• KHI: Partly Cloudy 28.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.4°C
  • ISB: Clear 27.5°C
  • KHI: Partly Cloudy 28.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.4°C
  • ISB: Clear 27.5°C

عالم اسلام جل رہا ہے

شائع December 5, 2013 اپ ڈیٹ December 5, 2013 10:30am

پاکستان سے لیکر لیوانت تک مسلم دنیا خود اپنی لگائی ہوئی آگ میں جل رہی ہے، 'باہر کی جنگ' کے بغیر 'اندر کی یہ جنگ' جاری ہے۔

لیوانت سے آگے، شمالی افریقہ، مغرب اور مسلم سب-صحارا کی طرح، عدم استحکام، تشدد اور غیر یقینی کا دور دورہ ہے- سیاسی تحریکوں نے مذہبی رنگ اختیار کر لیا ہے، اور مذہبی تحریکیں فرقہ وارانہ خوں ریزی کی پستی میں گر چکی ہیں-

پاکستان خود اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں گھرنے کی داستان سنا رہا ہے۔ کئی دہائی پہلے، کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ امریکہ نے جن جنگجووں کو افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کا جو فریضہ سونپا تھا وہی ایک دن پاکستان کے لئے وبال جان بن جائے گا، فرقہ واریت کا روپ دھار لے گا، مسلح افواج کے حوصلوں کو پست اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیگا-

عرب دنیا میں، اسپرنگ کی خوشبو انتہا درجہ کی بدبو میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے زرخیز ہلال اور اسکے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے- جب آمروں کے مسلط کیئے ہوئے مصنوعی استحکام نے افراتفری کو جنم دیا تو عرب اسپرنگ کا کردار ہی بدل گیا-

بن علی، حسنی مبارک، علی عبداللہ صالح اور معمر قذافی کی حکومتیں ختم ہو گئیں --- حتیٰ کہ شام میں اسپرنگ رونما ہوا- اچانک، بشارالاسد نے جب چالیس سالہ خاندانی حکومت کو بچانے کی کوشش کی، پاگل پن کا دور شروع ہوا --- جو صرف شامیوں تک محدود نہیں رہا تھا-

چند مہینوں کے اندر، طاقتور ممالک کی ایک پوری قطار نمودار ہو گئی، تقریباً درجن بھر ریاستیں اور ریاکار عناصر مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو گئے-

اس میں ایران، سعودی عرب، قطر، حزب اللہ، القاعدہ کی بیشمار شاخیں، اسلامی اسٹیٹ آف عراق اور لیوانت (جس میں شام کی جبہت ال نصراء بھی شامل ہو چکی ہے)، نئی قائم شدہ اسلامک فرنٹ اور سب سے آخر میں لیکن سب سے بڑھ کر جنگ کی بھٹی میں تپے ہوئے پاکستانی طالبان --- جو چنگیز خان کے خون کے پیاسے بھیڑیوں کا اوتار ہیں، جو بچوں کو نیزوں پر اچھالنے کو اپنی شان سمجھتے تھے-

115،000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی ہے- انہیں ایک طرف کھڑے اردن اور ترکی تشویش سے دیکھ رہے ہیں، دونوں ہی شام کے ریفیوجیوں کو پناہ دے رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد دو ملین سے زیادہ ہوچکی ہے-

فرقہ واریت کی آگ نے --- اس اندرونی مزاحمت نے --- اس کی جگہ لے لی ہے جو انور سادات کے قتل تک باہر کی مزاحمت تھی- اکتوبر کے اس بد بخت دن تک، 1973 کی رمضان کی جنگ کی آٹھویں سالگرہ تک، جب کہ ناصر کے جانشین کو قتل کر دیا گیا، عرب دنیا ایک قوم نظر آتی تھی-

یہ مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بٹی ہی نہیں تھی- عرب عوام کے دل و دماغ قومیت کے جذبے سے سرشار تھے جسے جمال عبدالناصر نے پیدا کیا تھا- 'جنگ کے بغیر بیرونی مزاحمت' کے جذبے کا بتدریج خاتمہ صرف عرب دنیا تک محدود نہیں تھا، اس نے پاکستان سے لیکر مراکش تک سب کو متاثر کیا تھا-

اس کی بہت سی وجوہات ہیں؛
ناصر، فیصل، بن بیلا بومدین اور بھٹو جیسے عظیم رہنماوں کی جگہ بونوں نے لے لی جنھوں نے عوامی مقبولیت کی جگہ امریکہ سے دوستی کو قرین مصلحت اور اپنے ظلم و ستم کا نعم البدل سمجھا-

یروشلم، عراق، افغانستان، گجرات، صابرا-شتیلا، بوسنیا، 9/11: وہ ان چیلنجوں کی سمتوں اور ذلتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے-

افغانستان ایک المیہ ثابت ہوا: یہ مسلم دنیا کے لئے مذہبی عسکریت پسندی کا ذریعہ بن گیا- پاکستان کو مورد الزام ٹھیرایا گیا، جو غالباً درست تھا، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امریکا کی سربراہی میں مغرب سوویت شکست کے بعد سب کچھ یونہی چھوڑ کر نکل گیا، اور پاکستان اور اس علاقے کو طاقتور مسلح، بے لگام جہادیوں کے حوالے کر گیا جو اپنی فتح کے نشہ میں چور تھے-

