اے، بی، سی

اپ ڈیٹ 22 مارچ 2013

ای میل

امریکن بُک سینٹر، اردو بازار، کراچی -- فوٹو بشکریہ مصنف --. کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دکان دار دکان پر لگے ہوے بورڈ پر لکھے نام پر سیاہی پھیر دے۔ جب کہ دکان میں دستیاب چیزوں کی تفصیل بورڈ پر ویسے کی ویسے رہنے دے۔ ہے نا عجیب بات! مگر آپ مانیں یا نا مانیں، ایسا ہے۔ یہ دکان اُردو بازار میں موجود ہے۔ گو کہ دکان کے بورڈ پر لکھے نام سے زیادہ یہ دکان مالک کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اُن کے اصلی نام سے نہیں بلکہ اس نام سے جو اردو بازار کے دکانداروں نے دے رکھا ہے یعنی "ابّا". یہ اُردو بازار کے جگت ابّا آخر ہیں کون؟جی یہ ایس ایم عقیل ہیں۔ جو 1944 میں ہندوستانی علاقے کرنال سے ہجرت کرکے کراچی آئے۔ اور کچھ عرصے بعد صدر میں واقع پارسی جماعت خانے کے قریب کتابیں فروخت کرنے کے لیے ایک کھوکھا لگایا۔ بقول اُن کے کھوکھا دُکان میں اُس وقت تبدیل ہوا جب ایوب خان کے دور میں سیاست سمیت اس کھوکھے کو تجاوزات قرار دے کر مسمار کردیا گیا۔ اُس کے بعد انھوں نے جماعت خانے سے ملحق ایرانی ہوٹل (جہاں گیر ریسٹو رنٹ) کا ایک چھوٹا سا حصّہ کرائے پر لے کر دکان کا آغاز کیااور دُکان کا نام رکھا ٹڈ بٹ (Tid Bit)۔ 1985 میں انھوں نے اردو بازار میں بھی کتابوں کی خرید و فروخت کا آغاز کیا۔ میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ اردو بازار کی تاریخ کے حوالے سے کچھ لکھا جائے۔ اس بارے میں چھان بین کا آغاز ہم نے صدر ٹاون کے دفترسے کیا۔ صدر ٹاون کے عملے نے اس سلسلے میں معلوما ت سے معذوری ظاہر کرتے ہوے مشورہ دیا کہ ہم اردو بازار کے کسی پرانے دکاندار سے رابطہ کریں۔ اردو بازار میں ہمارے کتابیں فروخت کرنے والے فرید پبلشرز سے اچھے اور پرانے تعلقات ہیں۔ فرید پبلشرز پہنچ کر جب فرید صاحب کے بیٹے سے ان کے والد کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بتایا کے وہ کسی ساتھی کی تدفین میں گئے ہوئے ہیں۔ انھیں آنے میں کافی دیر لگے گی، اس نے مجھ سے کہا اگر کوئی کام ہے تو اسے بتا دوں۔ میں نے اسے بتایا کہ اردو بازار کی تاریخ کے بارے میں کچھ معلومات درکار ہے۔ اُس نے فوراً مجھ سے کہا کہ امریکن والے "ابّا" سے مل لیں۔ اُس نے مجھے دکان کا پتہ بھی سمجھا دیا. میں دکان پہنچا تو "ابّا" دکان پر موجود نہ تھے۔ میں نے دکان پر موجود ملازم سے دکان کا فون نمبر لیا اور پھر پریس کلب چلا آیا۔ شام کو میں نے دکان کے نمبر پر فون کیا تو "ابّا" سے بات ہو گئی اور اگلے دن 12 بجے مُلاقات کا وقت طے پایا۔

