دیس میں پردیسی

09 جولائ 2014

ای میل

ان بچوں نے سرکٹی لاشیں، ٹارگٹ کلنگ، ڈرون حملے، بم دھماکے، شیلنگ اور اسکولوں کی بندش کو دیکھا ہوا ہے
ان بچوں نے سرکٹی لاشیں، ٹارگٹ کلنگ، ڈرون حملے، بم دھماکے، شیلنگ اور اسکولوں کی بندش کو دیکھا ہوا ہے

اس وقت جب میں بنوں میں ایک ریلیف کیمپ کی جانب پیدل ہی جارہا تھا تو آگ برساتا سورج اور کنکریٹ سے بنے روڈ سے گرمی کی لہر میں مزید شدت نے شمالی وزیرستان کی پہاڑیوں سے بھاگ کر یہاں آنے والے ہزاروں قبائلیوں کے اندر مایوسی کے احساس کو مزید بڑھا رہا ہے۔

راشن کے حصول کے لیے قطار میں لگے اونی چترالی ٹوبیاں، پگڑیوں کے ساتھ کچھ تو کوٹ اور ویسٹ کوٹ میں ملبوس یہ افراد محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ارگرد کا موسم بدل جانے کی پروا نہیں یا ہوسکتا ہے کہ وہ موت کے رقص سے بچ کر نکلنے کے عمل سے ان کے جسم اور روح بے حس ہوکر رہ گئی ہوں۔

وہ بہت تھکے ہوئے اور وحشت زدہ نظر آرہے ہیں۔

میں نے ضیاءاللہ دوار کو لمبی قطار میں ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ تھامے کھڑے دیکھا۔ میں نے اسے بلند آواز میں سلام کیا، جس پر ضیاءاللہ نے منہ موڑا اور قطار سے نکل کر ایک طرف چل پڑا، وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔

مجھے اب بھی اس سے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ہونے والی ملاقات واضح طور پر یا د ہے جو اس کی شادی کے موقع پر ہوئی۔

میں شمالی وزیرستان میں بی بی سی کی جانب سے افغان سرحد سے ملحق ڈنڈدرپہ خیل میں ایف بی آئی کی جانب حقانی مدرسہ پر حملے کی کوریج کے لیے شمالی وزیرستان میں تھا۔ میرے قبائلی صحافی دوست ناصر دوار نے مجھے ایک رات گاﺅں میں گزارنے کا مشورہ دیا، کیونکہ رات کو واپسی کا سفر ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

ناصر مجھے ایک قریبی پہاڑی پر موجود گاﺅں مساکی میں لے گیا، جہاں جشن منایا جارہا تھا، یہ ضیاءاللہ کی شادی کا موقع تھا۔

ہڈیوں میں سرایت کر جانے والی ٹھنڈ میں نوجوان اور بزرگ قبائلی افراد ایک الاﺅ کے گرد بیٹھے پوری بھیڑ روسٹ کرنے میں مصروف تھے، دیگر اپنے سروں کو ڈھول کی تال کے ساتھ جھٹکا دیکر نیم دائرے میں مقبول عطانا رقص کررہے ہیں۔ ضیاءاللہ کے قلعہ نما بہت بڑے گھر کے اندر سے خواتین کو روایتی پشتو ٹپے گاتے سنا جاسکتا تھا۔

ضیاء اللہ، جو ماضی میں ایک ٹرانسپورٹر تھا، ایک ایسا شخص جو اپنے گاﺅں میں سینکڑوں افراد کی دعوت کا اہتمام کرتا تھا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے خوراک کے حصول کے لیے قطار میں کھڑا دیکھا جائے۔

میں ضیاءاللہ سے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے اسی رات دوبارہ ملا، ہم گلے ملے اور صبح کے وقت ریلیف کیمپ میں ایک دوسرے کو دیکھنے کا ذکر تک نہیں کیا۔

ضیاءاللہ کی مسکراہٹ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں سے تبدیل ہوچکی تھی۔ "ہم وہاں روزانہ جیتے تھے اور مرتے تھے، میرا وہ نوجوان کزن جس سے تمہاری میری شادی پر ملاقات ہوئی تھی جہاں وہ دیوانہ وار رقص کررہا تھا، ہلاک ہوگیا؛ عسکریت پسند رنگین شیشوں والی ایک لینڈ کروزر میں مارکیٹ کے بیچ میں رکے، میرے کزن کو اس کی دکان سے کھینچ کر نکالا اور اٹھا کر لے گئے۔ پندرہ روز کے بعد اس کی تشدد زدہ گولیوں سے چھلنی لاش سڑک پر پھینک دی گئی"۔

