بجٹ اور صحت کا شعبہ

29 جولائ 2014

ای میل

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

ہر سال جون کے مہینے میں بجٹوں کا ایک نیا چکر مکمل ہوتا ہے اور یہ نیا چکر وفاقی بجٹ سے شروع ہوکر صوبائی بجٹوں پرختم ہوتا ہے

اس سال وفاقی بجٹ میں صحت کے شعبہ کی مد میں 26.8 بلین روپیہ مختص کیا گیا ہے- یہ رقم پچھلے سال کے 25 بلین روپیہ کے مقابلے میں تھوڑی سی زیادہ ہے لیکن اگر روپے کی قدر میں کمی کو بھی شامل کر لیں تو اس حساب سے نئے بجٹ میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا ہے- مختص کی گئی رقم کافی عرصہ سے چلنے والے قومی صحت کے 20 پروگراموں جیسے کہ ہپیٹائیٹس، ملیریا اورتپ دق کوکنٹرول کرنے کیلئے خرچ کی جائیگی-

پولیو کے ٹیکوں کے پروگرام پر تازہ زور پاکستان کے بارے میں عالمی تصوراور حکومت کی اس مسئلے پر قابو پانے میں مکمل ناکامی کی بنا پر ہے-

جہاں تک صوبائی بجٹوں کا تعلق ہے، خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صحت کے شعبہ کیلئے 8.28 بلین روپیہ مختص کیا ہے جو کہ 67 جاری اسکیموں اور 26 نئے پروگراموں پر خرچ کیا جائیگا- اس رقم کے علاوہ جو ملیریا، تپ دق اور کینسر کو کنٹرول کرنے اور اس کے علاج کیلئے مخصوص کی گئی ہے، 200 ملین روپے ان ماؤں کی ہمت افزائی کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جو اپنے بچوں کوپولیو کے ٹیکے لگوائیں گی-

اسی طرح، ملک میں بڑھتی ہوئی غیر متوازن غذا کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے الگ سے رقم رکھی گئی ہے- مزید یہ کہ، صوبہ میں ذیابطیس سے متاثر لوگوں کیلئے مفت انسولین کے ٹیکے فراہم کرنے کیلئے 25 ملین روپے کی رقم رکھی گئی ہے، اگرچہ کہ یہ قابل تعریف بات ہے، مگر اتنی کم رقم اتنی بڑی تعداد میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بالکل ناکافی ہے-

حکومت سندھ نے صحت کے شعبہ کیلئے43.58 بلین روپیہ مختص کیا ہے، جو گزشتہ سال کے بجٹ سے 20 فیصد زیادہ ہے- اس سال کے بجٹ میں زیادہ توجہ دواؤں کی فراہمی، ہسپتالوں کی دیکھ بھال اور بنیادی صحت کی نگہداشت پر ہے- اس پر مزید، 489 ملین روپے ماں اور بچے کی صحت کی نگہداشت کے 458 مراکز کیلئے الگ سے مختص کئے گئے ہیں اور 1.76 بلین روپے اس مقصد سےکہ شرح پیدائش کم کرنے کی ترجیحات اگلے تین سالوں میں 30 فیصد سے 45 فیصد تک بڑھائی جا سکیں- صوبہ سندھ کی بجٹ کی خبروں میں، خسرہ کو ترجیح نہیں دی گئی ہے اس کے باوجود کہ یہ مرض صوبہ میں اس سال تباہ کن طریقہ سے دوبارہ ظاہر ہوا ہے-

حکومت پنجاب نے 121.8 بلین روپے صحت کے شعبہ کیلئے مختص کئے ہیں جو گذشتہ بجٹ سے 20.43 فیصد زیادہ ہے- صحت کے بجٹ کی توجہ بنیادی، ثانوی اور اس کے بعد کی صحت کی نگہداشت اور طبی تعلیم کی اصلاح اور بہتری اور اس کو وسعت دینے کی جانب ہے- غذائیت کے حوالے سے پورے صوبے میں پھیلی ہوئی غذائی کمی سے نمٹنے کی کوششیں بھی اس کا حصہ ہیں- دوسری اچھی بات پورے صوبے میں 24 گھنٹے کی ایمرجنسی اور زچگی اور نوزائدہ بچوں کی نگہداشت کی سہولتوں کی فراہمی کی توسیع ہے-

مزید یہ کہ، پانی اور حفظان صحت کے شعبہ کو 17,118ملین روپے دئے گئے ہیں، جو ایک بہت اہم سرمایہ کاری ہے ان معنوں میں کہ ناصاف پینے کے پانی کی وجہ سے جو بیماریاں پھیلتی ہیں ان سے نجات مل سکتی ہے- بلوچستان کی حکومت نے بھی 14.14بلین روپے صحت کے شعبے کیلئے مختص کئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے بجٹ سے 26 فیصد زیادہ- اس نئے بجٹ میں ٹیکوں پر، ہپیٹائیٹس کنٹرول اور اس کے ساتھ دوسری جاری اسکیموں پر اور غریب مریضوں کیلئے مفت دواؤں کی فراہمی پر توجہ دی گئی ہے-

صحت سے متعلق بجٹ میں بڑھائی گئی رقوم کے بارے میں چند اچھی خبروں کے باوجود، چار مشاہدات ہیں جن کا ذکر کرونگا، سب سے پہلے، اس بار کے بجٹ میں جہاں پچھلے بجٹ کے مقابلے میں صحت سے متعلق رقوم کا اضافہ دکھایا گیا ہے وہ اضافی رقوم ہر صوبے اور ہر صوبے کے افسران کے حوالے سے مختلف ہیں-

کیونکہ وہ اضافہ دراصل اس رقم پر ہے جو پچھلے بجٹ میں خرچ کی گئی تھی- اس کا مطلب ہے کہ پچھلے سال کے صحت کے بجٹ پر مختص کی گئی رقم سے کم رقم پر یہ اضافہ کوئی بہت اچھی تصویر پیش نہیں کرتا-

ہمیں بجٹ کی اضافی رقوم کے بارے میں صرف اس وقت پتہ چلے گا جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ کیا مختص کی گئی پوری رقم ادا کردی گئی تھی اور استعمال بھی ہوئی- یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے نہ صرف حکومت کی خرچ کرنے کی بلکہ اس کی پروجیکٹ پر عمل درآمد کرانے کی اہلیت کا بھی پتہ چلتا ہے اوراسکی بھی یقین دہانی ہوتی ہے کہ جن پروجیکٹوں اور اسکیموں کیلئے اضافی رقوم دی گئی تھیں ان کے اہداف پورے ہوئے یا نہیں-

دوسری بات یہ کہ، ان تمام بجٹوں میں جو رقوم دی گئی ہیں وہ ان اسکیموں کو دی گئی ہیں جو پہلے سے جاری ہیں- اس کا مطلب یہ ہے مسائل کی وجوہات کو جان کر ان کو براہ راست ختم کرنے کی بجائے مسائل کو حل کرنے کیلئے پیسے خرچ کئے جارہے ہیں- دراصل صحت کے مسائل کی جانب ایک نیا اندازنظر اپنانے کی ضرورت ہے، زیادہ مربوط، طویل المیعاد اور ایسا پروگرام جو مسلسل اور تواتر کے ساتھ باربار جانچا جائے-

تیسری بات، صحت کے شعبے کی جانب ان تمام بجٹوں میں علاج معالجے کی طرف زیادہ زور ہے- احتیاطی تدابیرکے بارے میں بجٹ کا زیادہ دھیان نہیں ہے یہ بات عوامی صحت کی احتیاطی اسکیموں پربجٹ میں کم رقوم رکھنے سے پتہ چلتی ہے- اس بات کا خیال اگلے سال کے بجٹوں میں رکھنا ضروری ہے-

چوتھی بات، ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، بہرحال، وقت کے ساتھ اس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ عطیات دینے والے کی دلچسپی صحت کے ایسے پروگراموں کی جانب ہونی چاہئے جو مقامی معاونت سے اور طویل المیعاد سونچ پر مبنی ہوں-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: علی مظفر جعفری