اقتداری سازشیں

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2014

ای میل

کتاب کا نام -- اقتداری سازشون | زبان -- سندھی | لکھاری -- اعجاز مہر | پبلشر -- سندیکا اکیڈمی کراچی | قیمت -- سات سو پاکستانی روپۓ
کتاب کا نام -- اقتداری سازشون | زبان -- سندھی | لکھاری -- اعجاز مہر | پبلشر -- سندیکا اکیڈمی کراچی | قیمت -- سات سو پاکستانی روپۓ

پاکستان کی صحافت میں اعجاز مہر وہ نام ہے جو صحافت کے تمام شعبوں پر مکمل دسترست رکھتے ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار رپورٹر اور کالم نویس کے حوالے سے نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرویو کرنے میں بھی جواب نہیں رکھتے۔

میں نے ان کا ایک انٹرویو بی بی سی ریڈیو پر سنا تھا جو انہوں نے معروف قانون دان بابر اعوان سے کیا تھا. اپنا ایک سوال جس کا جواب دینے سے بابر اعوان گریزاں تھے، مہر صاحب نے چار پانچ بار دہرایا تھا جس پر زچ ہوکر اعوان صاحب بالآخر انٹرویو ادھورا چھوڑ گئے۔

اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کیا جانے والا ان کا انٹرویو بہت مشہور ہوا جس میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ؛

"یہ میثاق جمہوریت ہے کوئی قرآن و حدیث نہیں جس میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکے"


چند مہینوں پہلے سندھی میں ان کے کالموں پر مشتمل کتاب 'اقتداری سازشیں' چھپی۔

کتاب کا نام -- اقتداری سازشون | زبان -- سندھی | لکھاری -- اعجاز مہر | پبلشر -- سندیکا اکیڈمی کراچی | قیمت -- سات سو پاکستانی روپۓ
کتاب کا نام -- اقتداری سازشون | زبان -- سندھی | لکھاری -- اعجاز مہر | پبلشر -- سندیکا اکیڈمی کراچی | قیمت -- سات سو پاکستانی روپۓ


اس کتاب میں دسمبر 1995ء سے لے کر مارچ 2004ء تک کے مطبوعہ کالم شائع ہیں۔ یہ صرف حالات حاضرہ کے کالم ہی نہیں بلکہ سیاسی سازشوں کی ایک چشم کشا تاریخ ہے۔

کتاب کے ابتدایئے میں اعجاز اپنی صحافت میں آمد کے بارے میں جو لکھتے ہیں وہ خاصہ دل چسپ ہے۔ لکھتے ہیں کہ میرے ایک پرانے دوست اشرف خشک مجھے حادثاتی طور پر صحافت میں لے آئے۔ یہ 1989ء کا زمانہ تھا۔ جب وہ 'نوں سج' اخبار میں کمپیوٹر آپریٹر تھا۔

ایک دن مجھے کہنے لگے بے روزگار ہو۔ نوں سج اخبار میں نوکری کرو۔ میں نے پوچھا کس عہدے پر۔ جواباً اشرف خشک نے کہا نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، پروف ریڈر جو بھی مل جائے۔

فی الوقت ان دنوں میں طلبہ سیاست میں سرگرم ہوتا تھا۔ بڑی مونچھیں، نیفے میں پستول کسی کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے۔ میں نے اشرف سے کہا کہ سب سے بڑا عہدہ کون سا ہے؟ وہ بولا ایڈیٹر کا، لیکن ایڈیٹر اخبار کا مالک علی حسین جمالی خود ہے۔

خیر میں نے انٹرویو دیا، جمالی صاحب نے ڈان اخبار کی ایک اچھی خاصی طویل خبر ترجمے کے لیے میرے حوالے کی جس کا ترجمہ میں نے 20 منٹ میں کرکے ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ ششدر رہ گئے۔ کبھی عینک اتارتے اور کبھی دوبارہ پہن لیتے۔ انگریزی خبر دوبارہ پڑھ کر میرا ترجمہ پڑھا اور بولے خوب!

پوچھا تنخواہ کتنی لو گے؟

میں نے دل میں سوچا علی ہوٹل لیاری سےH-1 ویگن میں تبت سینٹر پہنچوں گا، ڈھائی روپے میں آنے جانے کا کرایہ، 10روپے سگریٹ چائے کے پیسے ملا کر سوچا 600 سو روپے میں گزارہ ہوجائے گا۔ جمالی صاحب سے پوچھا آپ کتنے پیسے دیں گے؟ کہنے لگے دیکھیں نیا ادارہ ہے، آپ یوں سمجھیں کہ یہ ایک وظیفہ ہے۔

میں نے دل میں سوچا میں کوئی خیرات لینے تو نہیں آیا، کیا معلوم یہ شخص 200 یا 300 کہہ دے۔ بہرحال میں نے سوچا 500 بھی دے تو ہاں کردوں گا۔

خیر میں نے ان سے پوچھا آپ کتنے دیں گے؟ کہنے لگے یار مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ جمالی صاحب کو اللہ جنت نصیب کرے، شریف انسان تھے تنخواہ بتانے میں تذبذب کا شکار تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ 100 یا 150 دیں گے، کہنے لگے بھائی فی الحال 1500 روپے ماہوار تنخواہ ہوگی، مہینے دو مہینے بعد بڑھا دیں گے، میں نے دل مں سوچا خوب 1500 روپے! اتنی رقم خرچ کیسے ہوگی، دل میں سوچا مزے ہوگئے!

آپ کو اندازہ تو ہو گیا ہوگا کہ اعجاز بہ یک وقت کتنے معصوم اور ہشیار تھے۔

یہ معصومیت اور ہشیاری ان کے کالموں میں بھی نظر آتی ہے۔ اعجاز کے قلم کی کاٹ کا اندازہ 7 فروری 1997 کو انتخابات کے بعد شائع ہونے والے ان کے ایک کالم سے کچھ یوں لگا سکتے ہیں؛

"16 فروری کے دن قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ جس میں شکست خوردہ سابقہ اسپیکر یوسف رضاگیلانی اراکین سے حلف لیں گے۔ لیکن خود رکن کی حیثیت سے حلف نہ لے سکیں گے۔ یہ ان کے لئے قیامت کی گھڑی ہوگی۔"

اس کا اندازہ اسی کو ہوسکتا ہے جو اس کیفیت سے گزرے۔ کچھ ایسے ہی جیسے کسی کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے رکھ دیئے جائیں لیکن ہاتھ پیر باندھ کر کھانے نہ دیا جائے۔

30 جولائی 1998 کو ایک کالم میں لکھتے ہیں؛

"29 فروری کے دن پاکستان نے بھارت کے 3 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 5 ایٹمی دھماکے کئے۔

پاکستان کے 13کروڑ عوام میں سے اکثریت اس بات پر خوش تھی ۔ ہر جانب واہ واہ کی صدائیں تھیں۔ اپوزیشن کو مخالفت کرنے کے لیے کوئی بھی بہانہ نہیں مل رہا تھا ۔ نتیجے میں عوامی اتحاد کی ریلیاں ملتوی ہوگئیں۔ پاکستانیوں میں سلامتی اور تحفظ کا احساس بےدار ہوا۔

قومی یکجہتی والی اس فضا میں بد مزگی اس وقت پیدا ہوئی جب صدر رفیق تارڑ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے عوام کو آئین میں دیا گیا بنیادی حق معطل کرنے کا صدارتی فرمان جاری کیا۔ 28 اور 29 مئی کی درمیانی شب جاری ہونے والے اس فرمان پر عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا اور حکومت مخالفوں کو مخالفت کرنے کا نادرموقع مل گیا۔"

اس طرح کی بے شمار تاریخی اورمعلوماتی سیاسی باتیں ان کے کالموں میں موجود ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ جو بھی اس کتاب کو پڑھے گا اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آشنائی کا ایک خوبصورت موقع ملے گا۔


کتاب کا نام: اقتداری سازشون

زبان: سندھی

لکھاری: اعجاز مہر

پبلشر: سندیکا اکیڈمی کراچی

قیمت: سات سو پاکستانی روپۓ