بایاں بازو سوویت کیمپ کے ٹوٹنے کے بعد اپنی قوت کھو بیٹھا تھا، اور جب یہ طاقتور کھلاڑی گر پڑا تو اس کی جگہ مذہبی جماعتوں نے پر کی- آمریت کے ان برسوں میں مذہبی دایاں بازو چپ چاپ نہیں بیٹھا تھا: اس نے اس دور کو جب کہ سارے حقوق چھین لئے گئے تھے آبادیوں میں اپنے جال کو پھیلانے اور عوام کی ہمدردیوں کو جیتنے کے لیئے استعمال کیا-

اخوان المسلمین اور ان کے حلیف مصر میں اور مغرب میں اس کے اتحادی اسی ضمن میں آتے ہیں؛ اور پاکستان میں جماعت اسلامی- چنانچہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ آج مسلمان ملکوں میں بھڑکتی ہوئی یہ آگ بجھتی نظر نہیں آتی-

یہی وجہ ہے کہ جہادیوں نے اب مسلم کاز سے در حقیقت منہ موڑ لیا ہے، سوائے اس کے کہ انہیں اس میں ایک پرانی دلکشی نظر آتی ہے- اب ان کے دشمنوں میں دیگر مسلمان اور اقلییتں شامل ہیں- مسلمان برادری میں ان کا یہ خود ساختہ دشمن ایک ایسے عقیدہ کی عکاسی کرتا ہے جو بنیادی طور پر ایک بیمار ذہن کی پیداوار ہے-

پاکستان میں، طالبان شیعوں کا قتل کر رہے ہیں؛ لیوانت میں غیر-شامی سنی ملیشیا اور حزب اللہ نے، جمہوری حقوق کے لئے باتھ-دشمن جدوجہد کو فرقہ واریت کا رنگ دے دیا ہے؛ بحرین میں سعودی فوجیں شیعہ بغاوت کو کچلنے میں سنی شہنشاہیت کی مدد کر رہی ہیں؛ عراق میں 2006 کی طرح کی فرقہ واریت دوبارہ پیدا ہو رہی ہے جس میں اس سال لگ بھگ 6000 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اور ریاض کو ایران کے نیو کلیر تجربوں پر اتنی ہی تشویش ہے جتنا کہ تل ابیب کو-

یہاں پر ہمیں دو متضاد مظاہر نظر آتے ہیں: مسلمان حکومتوں کو تشویش ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کس طرح کریں جبکہ بین الاقوامی جہادی برادری مسلمان ریاستوں کے جغرافیائی سیاسی مسائل سے لا تعلق نظر آتی ہے-

ریاستی مفادات سے یہ لاتعلقی عسکریت پسندوں کے اس مضحکہ خیز یقین کی وجہ سے ہے کہ اسلام میں قومی-ریاستوں کے نظریہ کی کوئی جگہ نہیں ہے- اس نظریہ کے عملی اثرات کے کھوکھلے پن کو مولانا مودودی نے تسلیم کرتے ہوئے' ٹروٹسکیائٹ ' کے نظریہ کو مسترد کر دیا تھا اور ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی غرض سے پاکستان آگئے تھے-

اس لئے حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اپنے خطہ سے باہر وفاداریاں پاکستانیوں کے نظریے اور عمل میں رچ بس گئ ہیں، جیسا کہ سید منور حسن کا ایک ایسے انسان کو شہادت کا درجہ دینا جو ایک باغی فوج کا سپریم کمانڈر تھا جو پاکستان کی ریاست کے ساتھ جنگ کر رہی تھی اور اب بھی جنگ کر رہی ہے- اس بات کو بھی مد نظر رکھئے کہ طالبان اور لال مسجد کے باغیوں نے چینیوں کو اپنا اہم ہدف بنایا تھا-

عاشورہ کے دن راولپنڈی کا سانحہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ مسلم دنیا کس بیماری کا شکار ہے- عالمی سطح پر اسلام پسند جمہوری طریقوں سے اپنا کاز آگے بڑھا سکتے تھے- ان کے پاس عوام کو متاثر کرنے کے وسائل موجود ہیں- یہ کہ ---جس سے عمران خان نا واقف ہیں--- وہ اپنے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں مسلم دنیا کا المیہ ہے-

یہ لوگ اس چیز کو تباہ کر رہے ہیں جو ان کی طاقت کا سر چشمہ بن سکتا ہے- مسلم دنیا کے مرکز میں جو افراتفری پھیلی ہوئی ہے اس نے مصیبت زدہ عوام کے دلوں میں ان ظالموں کی یاد تازہ کر دی ہے جنھیں نکال پھینکا گیا تھا-

اب جبکہ شام کے کیمییائی ہتھیاروں کو ضبط کر لیا گیا ہے اقوام متحدہ کو لیوانت میں امن قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے- چنانچہ مسلمان بھائی بھائی اس وقت تک لڑتے رہینگے جب تک قیامت نہ ٹوٹ پڑے-

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: سیدہ صالحہ

محمّد علی صدیقی
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026