پروپرائٹر امریکن بُک سینٹر، ایس ایم عقیل -- فوٹو بشکریہ مصنف اگلے دن میں 12 بجے دکان پہنچا تو وہ موجود نہ تھے۔ میں وقت گذارنے کے لیے کتابیں دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیربعد "ابّا" یعنی ایس ایم عقیل صاحب آگئے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا۔ انھوں نے کوئی جواب دینے کے بجائے اپنی میز کے سامنے رکھے اسٹول پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں خاموشی سے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ پہلاسوال اُن سے کیا پوچھوں؟ اُنہوں نے دھیمی آواز میں چائے کی ایسی پیشکش کی جو شاید ہی زندگی میں کسی اور نے مجھے کی ہو۔ انھوں نے بجائے یہ پوچھنے کہ جو عموماً شہری سماج میں پوچھا جاتا ہے کہ چائے پئیں گے یا نہیں؟ یہ کہا کہ چائے میں چینی لیں گے یا نہیں؟ میں نے انہیں بتایا میں چائے نہیں پیتا۔ ان کے سپاٹ چہرے پر سُکڑنے اور پھیلنے والی لکیروں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ غالباً حیرت زدہ تھے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی ٹیبل کی دراز کھولی، اس میں پڑے سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر مجھے دی۔ میں نے ان سے کہا میرے پاس سگریٹ ہیں۔ ایک بار پھر ان کے سپاٹ چہرے پر لکیریں پھیلنے اور سُکڑنے لگیں، مجھے لگا کہ وہ ناگواری کا اظہار تھا۔ میں نے فورا ًان کے ہاتھ سے سگریٹ لے لی۔ اپنی اور میری سگریٹ سلگانے کے بعد وہ مجھ سے بولے۔ ہاں بھئی ابھی بولو، میں نے انہیں بتایا کہ میں اردو بازار کی تار یخ پر کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں۔ اس سلسلے میں ان کی رہ نُمائی کی ضرورت ہے۔ جواب میں اُنہوں نے بتایا کہ یہ بازار اس سے قبل سول اسپتال کی عمارت کے قریب واقع تھا۔ بعد ازاں اسے موجودہ اردو بازار مُنتقل کر دیا گیا۔ میں نے اگلا سوال کیا کہ بازار کا نام اس سے پہلے کیا تھا؟ وہ چند لمحے خاموش رہے۔ اس کے بعد بولے یار یہ تو مجھے معلوم نہیں۔ لیکن میں تُمہیں معلوم کر کے بتاوں گا۔ اُنہوں نے کراچی کے بارے میں ایک کتاب مجھے دکھائی۔ کتاب میں موجودہ کراچی کے حوالے سے تفصیل موجود تھی لیکن تقسیم سے پہلے کے کراچی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ میں تقریباََ مایوس ہو گیا کہ "ابّا" سے اردو بازار کے بارے میں شاید ہی مجھے کوئی معلومات مل پائے۔ میں نے ایسے ہی بات بڑھانے کے لیے ان سے پوچھا کہ ان کی دکان پر لگے بورڈ پر دکان کے نام پر سیاہی کس نے پھیری؟ انھوں نے جواب میں کہا ہم نے خود! اُن کا یہ جواب سُن کر میں پریشان ہوگیا۔ میں نے اگلا سوال کیا لیکن کیوں؟ انھوں نے جواب دیا حالات خراب تھے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ حالات تو شہر بھر کے خراب ہیں۔ لیکن کیا نام پر سیاہی پھیرنے سے حالات بہتر ہو جاتے ہیں؟ اُن کا کہنا تھا اس سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔ انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کے وہ سندھ بلوچستان پبلشرز ایسوسی ایشن کے ایک طویل عرصے تک چیئرمین رہے ہیں۔ اپنے دور میں ایسوسی ایشن کے خرچ پر انھوں نے نام ور ادیبوں اور شاعروں کو ہندوستان سمیت مُختلف مُمالک کے دورے کرائے ہیں۔ وہ سعودی عرب سمیت مُختلف مُمالک کے بُک فیرز میں شرکت کر چُکے ہیں۔کراچی کے ریگل چوک پر لگنے والے پُرانی کتابوں کے بازار پر اسٹال لگانے والوں کو ٹیبلیں بھی اُنہوں نے فراہم کروائیں تھیں۔ اور نہ جانے کیا کیاکچھ۔ لیکن میرا ذہن وہیں اٹکا ہوا تھا کہ دکان کے نام پر سیاہی پھیرنے سے بچاؤ کیسے مُمکن ہے؟ موقع پاتے ہی میں نے اُن سے دوبارہ پوچھا کہ جناب یہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن دکان کے نام پر کالک ملنے سے بچاؤ کیسے ممکن ہے۔ وہ پھر بولے دیکھو بھائی کراچی میں کاروباری لوگوں کو پرچیاں ملتی ہیں ان سے بھتہ لیا جاتا ہے۔ بڑے مسئلے ہیں. وہ اصل موضوع کی طرف جان بوجھ کر یا ان جانے میں آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ میں نے تنگ آکر ان سے پوچھا کہ آپ کی دُکان نام کیا ہے جس کو مٹا کر آپ بچ جاتے ہیں۔ وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے پھر بولے بھائی امریکن بُک سینٹر۔ میں اگلا سوال کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ انھوں نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولنا شروع کیا ابھی یار کراچی میں کوئی بھی ہنگامہ ہووے تو سبھی سے پہلے MacDonald-KFC وغیرہ کو جلاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دو بار ہمارے ساتھ بھی ہونے لگا تھا۔ اس لیے ہم نے مٹا دیا۔ میں نے پوچھا کتنی بار مٹایا تو انھوں نے بتایا کہ کئی بار۔ میں نے ان سے کہا کہ جب انھوں نے یہ نام رکھا تھا تو انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ وہ کیا نام رکھ رہے ہیں۔ ان کے سپاٹ چہرے پر لکیریں پھر سُکڑنے اور پھیلنے لگیں ان لکیروں سے مجھے ایسا لگا کہ وہ طنزیہ مسکرا رہے ہیں ۔ وہ بولے اس وقت ایسا کچھ بھی نہیں تھا سب امریکہ تھا۔ لیکن اب دور کچھ اور ہے میں نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ دکان کا نام تبدیل کیوں نہیں کر لیتے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں اب ایسا ہی کریں گے میں نے ان سے پوچھا نیا نام کیا ہو گا وہ بولے اے. بی. سی "میں کسی کو بھی اپنا نام چھیننے کی اجازت نہیں دے سکتا!"۔ ان کے سپاٹ چہرے کی سکڑتی اور پھیلتی لکیروں سے مجھے غصے کا اندازہ ہو رہا تھا میں دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ کیا غلط فہمی ہے۔ نام تبدیل کر یں گے۔ لیکن ہار ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئے۔ پھر اچانک بولے اے ،بی، سی -- "امریکن بُک سینٹر" سمجھے!

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں