چین: مسلم انتہاپسندوں نے موسیقی پر پابندی لگادی

30 نومبر 2013

ای میل

سنکیانگ میں انتہاپسند، مسلمانوں کو فلم و ٹی وی، جدید و روایتی لباس و ثقافت سے روک کر شدت پسندی کی جانب لے جارے ہیں۔ —۔ فوٹو اے پی
سنکیانگ میں انتہاپسند، مسلمانوں کو فلم و ٹی وی، جدید و روایتی لباس و ثقافت سے روک کر شدت پسندی کی جانب لے جارے ہیں۔ —۔ فوٹو اے پی

بیجنگ: کل بروز جمعہ 29 نومبر کو چین کے ایک اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے دور دراز مغربی علاقے سنکیانگ میں اسلامی شدت پسند ٹیلی ویژن، گانوں اور تفریح کی دیگر شکلوں پر پابندی لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ ”مذہبی انتہاپسندی“کی تباہی کا سامنا کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین اسلامی دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے، پچھلے ماہ بیجنگ کے تیان من اسکوئر پر جب ایک گاڑی نے سیاحوں کو ٹکر ماری تھی اور جس سے کار میں سوار تین افراد اور دو راہگیر ہلاک ہوگئے تھے، چین نے اس لہر کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

چین نے اس حادثے کو ان لوگوں کی جانب سے ایک حملہ قرار دیا تھا، جو مقدس جنگ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

سنکیانگ کے سرکاری اخبار کے پہلے صفحے پر ایک رپورٹ میں علاقے کے ایمپلائمنٹ بیورو کے سربراہ یوسف کیانگ میمیاتی کا کہنا ہے کہ بعض قوتیں اپنے شرانگیز مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے اس خطے کے مسلمانوں پر شدت پسند عقائد مسلط کررہی ہیں۔

یوسف کیانگ لکھتے ہیں ”مذہبی انتہاپسند قوتیں لوگوں کو گانے یا رقص کی اجازت نہیں دے رہی ہیں، وہ لوگوں کو حکومت کی نافرمانی پر لوگوں کو اُبھار رہی ہیں، یہ قوتیں لوگوں پر زور دیتی ہیں کہ وہ شادی کے سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ کا استعمال نہ کریں۔ شدت پسند عام لوگوں کو ٹیلی ویژن اورفلم دیکھنے سے روکتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مسلمان صرف قوم پرست مذہبی رہنماؤں تعلیمات کا درس ہی سنیں۔“

انہوں نے انتہاپسندوں کی جانب واضح طور پر اشارہ تو نہیں کیا، لیکن یہ کہا کہ وہ غلط بیانی کے ساتھ مذہبی عقائد کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں، ان کے عقائد اس سے یکسر مختلف ہیں، جو یہاں مذہبی اور ثقافتی طور پر رائج چلے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”مذہبی انتہاپسندی سنکیانگ کے طویل عرصے سے قائم امن و استحکام کو ایک بہت بڑی تباہی کا سامنا ہے۔ انتہاپسندی کے ساتھ ہماری لڑائی مسلمہ اور ناگزیر ہوچکی ہے۔“

سنکیانگ کے بہت سے مسلمان اپنی ثقافت اور مذہب پر لگائی گئی پابندیوں پر خفا ہیں، اور حکومت پر زور ڈال رہے ہیں کہ انہیں وسیع پیمانے پر آزادیاں دی جائیں۔

سنکیانگ میں تسلسل کے ساتھ بدامنی اور کشیدگی کے بہت سے واقعات رونما ہوچکے ہیں، دارالحکومت بیجنگ ان کی ذمہ داری علیحدگی پسند مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ کے سر ڈالتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی بہت سے ماہرین اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم لوگوں کو شبہ ہے کہ ایسا کوئی منظم گروپ موجود ہے۔

یوغور قوم کے مسلمان اسلام کی اعتدال پسند شکل طریقے پر عمل پیرا ہیں، لیکن بہت سے لوگوں نے ایسے طریقوں کو اپنانا شروع کردیا ہے، جس کا مشاہدہ عام طور پر سعودی عرب اور پاکستان میں کیا جاتا ہے، جیسا کہ خواتین کے لیے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے کی پابندی۔ چین میں حالیہ برسوں کے دوران سیکیورٹی کاررواءی میں تیزی آئی ہے۔

یوسف کیانگ کہتے ہیں کہ ‘‘انتہا پسند عام لوگوں کو جدید اور روایتی لباس کو ترک کرنے پر اکساتے ہیں، اور مسلسل اپنے انتہا پسندانہ خیالات پر عمل کروانے کے لیے لوگوں کو مجبور کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔’’

بہت سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ چین سنکیانگ پر اپنے سخت کنٹرول کے جواز کے لیے خطرے کو بہت زیادہ طول دے رہا ہے، ان کے خیال میں یہ جھوٹی حکمت عملی ہے جو وسطی ایشیا، ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں پر اختیار کی ہوئی ہے۔