دی لیگو مووی - ریویو

اپ ڈیٹ مارچ 14 2014

ای میل

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

دی لیگو مووی کے آغاز میں کارپوریٹ اونڈ ایک بہت بڑا شہر دکھایا گیا ہے جس میں ایک لت میں مبتلا کر دینے والے گانے 'ایوری تھنگ از اوسم' پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن بہت بار بھی سنائی دینے کے باوجود، کسی بھی انٹرٹینمنٹ میڈیم (چاہے وہ آج کا ٹی وی، موویز، انٹرنیٹ یا مقامی امیوزمنٹ پارک ہو) کے بارے میں یہ دعویٰ ٹھیک نہیں ہوگا وہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔

لہٰذا جب برکسبرگ کا ڈکٹیٹر، لارڈ بزنس (ول فیرل) 'کریگل' کو استعمال کر کے دنیا کو فریز کرنا چاہتا ہے تو ہم جان جاتے ہیں کہ اب بہت کچھ بہت تیزی سے ہونے والا ہے اور یقیناً یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے کہ جس کی وجہ سے آپ نے اس مووی کا ٹکٹ خریدا، ہے نا؟ میرا مطلب ہے کہ ایک لیگو مووی دیکھنے کی اور کیا وجہ بن سکتی ہے جو بہت بے ترتیب، تیز رفتار اور ایسی مثالوں سے بھری ہوئی نہ ہو جو کہ آج کل کے پاپ کلچر کا حصہ ہیں، کیوں ٹھیک ہے نا؟

خیر، آغاز انتہائی تیز رفتار ہے- ڈائریکٹرز فل لارڈ اور کرسٹوفر ملر کے سکرین پلے (جس کی کہانی لکھی ہے ڈین ہگمین، کیون ہگمین اور دونوں ڈائریکٹرز نے مل کر) میں آپ کو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ نے کیا مس کر دیا (لیگو سائز کے چھوٹے مگر جاندار کرداروں میں شامل ہیں ابے لنکن، ہیری پوٹر، دمبلڈور، گندلف، ونڈر وومین، سپرمین، ہین سولو، چیوبکا اور ملینیم فیلکن) بلکہ آپ کو سوچنا تو اس بارے میں ہے کہ آگے آپ کو کیا ملنے والا ہے؟ آپ کو یہ سب ایک انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا اور وہ بھی ایک ایسی ورکنگ اسپیس میں جہاں پہلے سے بہت سی چیزیں بھری ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

چند موقعوں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دی لیگو مووی کو بنانے کیلئے جو تخلیاتی فیڈ استعمال ہوئی ہے اس کا ایک حصہ بچپنے سے متاثر ہے جس میں کہانی بیان کرنے کے لئے بنا سوچے سمجھے لیگو فیگرز کی وسیع لائبریری کے کرداروں سے کام لیا گیا ہے جبکہ اس پراسیس کا دوسرا حصہ اس کارپوریٹ منطق کو استعمال کرتا ہے کہ 'سیف پلے کرو'- یہ کبھی کبھار ایک عجیب دھندلی گندگی لگتی ہے تو کبھی کبھی، ایک اچھے معنوں میں ... بس دھندلاہٹ ہی ہے- یہ ہمیں اپنے بچپن کے ان دنوں کی یاد دلاتی ہے جب ہمیں بس یہ فکر ہوتی تھی کہ پلے سیٹ جلد سے جلد تعمیر کر دیں اور اس کے انسٹرکشن مینوئل کو تو ہم سائیڈ پر پھینک دیتے تھے اور کبھی بھی اسے پڑھنے کی زحمت کو تو ہم نے گوارا کیا ہی نہیں (ویسے مووی میں دیے گئے میسیجز میں سے ایک میسج یہ بھی ہے کہ فن اور مزہ کرنے کیلئے آپ کو کسی مینوئل یا ہدایت کی ضرورت نہیں ہوتی)۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

بہرحال مووی میں ایک پیلے رنگ کے کنسٹرکشن ورکر ایمٹ (کرس پریٹ)، ایک ایسا مسیحا معلوم ہونے لگتا ہے جو لارڈ بزنس سے ٹکر لے گا اور لیگو ورلڈ کا نظام بحال کرے گا (جیسا بھی نظام ہے یا نہیں)- اصل میں لارڈ بزنس نے دوسری لیگو دنیاؤں سے برکسبرگ کا ناطہ توڑا ہوا ہے۔

ایمٹ کو ایک ماسٹر بلڈر ہونے کے مغالطے میں ایک دلکش اور پرکشش ماسٹر بلڈر، وائلڈ اسٹائل (الزبتھ بینکس) مدد کرتی ہے جس کا ساتھ دیتا ہے جادوگر وٹرووئوس (مورگن فریمن) جبکہ اس کے پیچھے لارڈ بزنس نے چھوڑا ہوتا ہے ایک سپر سیکرٹ انتہائی خطرناک پولیس والے (لیام نیسن)۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

ایمٹ کو معلوم ہے کہ وہ کوئی 'خاص' نہیں، وہ تو بہت ہی نرم دل ہے، بہت ہی سادہ ہے اور اپنے خیالات کی وسعت میں بھی وہ کسی ایسے پلان کا حصہ بھی نہیں بن سکتا جو کریگل سے دنیا کو بچا سکے اور جب مووی ہمیں اپنا بڑا جھٹکا دے کر چیزیں آشکار کرتی ہے، ہم میں سے اکثر اپنے قریبی موجود لوگوں کی پنڈلیوں پر لات مارنا چاہیں گے۔

ایک مشورہ: مووی کی گہرائی میں اترنے کیلئے اسے ایک دو منٹ کا وقت دیں- یہ مووی کا وہ حصہ ہے جہاں سکرین پلے میں اب تک واضح نہ ہونے والی چیزیں واضح ہونا شروع ہو جائیں گی- یگانگت کا احساس (مووی گو کہ اینمیٹڈ ہے پھر بھی اس میں اسٹاپ موشن والی کیفیات پائی جاتی ہیں) اور ایکشن کا تڑکا ہمیں ایسا محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے یہ سب تو جیسے پہلے ہی سے جانتے تھے، ایسا تو ہمیشہ ہی ہوتا ہے- ویسے ہو تو یہ بھی سکتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو- لیکن مووی دیکھنے کے بعد دنیاوی اور کارپوریٹ ورلڈ سے دور بھاگ جانے کا آپ کا دل ضرور چاہے گا۔

اس مووی کو ریلیز کیا ہے وارنر برادرز نے اور پاکستان میں اسے ریلیز کیا ہے ایچ کے سی انٹرٹینمنٹ نے جبکہ اس کی ریٹنگ فاسٹ ایکشن، الفاظ کے انتہائی چالاکی سے استعمال کی بناء پر پی جی ریٹنگ دی گئی ہے- ویسے یہ مووی اس دور کی یاد ضرور دلاتی ہے جس کے بارے میں جدید گیمز کی پہنچ بھی نہیں-

فلم کے ڈائریکٹرز ہیں فل لارڈ اور کرسٹوفر ملر، پروڈیوس اسے کیا ہے ڈین لن ہیگمن، کیون کیجمن، فل لارڈ اور کرسٹوفر ملر- سنیماٹوگرافی پبلو پلائسٹڈ کی ہے، ایڈیٹنگ ڈیوڈ بوروز اور کرس مک کے، پروڈکشن ڈیزائن ہے گرانٹ فرکلٹن کا جبکہ اس کا میوزک مارک مدربو نے ترتیب دیا ہے۔

ترجمہ: شعیب بن جمیل