سری لنکا : مذہبی فسادات میں ملوث 49 افراد گرفتار

18 جون 2014

ای میل

سری لنکا کی اسپیشل ٹاسک فورس حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد جنوبی سیاحتی قصبے میں تعینات ہے—۔فوٹو اے ایف پی
سری لنکا کی اسپیشل ٹاسک فورس حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد جنوبی سیاحتی قصبے میں تعینات ہے—۔فوٹو اے ایف پی

سری لنکا : سری لنکن پولیس نے رات گئے ملک کے جنوبی سیاحتی قصبے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث 49 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہاں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے گھروں اور دکانوں کو نذرِ آتش کردیا تھا۔

پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں بدھ مت کے پیرو کار اور مسلمان شامل ہیں۔

یہاں دو روز سے جاری پُر تششد واقعات میں چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سری لنکن پولیس کے ترجمان اجیتھ روہانہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ' ہم پہلے ہی 49 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں ، جن میں سے 25 کا ریمانڈ لیا جا چکا ہے جبکہ آج مزید گرفتاریاں متوقع ہیں'۔

سری لنکا کے مسلم اکثریتی قصبوں بیرووالا اور الوتگاما میں اُس وقت کرفیو نافذ کردیا گیا تھا، جب شدت پسند بدھ متوں نے اتوار اور پیر کی رات یہاں دھاوا بول دیا تھا۔

شدت پسند بدھ متوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے ان کے ایک جلوس پر پتھراؤ کیا تھا۔

شدت پسندوں کی جانب سے اتوار کوالوت گاما پر حملے کے بعد ان علاقوں میں پولیس کی مدد کے لیے فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور پستولوں، پٹرول بموں اور چھری چاقو سے لیس شدت پسند بدھ متوں نے درجنوں دکانوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔

اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے سری لنکا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد مد نی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ' مجھے امید ہے کہ سری لنکن حکومت کی جانب سے اس واقعے میں مزید پیش رفت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے'۔

او آئی سی کے تحت جاری ہونے والے بیان میں ایاد مدنی نے دونوں کمیونٹیوں کے درمیان پُر امن تعلقات قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سری لنکا کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔.

رواں سال جنوری میں اور گذ شتہ سال کولمبو میں بدھ متوں کی جانب سے ایک مسجد پر حملے کے بعد یہ تازہ ترین واقعات ہیں۔

مسلمان سری لنکا کی آبادی کا تقریباً دس فیصد ہیں، لیکن اُن پر قوم پرستوں کی جانب سے بے جا اثرورسوخ کے حامل ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھی اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ کولمبو میں واقع مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