اسلام آباد کا تماشا

ای میل

لکھاری امریکہ، ہندوستان، اور چین میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔
لکھاری امریکہ، ہندوستان، اور چین میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

اسلام آباد میں جاری حالیہ واقعات کو کیا سمجھیں؟ ایک گھٹیا مذاق؟ ایک قومی بے عزتی؟ گورننس کی شدید ناکامی؟ ایک بہترین موقع؟ بہتر گورننس اور اصلی جمہوریت کی جانب قدم؟ یا ایک اور عشرے پر محیط غیر آئینی فوجی حکومت کے آنے کی راہ ہموار ہونا؟ کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک ان تمام باتوں میں سے ہر ایک کچھ کچھ درست ہے، لیکن پھر بھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

بہت سے لوگوں کے نزدیک اگر پاکستان میں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا ہے، تو نواز شریف، جو تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں، کو مدّت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ گورننس میں ان کا ریکارڈ شاید بہت اچھا نہیں رہا ہے، لیکن انہوں نے پانچ سال کے مینڈیٹ میں سے ابھی صرف 15 ماہ ہی مکمّل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ گورننس ہمیشہ سیکھتے رہنے کا نام ہے، جبکہ جمہوریت ایک ایسا کام ہے جو کبھی مکمّل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ بل کلنٹن نے 2000ء میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، کہ ایک ناقص اور عیب دار جمہوریت کو صرف ایک بہتر جمہوریت کے ذریعے ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے، نا کہ جمہوریت کی معطلی سے۔

جنرل مشرّف نے کہا تھا کہ وہ سیاستدانوں سے بہتر ڈیموکریٹ ہیں۔ لیکن آئین پاکستان ملک کو درپیش سیاسی مسئلوں کے حل کے لیے غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے پر پابندی لگاتا ہے۔ اس نظریے کے حامی بریکٹ کے ڈرامے "دی لائف آف گلیلیو" کا حوالہ دے سکتے ہیں، جس میں اینڈریا کہتی ہے، کہ "وہ سرزمین ناخوش ہوتی ہے، جس کے پاس کوئی ہیرو نہیں ہوتا "، تو گلیلیو جواباً کہتا ہے کہ "نہیں اینڈریا، وہ سرزمین نا خوش ہوتی ہے، جس کو ہیروز کی ضرورت ہوتی ہے"۔ نواز شریف کے حامی بھی انورن بیون کی سیاسی مخالف کی تعریف کا حوالہ دے سکتے ہیں، جس کے مطابق سیاسی مخالف "سخت خوفزدہ نوبالغ ہوتا ہے"۔

اس نظریے کے تحت عمران خان اور طاہر القادری دونوں ہی اپنے اقدامات کے ذریعے آئینی جمہوریت اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ وہ اپنی غصّے اور ہیجان پر مبنی سیاست کے ذریعے اپنا اور ملک کا تماشا بنا رہے ہیں۔ ان کے بڑھتے ہوئے مطالبات، جن کے ساتھ دھمکیاں بھی بڑی تعداد میں ہیں، صرف یہ بتاتے ہیں کہ ان دونوں کو کسی بھی قیمت پر طاقت حاصل کرنی ہے۔ یہ جمہوریت سے زیادہ فاشزم ہے۔ یہ قائد اعظم کے اس فلسفے کے خلاف ہے، جس کے تحت تمام سیاسی تحریکوں کو آئینی طریقہ کاروں پر کبھی بھی کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے، اسی لیے انہوں نے گاندھی کی سول نافرمانی کی اپیل کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

نوم چومسکی کے مطابق جمہوریت کی ایک "کامن سینس" یا ڈکشنری معنیٰ ہیں، جبکہ ایک اصلی زندگی میں ہے، جو کہ ڈکشنری میں پائے جانے والے مطلب سے مختلف ہے۔

ڈکشنری میں جمہوریت کی تعریف یہ ہے، کہ "ایک معاشرہ اس حد تک جمہوری ہے، جس قدر اس کے لوگوں کو پبلک پالیسی بنانے میں حصّہ لینے کے مواقع حاصل ہیں"۔ ایسا ہونے کے لیے بہت سارے راستے موجود ہیں، لیکن جب تک یہ درست ہے، تب تک معاشرہ جمہوری ہے۔

لیکن حقیقی دنیا (روایتی پاکستان کا بھی کہہ سکتے ہیں) میں اس کا مطلب اوپر سے نیچے تک ایک ایسی جمہوریت ہے، جس میں مؤثر کنٹرول طاقت کے روایتی اسٹرکچر کے پاس ہی رہتا ہے۔ چومسکی مزید کہتے ہیں، کہ اگر عوام کے کچھ گروہ خود کو منظم کر کے عوام میں پذیرائی حاصل کرنا چاہیں، تو کنٹرول رکھنے والوں کے لیے یہ جمہوریت نہیں، بلکہ ایک بحران ہے۔

عمران خان اور طاہر القادری ان کے حامیوں کے نزدیک کامن سینس جمہوریت کے لیے کوشش کر رہے ہیں، جس سے عام لوگوں کو اختیار و آزادی ملے گی۔

اس نظریے کے تحت نواز شریف اور ان کے جیسے لوگ طاقت کے روایتی اسٹرکچر والی جمہوریت کے نمائندوں کی حیثیت رکھتے ہیں، "بدترین گورننس والی فراڈ جمہوریت"، جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ رہی ہے۔ یہ پیسے اور طاقت کے زور پر حکومت کرنا ہے، جس میں آئینی اختیارات سے مجرمانہ حد تک تجاوز شامل ہے۔ اس کی وجہ سے کامن سینس جمہوریت کے لیے کسی بھی تحریک کے چلائے جانے کا امکان خارج ہوجاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت کامن سینس جمہوریت کے دونوں دعویدار (کچھ کے نزدیک قادری سے زیادہ عمران خان) ہی امید کی وہ کرن ہیں، جو ریاست پاکستان کو ناکام ہونے سے بچا سکتی ہے۔

بہت سارے لوگ، جو عمران خان کی بحیثیت سیاسی لیڈرخامیوں سے واقف ہیں، انھیں تبدیلی کے لیے ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لوگوں کو ان کے حقوق، اور کامن سینس جمہوریت کے لیے منظم ہونے کی ان کی قابلیت سے آگاہ کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ صرف یہی وہ طریقہ ہے، جس کے ذریعے آئینی جمہوریت کے نام پر استحصال کرنے والوں کے مفادات پر عوامی مفادات کے ایجنڈوں کو فوقیت دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، عمران خان کے حامی دلیل پیش کرتے ہیں، کہ عمران خان کے پاس پاکستان کے لیے ایک ویژن ہے، جس کے لیے وہ متحرک ہیں، جبکہ نواز شریف کے پاس طاقت حاصل کرنے اور اپنے گھرانے کو مراعات دلوانے کے علاوہ کوئی ویژن نہیں ہے۔ وہ شاید بائبل کے ان دو جملوں پر اتفاق کریں، کہ "جہاں ویژن نہیں ہوتا، وہاں عوام تباہ ہوجاتی ہے"، اور "عظیم لوگ ہمیشہ عقلمند نہیں ہوتے"۔

تو، ہم کس جانب بڑھ رہے ہیں، اور کس چیز کی امید کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے تو ہمیں کلیئر ہونا پڑے گا، کہ نواز شریف کبھی بھی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے، کہ وہ روایتی طاقت کے اسٹرکچر والی جمہوریت کی نمائندگی کرتے ہیں، اور یہ کہ ان کی گورننس ناقابل تلافی رہی ہے۔ نا ہی یہ واضح ہے، کہ آیا مشہور مقولے "سردار کو قبیلہ بتاتا ہے کہ حکومت کس طرح کرنی ہے" کے مطابق عمران خان کے پاس لیڈرشپ کی صلاحیتیں موجود ہیں۔

ان کو اپنے بنیادی مطالبات پر کمپرومائز کیے بغیر اپنا فوکس نواز شریف سے آگے بڑھانا ہوگا۔ انھیں بے سوچے سمجھے بیانات جاری کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے ان کے حامیوں کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ انھیں یہ تسلیم کرنا چاہیے، کہ سپریم کورٹ کا تعینات کردہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم نواز شریف کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا، خاص طور پر تب جب ماڈل ٹاؤن واقعے کی ایف آئی آر نامزد ملزموں کے خلاف درج کی جا رہی ہیں۔

عام انتخابات سے کچھ پہلے ہی عمران خان نے اپنی پارٹی کو "سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی حامی جماعت" کے بجائےانتخابات میں فتح دلانے کے لیے منظم کیا۔ انہوں نے انتخابات میں اچھی کامیابی حاصل کی، لیکن اتنی نہیں جتنے کی امید کی گئی تھی۔ اور بہت اچھی اگر کھیل بدل دینے والا فراڈ بیچ میں نا ہوتا۔ ہمیں جلد ہی پتا لگ جائے گا۔ اگر فراڈ ثابت ہوگیا، تو نواز شریف کا استعفیٰ اور نئے انتخابات ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کی جیت یا ہار ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی، کہ وہ کامن سینس جمہوریت کے لیے اپنی تحریک کو کس طرح بحال کر سکتے ہیں، جس پر سے انہوں نے اپنی توجہ غیر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہٹا لی ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری امریکہ، ہندوستان، اور چین میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 26 اگست 2014 کو شائع ہوا۔