مصر: ال سیسی مستعفی، صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان

27 مارچ 2014

ای میل

مصر کے فوجی سربراہ جنرل ال سیسی ٹی وی پر خطاب میں فوج سے مستعفی ہونے اور صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
مصر کے فوجی سربراہ جنرل ال سیسی ٹی وی پر خطاب میں فوج سے مستعفی ہونے اور صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

قاہرہ: مصر کے آرمی چیف جنرل ال سیسی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے فوج سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

سیسی جو وزیر دفاع کے منصب پر بھی فائض ہیں، نے بدھ کو رات گئے یہ اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلائیں گے۔

ممکنہ طور پر جون سے قبل ہونے والے انتخابات میں سیسی کا کوئی حریف نہیں اور ان کی آسان فتح متوقع ہے۔

بدھ کو عوام سے ٹی وی پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ آج میں آخری بار آپ کے سامنے فوجی وردی میں کھڑا ہوں کیونکہ میں نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں خود کو صدارت کے لیے نامزد کرتا ہوں'۔

سیسی کے بیان کا مصری عوام نے خی مقدم کیا ہے جہاں تین سال قبل آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد ملک ایک دہری کشمکش کا شکار ہو گیا تھا۔

تاہم اس اعلان سے اسلام پسندوں خصوصاً سابق صدر مرسی کے حامی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کی جانب سے ردعمل اور پرتشدد احتجاج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جنہوں نے اس عمل کو مسترد کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال صدر محمد مرسی کے خلاف عرصے سے جاری احتجاج کے بعد آرمی چیف جنرل ال سیسی نے جولائی میں ان کی حکومت کو ہٹا دیا تھا۔

اخوان نے کہا ہے کہ سیسی کی قیادت میں مصر میں استحکام نہیں آسکتا۔

سیسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مصر میں معارت، معیشت، سیاست اور سیکورٹی ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں اس سے بہادری اور سختی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔

'میں مصر کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا'۔

انہوں نے حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون نہ توڑنے والے تمام مصری مستقبل میں ہمارے دوست ہوں گے۔

مرسی کی حکومت کو برطرف کرنے کے خلاف ان کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاج شروع کیا تھا اور پھر 14 اگست کو حکومتی کریک ڈاؤن میں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق حکومتی کریک ڈاؤن میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اخوان المسلمون کے سیاسی ترجمان ابراہیم منیر نے بذذریعہ ٹیلیفون لندن سے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اس نے صدر بننے کے لیے بغاوت کی، یہ وہ شخص ہے جس نے بغاوت کے بعد روز لوگوں کو قتل کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مصر کی ایک عدالت نے پولیس اہلکاروں کے قتل اور دیگر پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں مرسی کے 529 حامیوں کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اردن کے دورے کے دوران اپنے بیان میں مصر پر سزائے موت کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ اس فیصلے سے مصر دنیا کو ایک منفی پیغام دے رہا ہے۔