سعودی عرب: سینما کے لائسنس کی پہلی درخواست

اپ ڈیٹ جون 07 2014

ای میل

مزاحیہ فلم منادی، تیس سال کے دوران وہ واحد فلم تھی، جس کی باضابطہ طور پر سعودی حکام نے اجازت دی تھی۔ —. فائل فوٹو اے ایف پی
مزاحیہ فلم منادی، تیس سال کے دوران وہ واحد فلم تھی، جس کی باضابطہ طور پر سعودی حکام نے اجازت دی تھی۔ —. فائل فوٹو اے ایف پی

ریاض: سعودی عرب کے جنرل کمیشن برائے آڈیو وژول میڈیا کو باضابطہ طور پر ایک سرمایہ کار نے ملک میں سینما گھر کے قیام کے لائسنس کے لیے درخواست دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کاروبار سے متعلق ایک مقامی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کمیشن نے سینما لائسنس کے حصول کے لیے دی جانے والی اس درخواست پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے اور مجوزہ منصوبے کے قابل عمل ہونے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سینما پر پابندی عائد ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ سینما گھروں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کا مجوزہ منصوبہ قابل عمل ہے تو پھر وہ اعلیٰ حکام سے ملک بھر میں سینما گھروں کھولنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

سعودی عرب کی ایک کاروباری ویب سائٹ مآل کے ایڈیٹر انچیف مطلق البوقمی کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لکھا ہے کہ ’’مذکورہ کمیشن اس سرمایہ کار سے اس معاملے پر بات چیت کررہا ہے۔ جو کہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔‘‘

مطلق البوقمی کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب میں سینما گھروں کے قیام میں ناگزیر مسائل درپیش رہیں گے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جو اس خیال کے مخالف ہیں، وہ اس کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔

مطلق البوقمی نے کہا کہ اب سعودی معاشرہ کافی حد تک تبدیل ہوچکا ہے اور سعودی شہریوں کی رسائی دنیا بھر ٹی وی چینلز تک ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ مطالبہ صرف تفریح کے حصول کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے بہت سے معاشی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔‘‘

البوقمی نے غیر سرکاری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی شہری ہر سال بحرین اور دبئی میں فلمیں دیکھنے پر سالانہ ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کردیتے ہیں، اور یہ بہت بڑی رقم ہے۔‘‘

سعودی عرب کے ایک معروف فلم پروڈیوسر اور مسمیر ٹی وی سیریل کے حوالے سے قومی سطح کی شہرت حاصل کرنے والے والے مالک نجر نے مآل کو بتایا کہ ’’سعودی عرب میں سینما گھروں کے قیام سے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔قومی معیشت میں اربوں ریال کا اضافہ ہوگا اور ملک اپنی ثقافت کو برآمد کرسکے گا۔‘‘

اقتصادی ماہرین بھی اس بھاری رقم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی مقامی معیشت کا حصہ بنا کر اس کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے، یہ رقم سعودی شہری پڑوسی ملکوں فلمیں دیکھنے پر خرچ کردیتے ہیں۔

بوقمی نے کہا’’پہلے لوگوں نے ٹی وی کو مسترد کردیا تھا، لیکن اب یہ ان کے لیے تفریح کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’سینما تہذیب وثقافت کا نمائندہ ہے۔ مزید یہ کہ مووی تھیٹر سعودی مملکت کی اقدار کے منافی نہیں ہے۔ فلموں کی نگرانی اور ان کو ریگولیٹ کرکے انہیں قومی ثقافت سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔‘‘