پاکستان میں تعلیم کی صورتحال اندازوں سے بھی زیادہ بدترین

06 جولائ 2014
---- فائل فوٹو
---- فائل فوٹو

اسلام آباد : پاکستان میں تعلیم کی صورتحال اندازوں سے بھی زیادہ بدترین ہے۔

اس بات کا انکشاف ایک نئی رپورٹ میں ہوا ہے جس کے مطابق تعلیم کے حوالے اراکین پارلیمنٹ اور عام عوام کو دی جانے والی معلومات درست یا نئی نہیں، جبکہ موثر پالیسی سازی سے اجتناب برتا جارہا ہے۔

ملک میں تعلیم کے لیے مہم چلانے والے ادارے 'الف اعلان' کی جانب سے جاری کردہ پاکستان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن رینکنگ 2014ء نامی رپورٹ میں مختلف علاقوں کی کارکردگی کا موازنہ اور تعلیم کی مجموعی صورتحال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

صوبائی رینکنگ میں اسلام آباد اور پنجاب سرفہرست ہیں، جبکہ بلوچستان اور فاٹا کے علاقے سب سے آخر میں ہے۔

ضلعی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے علاقے پنجاب میں ہے جبکہ بدترین کارکردگی والے بیشتر علاقے بلوچستان یا فاٹا میں واقع ہیں۔

اس رینکنگ میں اسکولوں میں داخلے کی شرح، خواندگی، اسکولوں میں رہنے کی مدت، صنفی امتیاز، انفراسٹرکچر اور سہولیات کی دستیاب وغیرہ جیسے مختلف شعیبوں کو مدنظر رکھا گیا۔

یہ الف اعلان کی جانب سے تیار کردہ اس طرز کی دوسری رپورٹ ہے، جس میں یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ چھ اضلاع نے اپنی رینکنگ کے حوالے سے غیرمعمولی سرگرمی دکھائی ہے، ان میں آزاد جموں و کشمیر کا ہٹیاں قابل ذکر ہے جو 2013ءمیں 115 ویں نمبر پر تھا مگر 2014ءمیں یہ 28 ویں پوزیشن پر پہنچ گیا۔ اسی طرح کھاریاں اور گوادر بالترتیب 54 اور 49 پوزیشنوں کی بہتری سے ٹاپ 50 میں شامل ہوگئے۔

مگر یہ خوش آئند زمینی صورتحال کے باعث مستقل طور پر برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

ہٹیاں کے ایجوکیشن آفیسر نور محمد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ 2013ءمیں صورتحال بدتر تھی تاہم ضلع میں تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے کچھ اقدامات پر عمل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اساتذہ کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی اور ان کی ترقیاں ان کے طالبعلموں کی کارکردگی کے ساتھ جوڑ دی گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا تبادلہ واپس انکے آبائی علاقوں میں کردیا گیا تاکہ وہ مسلسل غیرحاضر نہ رہ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہٹیاں کی آبادی چار لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں تین سو تعلیمی ادارے ضلع بھر میں کام کررہے ہیں، انتظامیہ کوشش کررہی ہے کہ ضلع میں کوئی گھوسٹ سکول موجود نہ رہے۔

گوادر کے ضلعی ایجوکیشن آفیسر محمد رضا نے ڈان کو بتایا کہ گزشتہ سال ضلع بھر میں اسکولوں کی بڑی تعداد غیرفعال رہی اور داخلے نہ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران 24 سکولوں کو دوبارہ فنکشنل کیا گیا ہے اور سات نئے اسکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ متعدد اساتذہ خود کے باعث اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھاگ رہے تھے، مگر محکمہ تعلیم نے ان کی ملازمت ان کی حاضری سے مشروط کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ سکولوں میں آئیں۔

انھوں نے بتایا کہ گوادر کی آبادی دو لاکھ 70 ہزار ہے اور یہ شہر بارہ ہزار اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جس میں 259 حکومتی تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں، جن میں 33 ہزار کے لگ بھگ طالبعلم پڑھ رہے ہیں۔ سیکیورٹی مسائل اور ایرانی سرحد کے ساتھ تشدد کے واقعات ہمارے لئے سب سے بڑے مسائل ہیں۔

مگر ہر جگہ رینکنگ میں بہتری نظر نہیں آئی۔

سوات جو 2013ءمیں ٹاپ 30 میں شامل تھا، رواں برس تنزلی کا شکار ہوکر 77 ویں نمبر پر پہنچ گیا۔

سوات کے سابق ایجوکیشن ڈائریکٹر قاسم جان نے ڈان کو بتایا کہ یہ صورتحال ہر گزرتے برس میں مزید بدتر ہوتی چلی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کے پاس اپنے بچوں کو ورکشاپس بھیجنے کے علاوہ کوئی انتخاب موجود نہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی مالی کفالت کرسکیں، یہاں چائلڈ لیبر اور اسکولوں سے اخراج میں اضافہ ہوگیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ آئندہ برس صورتحال رواں سال کے مقابلے میں زیادہ بدترین نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ بیروزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے اور باصلاحیت افراد روزگار کی تلاش میں سوات سے نقل مکانی کررہے ہیں، حکومت نے طالبعلموں کو مفت درسی کتب فراہم کرنے کی کوشش کی مگر وہ مارکیٹ میں فروخت کردی گئیں۔

الف اعلان کے ٹیم لیڈر مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ رینکنگ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے تعلیم پر سیاسی توجہ بڑھائی جائے، اور اس مقصد کے لیے ڈیٹا مختلف ذرائع سے مرتب کیا گیا ۔

مشرف زیدی نے کہا کہ حکومتی ڈیٹا جمع کیا گیا جو پہلے ہی دستیاب تھا اور یہ اس اہم موضوع پر انفرادی سطح پر مباحثوں کے لیے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

یہ ڈیٹا تین ذرائع سے حاصل کیا گیا، ایک ادارہ تعلیم و آگاہی کی تیار کردہ سالانہ ایجوکیشن رپورٹ، دوسرا اکیڈمی فار ایجوکیشن پلاننگ اینڈ منیجمنٹ کا نیشنل ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور تیسرا پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسینڈرڈ سروے رہا، مگر اہم مسئلہ یہ سامنے آیا کہ متعدد کیسز میں ڈیٹا کی معلومات عوام کے لیے بہت پرانی ہوچکی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر رواں برس کی رینکنگ میں ایجوکیشن رپورٹس 2012 اور 2013ءکی تھی، منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا ڈیٹا 12-2011ءاور 13-2012ءکا تھا جبکہ لیونگ سروے رینکنگ بھی 13-2012ءکی تھی، اس کا مطلب یہ ہے اس معلومات کا تجزیہ کرکے جب تک عوام کو فراہم کی جائے گی، زمینی طور پر صورتحال تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں