میران شاہ: تحریک طالبان پاکستان کے گروپوں کی آپس میں ہونے والی لڑائی میں مزید سات عسکریت پسند ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی وزیرستان کے دارالحکومت میران شاہ کے مغرب میں 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قبائلی علاقے واچھا میلا میں ہونے والی ان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سات میں سے پانچ افراد کا تعلق حکیم اللہ محسود گروپ سے ہے۔

عسکریت پسندوں کی جانب سے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اپریل کے بعد سے کمانڈر خالد محسود، الیاس خان سید سجنا گروپ اور طالبان کے چیف حکیم اللہ محسود کے حامیوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 100 کے لگ بھگ عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے محسود گروپ نے تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، جسے پاکستان کی بہترین فوجی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال فروری میں تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد مارچ کے آغاز میں سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا ۔

وزیرستان افغان سرحد کے قریب پاکستان کے سات نیم خود مختارقبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جبکہ امریکہ نے اسے دنیا کا سب خطرناک علاقہ قرار دے رکھا ہے۔

تبصرے (1) بند ہیں

Iqbal Jehangir Jun 06, 2014 06:28pm
عاشق اللہ محسود کی ہلاکت طالبان کی اندرونی لڑائی و طالبان کے متحارب گروپوں کے درمیان جاری لڑائی کا حصہ ہے اور اب یہ لڑائی تھمنے والی نہ ہے کیونکہ سجنا گروپ اب اصل تحریک طالبان ہونے کا دعویدار ہے۔ اب چونکہ سجنا نے تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا علیحدہ گروپ بنا لیا ہےجس سے طالبان کی تنظیم کمزور ہو گئی ہے اور طالبان کی اندرونی لڑائی و شکست و ریخت مزید تیز تر ہو جائے گی۔اس طرح دہشت گرد گروپوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ طالبان ،طالبان سے لڑیں گے۔اس اندرونی چپقلش سے طالبان کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور ان کا خاتمہ یقینی ہو گیا ہے۔ طالبان کے یہ اختلافات طالبان کے لئے بڑا دہچکا ثابت ہونگے اور یہ عضو معطل ہو کر رہ جائیں گے اور ان کے حملہ کرنے کی طاقت کو زبردست نقصان پہنچے گا اور طالبان ایک مربوط و مضبوط تنظیم کی حثیت کھو دینگے۔ قبائلی علاقوں اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ یہ تقسیم طالبان کی کمر ٹوٹنے کے مترادف ہے مزید گروپ بھی کالعدم تحریک طالبان سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے محسود گروپ کی علیحدگی کو تحریک طالبان کیلئے بڑا دھچکا قرار دیاہے، ان کا کہناہے کہ حکومت کیلئے مزید آپشن کھل گئے ہیں ۔ ……………………………………………… طالبان کے 2 گروپوں میں جاری خونریز لڑائی https://awazepakistan.wordpress.com