پشاور: پولیو ورکرز کی ہلاکت کے بعد 14 مشتبہ افراد گرفتار

28 مئ 2013

ای میل

حملے میں زخمی ہونے والی پولیو ہیلتھ ورکر کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔، تصویر ظاہر شاہ
حملے میں زخمی ہونے والی پولیو ہیلتھ ورکر کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔، تصویر ظاہر شاہ

پشاور: پشاور کے علاقے بدھ پیر میں پولیو ٹیم پر حملے میں ایک خاتون کارکن کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کے بعد سیکورٹی اداروں نے کم از کم 14 افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے.

واقعے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے پولیو ٹیموں کوعارضی طور پر کام روکنے کی ہدایت کی ہے اور انہیں اپنی سرگرمیاں اپنے اپنے آفسوں تک محدود کرنے کی ہدایت کی ہے.

دوسری جانب ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوے پشاور کے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الله عارف نے بتایا کہ "پشاور کے بقیہ علاقوں میں پولیو مہم جاری ہے، اور کام کو مکمل طور پر روکنے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا." ان کا کہنا تھا چند علاقوں میں وہ ذاتی طور پر مہم کی نگرانی کر رہے ہیں.

ان کے مطابق حملے کے بعد پولیو ورکرز مضافاتی علاقوں میں جانے سے گریزاں ہیں جبکہ پشاور کے مرکزی علاقوں میں مہم جاری ہے لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کوئی ٹیم نظر نہیں آئی.

پولیو سے بچاؤ کی مہم EPI کے عارضی انچارج ڈاکٹر رحیم خٹک نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ "آج مہم کا پہلا دن تھا اور پولیو ورکرز اپنے معمول کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھیں کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ورکر ہلاک جبکہ دوسری زخمی ہو گئیں."

پولیو مہم کو روکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے سیکورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے فیصلہ کرنا ہے لیکن ابھی تک اس معاملے پر کوئی حکم انھیں موصول نہیں ہوا.

اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت ٹیم کے ہمراہ مناسب سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل ٹیم کے ہمراہ معمول کے مطابق گئی تھی لیکن مقامی افراد کے مسلح گارڈز کی موجودگی پر اعتراض پر وہ دور ہو گئے تھے.

واقعہ کے بعد ہلاک ہونے والی خاتون کی لاش اور زخمی خاتون کو ایل آر ایچ منتقل کردیا گیا ہے

دوسری جانب کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاون کی افغان بستی میں تین روزہ انسداد پولیو مہم شروع کی گئی تھی جسے مسلح افراد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد روک دیا گیا۔

پولیو کے قطرے پلانے کے لیے رضاکار علاقے میں پہنچے تو مسلح افراد کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد انہوں نے کام چھوڑ دیا۔

گڈاپ ٹاؤن کے ہیلتھ آفیسر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پولیو رضاکاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ بچوں کو موذی مرض سے بچانے کے لیے مہم شروع کی جا سکے۔

دوسری جانب پولیس کا موقف ہے کہ وہ پولیو رضاکارں کو مکمل تحفظ دینے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کر رہے ہیںاسی سلسلے میں مسلح افراد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد کراچی کے علاقے گڈاپ میں پولیو ورکرز نے بھی اپنی مہم روک دی ہے.

ڈپٹی کمشنر پشاور، جاوید خان مروت نے کہا ہے کہ منگل کے روز ایک خاتون پولیو ویکیسینیٹر کی ہلاکت اور دوسری زخمی ہونے کے بعد مجاز اداروں نے فوری طور پر تین روزہ پولیو مہم روکنے کے احکامت دیئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے سیکیورٹی رسک کی بنا پر اپنے سٹاف کو کام روکنے کے احکامت دئیے ہیں۔

اس بات کا فیصلہ شام کو خیبرپختونخواہ کے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور ای پی آئی پروگرام کے علاوہ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے۔