ضمیر کی انگڑائی

04 فروری 2013

ای میل

فائل فوٹو --.

سوال یہ ہے کہ اگر اقبال مرحوم ایک ڈیڑھ صدی اور جی جاتے اور پچھلے ہفتے نشر ہونے والے جنرل شاہد عزیز کے انٹرویو سن لیتے تو انہیں "ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی" جیسا نادر مصرع فاطمہ بنت عبد اللہ پر ضائع کرنے پر کتنا افسوس ہوتا؟

ایسا معصوم آدمی، آج کل کے دور میں، خدا کی نعمت ہے۔ خدا جانے انہوں نے خود کو کتاب لکھنے تک ہی کیوں محدود رکھا اور میدان سیاست میں اپنی کتاب کے ساتھ ساتھ اپنی رونمائی کا اہتمام کیوں نہ کیا۔ حالانکہ یہ دونوں کام مینار پاکستان پر ایک ہی جلسے میں باآسانی نمٹائے جاسکتے تھے۔

جنرل صاحب کے انٹر ویو سن کر لگ تو یہ رہا تھا کہ مملکت خداداد کے آئین میں شق باسٹھ اور تریسٹھ نازل کرتے ہوئے مرد مومن کے دل میں اور انہی شقوں کی جھوم جھوم کے تلاوت کرتے ہوئے شیخ الاسلام کی آنکھوں کے سامنے جنرل صاحب کی تصویر ہی رہی ہو گی۔

ہمارے ہاں خدا جانے کیا بات ہے کہ کسی بیوروکریٹ کی تشریف کے نیچے سے کرسی کھسک جائے یا کسی غازی کا کنٹریکٹ اس کے اپنے ایکسپائر ہونے سے پہلے ایکسپائر ہو جائے دونوں صورتوں میں اچانک ایک ایسا عوام دوست، روشن ضمیر، امین، صادق وغیرہ وغیرہ قسم کا انسان برآمد ہوتا ہے کہ ہم آپ حیران رہ جاتے ہیں۔

پہلے اعلی سول اور فوجی عہدیداروں کی کایاکلپ کبھی کبھار ہوا کرتی تھی لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اندر کی دنیا بدل جانے کے یہ واقعات کافی تیزی سے پیش آ رہے ہیں۔

جن دنوں جنرل مشرف کے خلاف شروع ہونے تحریک زوروں پر تھی ان دنوں ایک بزرگ سوٹ ڈاٹے جوتے چمکائے سول سوسائٹی کے نام پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بہت باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے اور زور و شور سے ہمیں جمہوریت کا درس دیا کرتے تھے۔

میں انہیں شکل سے نہیں پہچانتا تھا اور ان کے سوٹ کے علاوہ ان کے جذبے سے کافی متاثر ہوتا تھا کہ وہ اس عمر میں بھی پوتے پوتیوں سے دل بہلانے کے بجائے سڑکوں پر ان کے اور ہمارے مستقبل کے لیے اپنا بڑھاپا خراب کر رہے ہیں۔ پھر ایک دن میں نے ان کے خطاب کے لیے میگا فون پر ہوتا اعلان سن لیا جس میں روئیداد خان صاحب کو درس جمہوریت کے لیے پکارا جا رہا تھا۔ خان صاحب نے اس دن بھی حسب معمول جمہوریت کے فوائد گنوائے۔ میں اس دن بھی اور اس کے بعد بھی انتظار ہی کرتا رہا کہ وہ اپنے مائی باپ کے کارناموں میں اپنے کردار پر روشنی ڈالے بغیر ہی سہی اپنے ماضی کے کارناموں پر ہلکی پھلکی معذرت ہی کر لیں کہ اتنا تو جمہوریت کے حق میں حلق پھاڑ پھاڑ کر نعرے مارنے والوں کا حق بنتا تھا۔ جمہوریت بحال ہو گئی لیکن میرے کانوں کو معذرت سننے کا یہ شرف حاصل نہیں ہو سکا۔

پچھلے دنوں جب جنرل صاحب کے ضمیر کے انگڑائی لینے کی خبر آئی تو نیوز چینلز کے سٹوڈیو کسی چسکے دار خبر کی امید پر چرچ کے کنفیشن باکس میں بدل گئے اور ہم سب ٹی وی کے سامنے اس طرح جمع ہو گئے جس طرح بقول یوسفی کے ریپ کے مجرم کا اعترافی بیان سننے کے لیے سارا تھانہ جمع ہو جاتا ہے۔

لیکن ثابت یہ ہوا کہ جنرل مشرف کے کندھے پر براجمان یہ فرشتہ صرف انہی کے گناہوں کی کتھا سنا کے میڈیا کی میدان میں حشر اٹھانے آیا تھا اور ضمیر کی انگڑائی کا منظر صرف فلم کے پوسٹر میں ٹکٹ بلیک کروانے کو دکھایا گیا تھا۔

کارگل کا ملبہ فوج کے کاندھوں سے اتار کے قومی سلامتی کے چار یاروں کے سر ڈالنے کی اپنی سی کوشش میں جنرل صاحب نے جو کہانی لکھی اس میں ان کا کردار اس معصوم بچے کا سا ہے جو سارے واقعے کے دوران کونے میں بیٹھا دہی سے روٹی کھا رہا تھا۔

ان جیسے معصوم آدمی کو کوئی کیا کہہ سکتا ہے لیکن ان کی کہانی سن کے مجھے ایک قصہ بہت یاد آیا جس کے مطابق سٹالن کی حکومت ختم ہونے کے بعد خروشیف روس کے مینار پاکستان پر سٹالن کے کارگل گنوا رہا تھا کہ ایک پرچی اسے تھمائی گئی۔ پرچی پر لکھا تھا کہ جب سٹالن یہ سب کر رہا تھا تب آپ کیا کر رہے تھے؟

خروشیف نے اطمینان سے خطاب ختم کرنے کے بعد اعلان کیا کہ جس کسی نے یہ پرچی بھیجی ہے وہ اپنا سوال سب کے سامنے بلند آواز میں پوچھے۔ کافی دیر جب کوئی آواز نہیں سنائی دی تو خروشیف نے کہا کے سٹالن کے زمانے میں، میں بھی یہی کر رہا تھا۔

پرچی لکھنے والا خروشیف کے اور خروشیف، سٹالن کے زمانے میں جو کچھ کر رہا تھا اگر جنرل صاحب مشرف کے زمانے میں وہی کچھ کر رہے تھے تو اب کتاب کی چھابڑی ٹاک شوز کے جمعہ بازار میں لگانےسے رائلٹی تو شاید مل جائے مکتی ملنا مشکل ہے۔


Salman Haider شاعری اور تھیٹر کو اپنی ذات کا حصّہ سمجھنے والے سلمان حیدر راولپنڈی کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں