کیا تھری جی، فورجی کی نیلامی کامیاب رہی؟

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2014

ای میل

ٹیلی کام کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لائسنس زیادہ قیمت پر فروخت ہونے سے مہنگی اور غیر معیاری سروس صارفین کو میسر آتی۔ —۔ فائل فوٹو اے پی
ٹیلی کام کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لائسنس زیادہ قیمت پر فروخت ہونے سے مہنگی اور غیر معیاری سروس صارفین کو میسر آتی۔ —۔ فائل فوٹو اے پی

بدھ کے روز بالآخر پاکستان بھی تھری جی اور فورجی کے دور میں داخل ہوگیا۔ ہر ایک کو جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا، لیکن بہت زیادہ تاخیر کے پس پردہ کچھ نہ کچھ تو رہا ہوگا۔ ٹیلی کام کے ایک سینئر ایگزیکٹیو نے کچھ اس طرح بیان کیا ’’یہ طریقہ کار کی خوبصورتی ہے کہ حکومت نے اس نیلامی کے ساتھ جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔‘‘

بولی لگانے والے چاروں اداروں کو تھری جی کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔ دو کو 2x10MHz اور ایک کو 2x10MHz دی گئی ہے، اس طرح حکومت کو اپنے بجٹ کا خسارہ دور کرنے کے لیے کچھ ریونیو ہاتھ لگ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بولی دہندہ نے فور جی لائسنس خرید لیا ہے۔

باقی تین اداروں نے فور جی کا انتخاب نہیں کیا تھا، شاید ممکنہ طور پر ان کو مقابلے کا خوف تھا۔

چار بولی دہندہ کو دیکھ کر حکومت نے امید لگا رکھی تھی کہ اس سے قیمت بہت زیادہ بلندی پر جاپہنچے گی، لیکن اس کی بہ نسبت ایسا کچھ بھی دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار جو پاکستانیوں کو اس ٹیکنالوجی بطور تحفہ دینے کا کریڈٹ لے رہے تھے، اپنے اس دعوے پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے کہ یہ ٹیکنالوجی تو دنیا بھر کے دو سو سے زائد ملکوں میں استعمال کی جارہی ہے۔

موبائل براڈ بینڈ کی فروخت کا معاملہ 2008ء سے زیرِ غور تھا۔ پچھلی حکومت کے اس پر عملدرآمدنہ کرپانے کی ایک وجہ تو اسحاق ڈار اور ان کی پارٹی کے ساتھی تھے، جنہوں نے پارلیمنٹ میں کتنی ہر مرتبہ اس تجویز کو تیکنیکی بنیادوں پر مسترد کردیا تھا۔

لہٰذا اس اسپکیٹرم کی نیلامی میں تاخیر کے لیے ان کی پارٹی کو بھی خاصی حد تک موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے، جس سے پچھلے پانچ سالوں یا اس سے زیادہ کے دوران تقریباً نصف ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ اس تاخیر سے صارفین کے حق سے بھی انحراف کیا گیا، اس لیے کہ یہ ٹیکنالوجی شورش زدہ افغانستان تک کے لوگوں کو بھی 2012ءسے فراہم کردی گئی تھی۔

ہمیشہ کی طرح آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کے تجزیہ نگار اس اسپیکٹرم لائسنس کی نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی کی مختلف وجوہات پیش کررہے ہیں۔

حکومت اس نیلامی کو 1.182 ارب ڈالرز تک ہی لے جاسکی، جبکہ اس کا انتہائی محتاط ہدف 1.3 ارب ڈالرز تھا۔ اس خاصی بڑی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ حکومت اس نیلامی کو مناسب طریقے سے مارکیٹ نہیں کرسکی اور مقابلے کی حقیقی فضا پیدا کرنے کے لیے نئے کھلاڑی لانے میں بھی ناکام رہی۔

کراچی میں اے کے ڈی سیکیورٹىیز کے لیے کام کرنے والے ایک تجزیہ نگار زور دیتے ہیں کہ ’’حکومت بولی دہندہ سے کیونکر یہ توقع رکھ سکتی ہے کہ وہ اپنی بولیوں کی قیمت میں اضافہ کریں گے، جبکہ وہاں مقابلے کی کوئی فضا موجود نہیں تھی، اور خود اس کے اہداف ہر چند ہفتوں میں تبدیل ہورہے تھے۔‘‘

ابتدائی طور پر اسحاق ڈار نے اس نیلامی کے لیے دو ارب ڈالرز کا ہدف مقرر کیا تھا، جبکہ اس کے بجٹ کا تخمینہ تقریباً 1.2 ارب ڈالرز تھا۔ لیکن پھر وہ خود ہی اس ہدف کو 1.5 ارب ڈالرز تک لے آئے، اور بالآخر یہ ہدف نیچے آتے آتے 1.3 ارب ڈالرز پر جا کر رُک سکا۔

حکومت پر موجودہ ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے دباؤ تھا، جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر مقررہ قیمت کو کم نہیں کیا گیا تو وہ اس عمل سے باہر نکل جائیں گے۔

پھر اس نیلامی میں خلیج اور ترکی کے سرمایہ کاروں کو لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، جن کی موجودگی سے گرتی ہوئی بولی کی رقم میں اضافہ ہوسکتا تھا۔

ٹیلی کام شعبے کے ایک ماہر مدثر جہانگیر مفتی کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں مقررہ قیمت مقرر کرنا ایک پیچیدہ عمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمت سے ہماری مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی ہوتی تھی۔‘‘

مدثر جہانگیر نے بتایا ’’ہندوستان میں تھری جی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے اور وہ کمپنیاں جنہوں نے فورجی کا لائسنس خریدا تھا، اب تک اس ٹیکنالوجی کو صارفین تک لانے کے قابل نہیں ہوسکی ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں اس کی قیمتِ فروخت پر توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیٔے، بلکہ ہمیں اس نئی ٹیکنالوجی سے معیشت اور صارفین کو حاصل ہونے والے بیش قدر فوائد اور ٹیکس ریوینیو میں اضافے پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیٔے۔‘‘

پھر بھی انہوں نے اس مؤقف کو تسلیم کیا کہ جس حتمی قیمت پر اسپیکٹرم لائسنس فروخت کیا گیا، اس سے ٹیلی کام آپریٹرز کے پُرجوش ردّعمل کی عکاسی نہیں ہوتی۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کو امید ہے کہ تیزرفتار ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں 2020ء تک ڈھائی کروڑ سے ساڑھے چار کروڑ تک اضافہ ہوجائے گا، جس سے معیشت کو لگ بھگ چار سو ارب روپے اور تیئس ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ اس نئی ٹیکنالوجی کے متعارف کرائے جانے سے ایک لاکھ افراد کے لیے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ای کامرس اور ای سیکیورٹی وغیرہ کے شعبے میں انقلابی تبدیلی آجائے گی۔

معیار میں توسیع اور بہتری کے لیے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

یوفون کے ایک ایگزیکٹیو عامر پاشا کہتے ہیں ’’لائسنس کی زیادہ قیمت آپریٹرز کو اپنے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی و توسیع میں سرمایہ کاری میں تاخیر پر مجبور کردے گی، اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے سروسز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔‘‘

یہ ٹیکنالوجی سری لنکا میں شروع ہونے میں ناکام رہی تھی، جہاں اسپیکٹرم لائسنس کی فیس پاکستان سے کہیں زیادہ مقرر کی گئی تھی۔

چیک ری پبلک میں نیلامی اس وقت روک دی گئی تھی، جب کہ بولی مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ آگے چلی گئی تھی۔ اس لیے کہ بہت زیادہ قیمت اور کمتر معیار کی سروسز کی صورت میں یہ صارفین کے لیے بوجھ بن جاتی۔

ایک اور ٹیلی کام ادارے کے ایگزیکٹیو نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’پاکستان میں فی صارف سے حاصل ہونے والا اوسط ریونیو 2.25 ڈالر ، دنیا میں سب سے کم ریونیو میں سے ایک ہے۔آپ لائسنس فیس کا مکمل بوجھ صارفین پر نہیں ڈال سکتے ہیں۔‘‘