سعودی شہزادہ اور 2100 تلور کا شکار

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2014

ای میل

بلوچستان کا صوبائی پرندہ تلور۔ فائل فوٹو
بلوچستان کا صوبائی پرندہ تلور۔ فائل فوٹو

کراچی: ایک سعودی شہزادے نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں عالمی سطح پر تحفظ میں دیے گئے 21 سو تلور کا شکار کر لیا۔

اکیس روزہ شکاری مہم کے دوران وہ محفوظ علاقوں میں بھی غیرقانونی طور پر شکار کھیلنے کے مرتکب ہوئے۔

'عرب شہزادے فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کے دورے کے موقع پر تلور کا شکار' کے نام سے بلوچستان کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے ڈویژنل فاریسٹ افسر جعفر بلوچ کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ شہزادے نے رواں سال گیارہ جنوری سے 31 جنوری کے دوران اکیس دنوں میں ایک ہزار 977 پرندوں کا شکار کیا۔

ان کے دیگر ساتھیوں نے بھی 123 پرندے شکار کیے، جہاں ذرائع کے مطابق شکار کیے گئے کل پرندوں کی تعداد 21 سو سے زائد ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کیے گئے پرندوں کے پاکستان میں شکار پر پابندی ہے لیکن وفاقی حکومت نے عرب ملک کے شہادے کو خصوصی اجازت دی۔

اس اجازت کے تحت مخصوص فرد کو دس دن کے دوران خصوصی اور محفوظ علاقوں کے علاوہ 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

چار فروری 2014 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے میں شہزادے نے 15 دن محفوظ اور ممنوع علاقے میں شکار کیا جبکہ چھ دن دوسرے علاقوں میں شکار کرنے کے بعد دو دن آرام کیا۔

اگر اس مہم کا تاریخ با تاریخ اور رقبے کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو گیارہ جنوری 2014 کو انہوں نے محفوظ قرار دیے گئے گٹ گیم کے علاقے اربے پت میں 112 تلور شکار کیے۔

اگلے دو دن یعنی بارہ اور تیرہ جنوری کو اس حصے کے ایک محفوظ قرار دیے گئے علاقے سائی ریک میں بالترتیب 116 اور 93 پرندوں کا شکار کھیلا گیا۔

اگلے دو دن شہزادہ فہد جو تابک کے گورنر بھی ہیں، نے ساتو گٹ کا دورہ کیا اور 14 اور 15 جنوری کو بالترتیب 82 اور 80 تلور کا شکار کیا۔

سولہ جنوری کو شہزادے گٹ باروتھ گئے اور 79 تلور مار ڈالے، جہاں رپورٹ کے مطابق یہ دونوں علاقے محفوظ قرار نہیں دیے گئے تھے۔

اگلے چھ دن سعودی شہزادے کا قیام محفوظ قرار دیے گئے علاقے کوہ سلطان کے جنگلات میں رہا جہاں انہوں نے 17 سے 2 جنوری تک بالترتیب 93، 82، 94، 97، 96 اور 120 پرندوں کو اپنا شکار بنایا۔

تئیس اور چوبیس جنوری کو یہ قافلہ گٹ گیم کے علاقے ڈیم پہنچا، یہاں بھی ترتیب وار 116 اور 197 پرندے شہزادے کے عتاب کا نشانہ بنے جہاں محکمے کی جانب سے ان علاقوں کو بھی محفوظ اور یہاں شکار کھیلنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

شہزادے نے پھر تھلو سٹیشن میں 25 جنوری کو 89 نایاب پرندے تلور شکار کیے جبکہ اگلے دو دن پل چھوٹو میں 34 اور 89 پرندوں کا شکار کیا لیکن یہ علاقے محفوظ یا ممنوع قرار نہیں تھے۔

اگلے چار دن شہزادہ فہد نے بالترتیب 92، 94، 119 اور 97 پرندوں کا گٹ گیم میں شکار کیا جس کے بعد شاہی مہمان نے یکم اور دو فروری کو بار تگزئی میں قیام کیا لیکن اس وقت تک کل ایک ہزار 977 پرندے ان کے عتاب کا نشانہ بنا چکے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 123 پرندوں کا شکار اس وفد کے دیگر ساتھیوں اور مقامی افراد نے کیا۔

عرب شہزادے فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کی جانب سے شکار کیے گئے پرندوں کی تعداد 1977 جبکہ ان کے ساتھیوں اور دیگر اقارب کی جانب سے 123 شکاروں کے بعد یہ تعداد 21 سو تک پہنچ گئی۔