پاکستانی جمہوریت کی نازک ڈور

29 ستمبر 2014

ای میل

— فوٹو بشکریہ www.npr.org
— فوٹو بشکریہ www.npr.org

مانا کہ جمہوریت ایک بہت بُرا طرزِ حکومت ہے۔ اس میں پیسے والے، سرمایہ دار، جاگیر دار، اور مختلف شعبوں کے مافیاز ہی جیت کر اسمبلیوں میں جاتے ہیں۔ سیاست دان اگر خود ان صفات سے محروم ہوں تو وہ ان طبقات سے گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور مل کر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

نعرے عوام کی فلاح کے لگتے ہیں، تقریریں عوامی مسائل حل کرنے کی ہوتی ہیں، انتخابی مہموں میں سہانے خواب عوام کو دکھائے جاتے ہیں، لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد مراعات یافتہ اشرافیہ کی طاقت کو مزید بڑھایا جاتا ہے، اس کی دولت اور اس کے ماخذ محفوظ بنائے جاتے ہیں، اقتدار پر اس کی گرفت مزید مضبوط بنائی جاتی ہے۔

پھر جمہوریت بھی موروثیت سے مکمل طور پر عاری نہیں، باپ بادشاہوں کی طرح حکومت کرتے ہیں اور پھر اپنی ساری سیاسی وراثت آگے اپنی نئی نسلوں کو منتقل کر دیتے ہیں۔ میں جمہوریت کی خامیوں کی ایک لمبی فہرست پیش کر سکتا ہوں، اتنی لمبی کہ پورا بلاگ اس کی نظر ہو جائے لیکن یہ میرے آج کے بلاگ کا مقصد نہیں ہے۔ میرا آج کا موضوع تو اسی بُرے طرز حکومت کا دفاع کرنا اور اس کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔


پڑھیے: سیاست اور اخلاقیات


موجودہ شکل میں جمہوریت کا تصور مغربی دانشوروں اور سیاستدانوں کی ایجاد ہے ۔ وہاں جمہوریت ایک لمبے ارتقائی عمل سے گزر کر وجود میں آئی اور نہ صرف خود کامیابی سے چل رہی ہے، بلکہ مغربی ممالک کو بھی ہر طرح کی دنیاوی کامیابیوں سے ہمکنار کر چکی ہے۔

لیکن جمہوریت کے موجد بھی اسے بہت اچھا طرزِ حکومت قرار نہیں دیتے۔ چرچل نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف سب سے بڑی دلیل کسی اوسط درجے کے ووٹر کی پانچ منٹ کی گفتگو ہے۔ جارج برنارڈ شا کے مطابق جمہوریت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جیسے ہم ہیں، ہم پر ویسی ہی حکومت کی جائے، اور اس سے بہتر بالکل بھی نا کی جائے۔ آسکر وائلڈ کا خیال تھا کہ جمہوریت کا مطلب ہے لوگوں کا ڈنڈا، لوگوں کے لیے، لوگوں کے سر۔ لیکن جمہوریت کی ساری قباحتوں کا جواز چرچل ہی کے ایک قول سے فراہم ہوا کہ جمہوریت بدترین نظامِ حکومت ہے، ماسوائے باقی تمام طرز ہائے حکومت کے جو آج تک آزمائے گئے ہیں۔

مغرب کے برعکس ہمارا جمہوریت کے ساتھ تعارف ذرا مختلف طریقے سے ہوا۔ ہمیں جمہوریت کا ابتدائی سبق تاریخ کی سب سے بڑی استعماری قوت نے برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کو دبانے اور اندر سے کنٹرول کرنے کے لیے پڑھانا شروع کیا۔ ہمارے اوپر جمہوریت ایک ہموار ارتقائی عمل کی بجائے جھٹکوں کی شکل میں وارد ہوئی، بلکہ ابھی تک وارد ہو رہی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کافی عرصے تک عملی طور پر جمہوریت کے اوپرایک اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا۔ 1973 کے متفقہ آئین کے بعد یہ اتفاقِ رائے سامنے آگیا۔

ابھی اسے عملی طور پر قومی شعور میں راسخ ہونا تھا کہ مردِ مومن مرد حق جنرل ضیا الحق نے بندوق کی نوک پر اس اتفاقِ رائے کو اپنے بوٹ کے نیچے روند ڈالا۔ اس مردِ مومن نے دس گیارہ سال تک اس اتفاقِ رائے کو قومی شعور سے مٹا دینے کی بھرپور کوشش کی، اور یہ فرض اس کے بعد جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی، جنرل حمید گل، جنرل مشرف اور جنرل شجاع پاشا ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے، حتیٰ کہ ہم ایک سویلین سیاسی حکومت کی مدت پوری ہونے پر دوسری سویلین سیاسی حکومت کو اقتدار کی پر امن منتقلی کا امتحان پاس کر گئے۔

لیکن جمہوریت کا یہ سفر ابھی تک ابتدائے عشق والی بات معلوم ہوتا ہے جسے آگے آگے’’ بہت کچھ ‘‘ لاحق ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔


مزید پڑھیے: اجتماعی سیاسی قبر


جمہوریت کو سب سے فوری خطرہ مردِ مومن مردِ حق جنرل ضیاالحق اور روشن خیال جنرل مشرف والی سوچ سے ہے۔ یہ سوچ عوام کی منتخب نمائندہ حکومت کو حاضر سروس آرمی چیف کی لگام کے نیچے رکھنے کی قائل ہے۔ موجودہ حکومت کو وجود میں آئے ابھی ایک سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ اچانک ایک ارتعاش سا محسوس ہونے لگا، جو چند ہی ہفتوں میں ایک زلزلے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے جھٹکوں سے کافی کچھ ہل کر رہ گیا اور آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

قریب تھا کہ بڑے پیمانے پر تباہی ہو جاتی لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔ لیکن کئی ایک دفاعی ماہر بڑے وثوق سے پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ یہ زلزلے اب رکیں گے نہیں، پھر آئیں گے اور بار بار آئیں گے۔

اسکرپٹ رائٹرز، لندن پلان، آزادی اور انقلاب مارچ، ڈی چوک دھرنے؛ سب کے سب جمہوریت کو لاحق فوری خطرات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اجتماعی شعور میں فوجی آمریت کے خلاف بغاوت کے جذبات کافی توانا ہو چکے ہیں اس لیے جمہوریت کو اگرچہ اس طرز کا فوری خطرہ موجود ہے لیکن مجموعی طور پر اس کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ اس لیے فوجی آمریتوں سے جمہوریت کو کسی طویل المدت خطرے کے امکانات اب کافی کم ہیں۔

جمہوریت کو سب سے بڑا اورطویل المدتی خطرہ اس مذہبی فکری چیلنج سے ہے جو جمہوریت کو کفر کا نظام گردانتا ہے۔ اس سوچ کی مطابق مسلمانوں کی مغرب کے ہاتھوں غلامی کی وجہ یہ مغربی نظام ہے جس کی مدد سے مغرب نے مسلم امہ کو اپنا تابع بنا کر رکھا ہوا ہے۔ پاکستان میں درجنوں ایسی مذہبی تنظیمیں عشروں سے ایک انقلاب کے لیے کام کر رہی ہیں جو ان کے خیال میں مثالی اسلامی نظام کو قائم کرے گا۔

ان میں سے کچھ تنظیمیں تبلیغ اور تدریس تک محدود رہیں اور کچھ جہاد کے راستے پرچل نکلیں۔ پھر کچھ بین الاقوامی اسلامی تحریکوں نے بھی پاکستان میں اپنے افکار کی تبلیغ کی اور آج یہاں ایک پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان تمام تنظیموں کے طریقہ کار میں وقتی اختلافات نظر آئیں گے لیکن فکری اعتبار سے ان میں ایک قدرِ مشترک ان کی جمہوریت دشمنی ہے۔ یہ فکرعوام کے حقِ رائے دہی کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ مسلح جدوجہد کے ذریعے حکومت پر قبضہ کر کے اسلامی ریاست قائم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

افغانستان میں نوے کی دہائی میں قائم ہونے والی طالبان حکومت اور اب شام اور عراق میں داعش کی طرف سے قائم کی جانے والی اسلامی ریاست اسی فکر کی عملی شکلیں ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو اس خطرے کی شدت کا درست طریقے سے ادراک نہیں اور نہ ہی وہ اس سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار نظر آتی ہیں۔


مزید پڑھیے: بڑے بوٹ اور چھوٹے بوٹ


جمہوریت کو تیسرا خطرہ اندر سے ہے۔ جمہوریت کے دعویدار سیاستدان جو اس جمہوریت کا راگ الاپ الاپ کر ریاستی طاقت پر کنٹرول حاصل کرتے ہیں اور ہر طرح کے مفادات اور فوائد حاصل کرتے ہیں، خود جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ کرپشن، نااہلی میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ عوامی مفادات کو اس بری طرح نظر انداز کرتے ہیں کہ عوام میں بددلی پیدا ہو جاتی ہے۔ پارلیمنٹ میں سوائے قانون سازی کے سب کچھ ہوتا ہے۔ حزب اقتدار میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، عوامی مسائل سے متعلق قانون سازی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں، سب کی نظریں ریاست کے انتظامی ستون پر جڑی رہتی ہیں۔

پارٹیوں کے اندرآمریتں قائم ہیں، موروثی سیاست جمہوری کلچر کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ غلط بیانیوں اور جھوٹے وعدوں کا دور دورہ ہے، نا کوئی عار محسوس ہوتی ہے اور نہ ندامت۔ عوامی مسائل ہمارے جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاستدانوں کی دولت اور طاقت کی طرح بڑھتے جارہے ہیں۔ جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتیں بار بار اقتدار میں رہنے کے باوجود عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عوامی سطح پر جمہوری طرزِ حکومت پر سے لوگوں کا یقین تقریباً اٹھ گیا ہے۔ لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ ہمارے مسائل غربت، بیروزگاری، مہنگائی ہیں ۔ جمہوریت آ رہی ہے یا جمہوریت جا رہی ہے، ہمیں اس سے کیا لینا دینا ،ہمیں تو اپنی زندگیوں میں تھوڑا ساسکون چاہئے جو ہمیں نہیں مل رہا۔