میانمار: پہلی مردم شماری میں روہنگیا ،شناخت سے محروم

ای میل

ینگون میں 30 مارچ 2014 کو لی گئی تصویر میں کارکن ملک کی پہلے مردم شماری کی تیاری کررہےہیں۔ اے ایف پی تصویر
ینگون میں 30 مارچ 2014 کو لی گئی تصویر میں کارکن ملک کی پہلے مردم شماری کی تیاری کررہےہیں۔ اے ایف پی تصویر
ایک روہنگیا خاندان ایک کیمپ میں پناہ لئے ہوئے ۔ فائل تصویر
ایک روہنگیا خاندان ایک کیمپ میں پناہ لئے ہوئے ۔ فائل تصویر

ینگون: میانمار میں ملک کی پہلی مردم شماری ( سینسس) کو مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اتوار کو ہونے والی مردم شماری میں ' روہنگیا ' مسلمانوں کو بطور ' روہنگیا' اپنی شناخت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ملک کے بعض علاقوں میں ( مردم شماری کے منتظمین) نے کہا ہےکہ انہیں کام سے روکا جارہا ہے اور خدشہ ہے کہ اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ ان میں باغی کارروائی والے کچن اور واہ علاقے شامل ہیں۔

میانمار حال ہی میں نصف صدی کی فوجی حکومت کے بعد جمہوریت کی جانب بڑھا ہے۔ اب تک معلوم نہیں کہ بدھ مت اکثریت والے اس ملک میں لوگوں کی کل تعداد کتنی ہے۔

اس سے قبل 1983میں مردم شماری ہوئی تھی اور اسی بنیاد پر اندازہ ہے کہ آج وہاں کی آبادی تقریباً چھ کروڑ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں بھی بہت غلطیاں ہیں کیونکہ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

آبادی گننے والے افراد ذیادہ تر اسکول ٹیچروں پر مشتمل ہیں اور وہ صبح سات بجے سے گھر گھر جاکر ڈیٹا جمع کررہے ہیں۔

دس اپریل تک مردم شماری کا کام ختم کرنا ہے اور اس دوران پورے ملک میں ایک کروڑ بیس لاکھ گھروں کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔

مردم شماری کے عملے کو ایک طویل فارم دیا گیا ہے جس پر کئی سوالات دیئے گئے ہیں۔ اس میں حکومت کیساتھ اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کا تعاون حاصل ہے۔ اور اس پیچیدہ عمل میں صحت کی سہولیات، تعلیم ، پانی کی فراہمی اور تعلیم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

لیکن اس مردم شماری میں متنازعہ سوالات بھی شامل کئے گئے ہیں کو مذہب، نسل اور زبان سے متعلق ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت کو بار بار اس سے خبردار کرتی رہی ہیں کہ اس سے مزید خوفزدہ اقلیت خطرے کا شکار ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کو ذیادہ تشویش روہنگیا مسلمانوں سے ہے جو مغربی ریاست رکھنی سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ دو برس سے بدھ مت شدت پسندوں کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جاتا رہے اور اب تک 200 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ 140,000 اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں۔

حکومت کا اصرار ہے کہ یہ اقلیت ( روہنگیا) خود کو بنگالی پناہ گزین ثابت کریں حالانکہ وہ کئی نسلوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں لیکن اب تک انہیں ملک کے باشندہ ہونے کا حق حاصل نہیں۔

اس مردم شماری سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ہفتے کو صدارتی ترجمان یے تت نے کہا ہے کہ رونگیا کو بطور اقلیت شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

' یہ قابلِ قبول ہوگا کہ وہ خود کو ' بنگالی' ظاہرکریں لیکن۔ یہ قبول نہیں کہ وہ خود کو ' رونگیا' ظاہر کریں۔' سیاسی جماعتوں اور صدر تھائین سین کی ملاقات کے بعد انہوں نے کہا۔

اقوامِ متحدہ نے بار بار زور دیا ہے کہ روہنگیا کو ان کے نام کی شناخت استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ حکومتِ برطانیہ نے اس فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔

' حکومت کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مردم شماری کو ہونے دے جن میں تمام نسلی اور لسانی اکائیوں کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت ہو،' برطانوی حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا۔

واضح رہے کہ نسلی اور مذہبی اقلیتیں میانمار آبادی کا 40فیصد حصہ بناتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ متنازعہ آدم شماری کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