مساکی گاﺅں اور قریبی بستی ہرمز غیر ملکی عسکریت پسندوں سے بھرے ہوئے تھے مقامی افراد ان علاقوں کو "وزیرستان کا ازبکستان" پکارتے تھے، یہاں تک کہ کچھ دکانوں پر لگے سائن بورڈز بھی ازبک زبان کے تھے۔

ضیاءاللہ نے مجھے بتایا کہ اس کے والد صدیق اللہ اور ماں آدی کا انحصار سکون آور دواؤں پر ہے، جنھیں قبائلی افراد 'ٹینشن کی گولی' بھی کہتے ہیں۔

اس وقت جب ضیاءاللہ اور میں قہوہ کی چسکیاں لے رہے تھے، اس کے بچے ان کاغذوں پر ڈرائنگ بنانے میں مصروف تھے جو میں نے انہیں دیئے تھے۔

ضیاء کی بیٹی بریشینہ ۔۔۔ جلتی ہوئی پہاڑی اور ایک بدصورت چہرے والے شخص کی تصویر بنانے میں مصروف تھے جس نے ہاتھ میں ایک گن اور خنجر پکڑ رکھا تھا۔

اس کا بیٹا عبدالرحمان کچھ ڈرائنگ کرنے کی بجائے کاغذی جہاز بنا رہا تھا، ان بچوں نے سرکٹی لاشیں، ٹارگٹ کلنگ، ڈرون حملے، بم دھماکے، شیلنگ اور اسکولوں کی بندش کو دیکھا ہوا ہے، میرے خیال میں ان معصوم بچوں نے اپنی زندگی قبائلی تشدد کو دیکھتے ہوئے گزار دی جس کا مشاہدہ میری عمر کے بالغ افراد کو بھی نہیں ہوا۔

یہ یادیں ہمیشہ ان کا پیچھا کریں گی، شمالی وزیرستان کے ہزاروں اس طرح کے بچے ان نفسیاتی زخموں کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزاریں گے۔

تمام قبائلی افراد جن سے میری ملاقات ہوئی، اس وقت مشکل سے سانس لے پاتے جب وہ اپنے آبائی علاقوں کے بارے میں بات کر رہے ہوتے۔

ضیاءکے معمر والد نے کہا؛

"میرے باپ دادا کہتے تھے کہ اگر تم اپنی آباؤ اجداد کی زمین چھوڑو گے تو پھر ہمیشہ جپسیز یا کوچیز کی طرح مارے مارے پھرتے رہو گے، کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ گھر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جب میں اپنے آبائی علاقے سے دور ہوا تو میں نے اپنی پہاڑیوں کو آگ میں جلتے دیکھا اور اب جب بھی مجھے وزیرستان کا خیال آتا ہے تو میں ایک ایسی تصویر دیکھتا ہوں جو خون سے تیار کی گئی ہے"۔

ضیاءاللہ خود وہ دن یاد کر رہا تھا جب وہ جلدی میں اپنے گھر کو چھوڑ کر نکل رہا تھا، وہ اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ ٹریکٹر ٹرالی میں بیٹھے اپنے باپ کا انتظار کررہا تھا،

"جب میں نے اندر جاکر اسے آواز دی، تو اس نے کہا کہ 'مجھے پودوں اور درختوں کو پانی دینے دو ورنہ وہ مرجائیں گے' میں نے انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا اور گھر سے باہر لے آیا جہاں میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے"۔ اس کی والدہ لکڑی کے ڈبے میں بند ایک پشیمنہ شال لیکر آئی جو انہیں ان کی دادی نے شادی پر بطور تحفہ دی تھی۔

پانچ لاکھ بے گھر ہوےن والے قبائلی افراد کی طرح ضیاءاللہ کا بھی بنوں تک سفر بہت سخت ثابت ہوا، انہوں نے 22 گھنٹے میں 23 کلومیٹر کا فاصلہ دکھ اور غم کے ساتھ طے کیا، میں نے اس رات ضیاءاللہ کو بھاری دل کے ساتھ اللہ حافظ کہا۔

اگلے دن جب میں دوبارہ بنوں کے ریلیف کیمپ کی جانب چلا، تو دوپہر کا سورج پھر آگ برسا رہا تھا، گرمی کی اس لہر میں، مجھے ضیاءاللہ دوار ایک لمبی قطار میں نظر آیا جو اپنی بیٹی بریشینہ کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔ بچی میری طرف دیکھ کر مسکرائی، میں نے اپنا رخ موڑا اور ریلیف کیمپ سے نکل گیا، تاکہ ضیاءاللہ مجھ سے سلام دعا نہ کرسکے کیونکہ میں بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