گروہ بندی شخصی اور معاشی مفادات کی وجہ سے ہے۔ بڑی وجہ مختلف پس منظروں سے آنے والا متوسط طبقہ ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں کے مڈل کلاس کی نفسیات میں بھی فرق ہے۔ ان کی تربیت بھی نہیں ہو پارہی۔ لہٰذا اکے معاشی مفادات اور لیڈرشپ کے معاملات بھی ہیں۔ اور یہ بھی کہ میں لیڈر ہوں اور ایک مرتبہ لیڈر بننے کے بعد وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عالمی طور رپر بھی شعور نے ترقی کی۔ 80 کی دہائی کے بعد اقتصادی مطالبات جس میں پانی اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت لے معاملات بھی قوم پرستی اور انسانی حقوق کی تحریک کے مطالبات میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ مڈل کلاس نظریاتی طور پر پختہ نہیں۔ اوربالغ اورپختہ مڈل کلاس نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ قوم پرستی میں اشو بیسڈ سیاست نہیں ہوتی مگر جب زندہ رہنے کے وسائل مثلا پانی کا مسئلہ یا کالاباغ ڈیم کا اشو ہو تو قوم پرست یہ کہہ کر چپ نہیں بیٹھ سکتے کہ ہم اشو بیسڈ سیاست نہیں کرتے۔ یا جب جغرافیائی سرحدیں خطرے ہوں جیسے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صورتحال بنی تھی۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے قوم پرستی کی اصطلاح مبہم اور غیر واضح ہو گئی ہے۔ جس کو دوسرے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

پرانے سیاسی کارکن اور تجزیہ نگار ناز سہتو کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کے بعدقومی تحریک میں چارتبدیلیاں رونما ہوئی ہیں: مرکزی قیادت کا فقدان، انتخابی سیاست کی کشش کا بڑھنا، اشو بیسڈ سیاست کو قومی تحریک سے منسلک کرنا اور بعض گروپوں کامسلح جدوجہد کو بطور پالیسی اختیار کرنا۔

جی ایم سید کی زندگی میں اس تحریک سے وابستہ لوگ انتخابات کی طرف نہیں جاتے تھے۔ اب قوم پرست تنظیمیں اور فرد بھی انتخابی سیاست کی طرف گئے ہیں۔ یہ بھی سید کے بعد کا مظہر ہے کہ ایک آدھ گروپ نے مسلح جدوجہد کو پالیسی کے حصّہ بنا لیا ہے۔

جیئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی نے قوم پرست تحریک میں مختلف قسم کا تجربہ کیا۔ انہوں نے اشو بیسڈ سیاست اور نظریاتی سیاست کو ایک ساتھ ملایا۔ اشوز پر قائم ہونے والے اتحادوں میں وہ بطور ممبر شامل نہیں ہوئے تاہم ان کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ بشیر قریشی عوامی رجحان کو ساتھ لیکر چلتے تھے۔ وہ ایک پروسیس میں بنے تھے۔ بشیر خان کے بعد اب تک کسی نے اتنی ساکھ نہیں بنائی ہے کہ لوگ اس کو مانیٹر کریں۔

آج قومی تحریک کوقیادت نہ ہونے کا چیلینج درپیش ہے.

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (13) بند ہیں

munir Lghari Jan 17, 2013 01:29pm
hum subh ko ek jaan ho k rehna chahie, phir ja k hum apna difa kar pain ge. nahin tu ek ek lakri ki tarha subh tout k bikhar jain ge.....
Amir Bux Shar Jan 17, 2013 01:31pm
سهيل سانگي ني جس طرح مکمل تجزيا کيا هي شايد هي کوئي ايسا تجزيانگار هو جو کرسکي.
Amir Bux Shar Jan 17, 2013 01:33pm
ڊان ني اچها کيا هي ک ويب سائيٽ اردو مين بهي لانچ ڪي هي.
jawad mirani Jan 17, 2013 01:52pm
sir bhut ache per aaj kal k comred ese haqaiq ko kahan mante hen...?
عجاز احمد Jan 17, 2013 02:01pm
بہت اچھا جائزہ ہے، مگر میرے خیال میں شاونزم اور قوم پرستی میں فرق کے حوالے سےبھی بات کی جانی چایئے تھی، سید صاحب جہاں تک میں انہیں سمجھ سکا قوم پرست تھے شاونسٹ نہیں تھے اور ان کے بعض پیرو کار ان کی اسی سوچ کو آگے بڑھا بھی رہے ہیں بلکہ اسی تناظیر میں پنجاب یا دوسرے سوبوں کی قوم پرست سیاست کا ساتھ اک تعلق بنانے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ اور ویسے بھی قوم پرستی کسی ایک دڑبے میں بند رہ ک رنہیں کی جاسکتی، اس طرح آپ تنہا ہوجاتے ہیں، ضروری ہے کہ آپ دیگر قومیتوں کے ساتھ اپنی پوزیشن اور نظریہ پر کاربند رہتے ہوئے مل کر کام کریں۔۔۔۔اعجاز، سی این بی سی اسلام اباد
Abdul Razaque Chhachhar Jan 17, 2013 02:16pm
Abdul Razaque Chhachhar The person who given the slogan freedom of Sindh after his death dozen nationalists parties were created in Sindh with the name of nationalist parties. Some believe in freedom of Sindh, some want to do parliament politics under constitution of Pakistan. One this is very important that his grandson Jalal Mahmood shah is also doing parliamentary politics. In Sindh most nationalists parties have no good credibility and image because most of them have blame they take extortion from business communities as well as from other people. There is lack of training and political development education among their workers. In some nationalists parties also have students’ terrorist wings that have created tense in education institutes and universities of Sindh. In this circumstances Sindh cannot create a good nationalists leaders in future but will produce terrorist in their parties which is great loss of Sindh. There is need to provide a good education their workers for the development of Sindh.
Hyder Zaryaab Jan 17, 2013 02:18pm
first i will appreciate sohail sangi the writer of this article.... Nationalism is a big and consummate issue in over all world, because his roots are in hang in dharti (Land), Sindhi peoples also like Nationalism as compare to an other ideology, Sohail sangi also wrote that, bus i will highlight again, and many things highlighted in this article, and he is also trying for better. Over all and from each side this article is good, and i will again appreciate Writer of this article Mr Sohail Sangi Sahaib.
Dr:A.Qadeer Memon Jan 17, 2013 02:43pm
Is Article ke oper jo aik Photo lagaya gaea he , wo Photo ya enalysis jo G.M Sayed ke bare men kaha jata tha k ye" dahrya" he , us ki Aaksia kare rhee he , Pahle tu ye oper wali Title Photo kis qadir bhe Sindh , G. M sayed ya Qoumparst fiqir ko zahir nahee karte , balka Jeay Sindh Tahreek k mashoor men Socilaism aik Nukuta huwa karta he ( Shayed ab bhe tamam groups k manshoor me mojood he ) us ko bhe ye tazeem aour G . M sayed na samjh sake aour unhoon ne Islam ke khilaf aik easy aag lagaee jis se hamare buzrug Nafrat karte the aour wo hamen is ki tanzeem men kam karne se rokte the . Magar karkun kam karte rahe , Pata chala ke Muslim legue men rahene wala Sindh ka sadar aik sal men Sindh Assembly se Pakistan ki haq men qarardad pass karwakar aik sal baad mulim legue se jani Dushman ban jate hen. GM Sayed ne Ghalat ke ouper Ghalat Faisle karta gea . Jis ke Marhoon milat is ke fikiree , Nazreeate partean ab Sindh aour Sindh ko kia dey rahee hen ,aour wo Sindh se kia le rahe hen , GM Sayed ka aakhree stand jo raha wo tha , Azadi , Freedom of Sindh from Pakistan in the Name of Sindhu Desh ? Kia Dunya men Azadi Pasand log , Igrram , Tigrram baten karte he . Men tu yahe kahoon ga k G M Sayed ne jitna acha kam kia he , untna us ne bura bhe kia he , ye shikayat haq bhe he . Agar socho tu Aaj us ka Birth day he Khailque Junejo ke Batt un k nazreeate fikir ki tarjmani katee hen . Jami Chandio amali kami ki Shikayat aour Asif Baladi k na samjh policy baharal Jeay Sindh Tahreek ya GM Sayed ki nahi the . Weldone Respected Suhail Sangi sb
Zaryab kaka Jan 17, 2013 03:50pm
Sain Suhail Sangi sohib jin tamam sutho article likhyo ahy jahn man asan khe rahbar- e sindh sain G.M Sayed jy bary main tamam suthi information mily ahy sain jin khe jus hujy.... سنڌڙي لاءِ ٿو قيد ڪمايو، غير اڳيان تو سر نه جھڪايو، سائين خوش ھوندي خوددار، سدا وسين سن ۾ سدا وسين سنڌ ۾، او! سنڌ جا علمبردار ـ زندگي توتان گھوري ڇڏيان ، غيرت سنڌ جي پاسبان ، سنڌ منھنجي مٺڙي امان، شال تو تان شھيد ٿيان ، اٿو سنڌي ھوشيار ٿيو، کڻو ڪھاڙيون تيار ٿيو، سنڌ جو جيڪو ويري آ، ڪرڻو تنھن کي ڍيري آ...
murad pandrani Jan 17, 2013 08:03pm
Saeen Sohail sahab ny sindh ki qaomi tehreek par tamam tafseeli aur bahut ahim phelaon par roshni dali hai.... aik aam siyasi worker ky laey ya report intehai zabrdast maloomat faraham kary ga..
Pasha Jan 18, 2013 07:32am
The reason for a weak and fragmented nationalist movement is a weak and fragmented Sindhi middle class. Nationalism in Sindh is not representative of Sindhi capitalist class. Nationalism in Sindh is also burdened by the feudalism which the Sindhi society is unable to shrug off because of ingrained feudal tendencies in the Middle Class. There are practically two Sindhs now.The North cannot separate itself from Punjab, and the South does not have an ethnic Sindhi majority anymore. So the Nationalist need to make the alliance with the other political forces outside of Sindh to see some progress in their political agenda. Independent Sindh is out of the question due to historical reasons.
Aisha jamali Jan 18, 2013 08:19am
Nice efforts by Sir Sohail sangi...and it is relity that ta we have no leader ,we have just politicians as once miss Nelson Mandela was asked by BBC during her interview about the difference b/w leader and politician. She said politician thinks about comingElection while the leader thinks about coming generation...So,here we need proper Sindhi leader to guide and promote Sindh's and think about their rights..Well we really appreciate Sir Sohail Sangi efforts.
Mansoor Mirani Jan 19, 2013 03:37pm
Salam! Mr. Sohail Sangi has put nice sight over the current situation of Freedom Movement of Sindhi Nationalists. Sir, you have written right regarding current leadership of nationalist, it is at weak position it may long time to get to its strength. On 23rd March 2012 Basheer Qureshi gathered huge number people in an assembly, it was his consistent effort 12 years that he was able to collect as much people at one. Nationalist leaders are individually great characters but they are unable to transfer that glory to their followers and supporters. I am agree with you on the point regarding moral values of young generation, due to the lack of proper knowledge and proper look after they have less moral values. I would give example of Basheer Qureshi and Saeen G.M Syed as example characters they made people compel to follow them, their mild behavior doubtless, they were really golden characters. Now I shall discuss grouping of nationalists. I do not the know the reason why grouping has occurred but it is favorable for Freedom Movement because more groups shall fetch more people and they can easily be collected at one place.