مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ پر کچھ سوالات

21 اکتوبر 2014

ای میل

معیشت کے بارے میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کے بجائے سارا ملبہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں، اور سیلاب پر ڈالا جارہا ہے۔
معیشت کے بارے میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کے بجائے سارا ملبہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں، اور سیلاب پر ڈالا جارہا ہے۔

Fiscal Liberalisation سے کیا مراد ہے؟ اسٹیٹ بینک کی ستمبر کی مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق اس سے مراد وہ حالات ہیں، جب بجٹ خسارہ سکڑتا جائے، حکومتی قرضوں میں کمی واقع ہو، اور قرضوں کی پروفائل میں بہتری آئے۔ میں سمجھا تھا ان سب کے لیے stabilisation کا لفظ استعمال ہوتا ہوگا۔ لیکن مجھے کیا معلوم، میں تو صرف ایک صحافی ہوں۔

اگر پالیسی اسٹیٹمنٹ کو دوسرے سال کے اکنامکس کے طلبا نے لکھا ہوتا، تو زبان کے اس آزادانہ استعمال پر کچھ مارکس ضرور کاٹ دیے جاتے۔ آخر کار لفظوں کے اپنے مخصوص معانی ہوتے ہیں۔ لیکن مالیاتی پالیسی کسی طالبعلم نے نہیں لکھی، بلکہ یہ ملک کے مرکزی بینک نے لکھی ہے، جہاں سے ملک کے اقتصادی معاملات طے ہوتے ہیں۔

اچھا چھوڑیں، لفظوں پر بحث نہیں کرتے کیونکہ ہر کوئی غلطی کر سکتا ہے، یہاں تک کہ مرکزی بینک کے عہدیدار بھی۔ لیکن آئیں ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں، کہ اسٹیٹ بینک کس طرح اس مشکل وقت میں ملک کی اقتصادی صورتحال بیان کرتا ہے۔

جنوری سے لے کر اب تک حکومت اس بات پر مصر ہے، کہ 2008 سے جاری "کم ترقی و پیداوار، اور زیادہ مہنگائی " کی صورتحال میں بالکل متضاد شفٹ آیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی تیسری سہہ ماہی رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ پاکستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے، اور کئی سالوں میں پہلی بار معیشت نے 4 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔

اب ہمیں دو باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

ایک تو یہ کہ حکومت کی جانب سے جس متضاد شفٹ کا دعویٰ کیا جارہا ہے، اس کا اختتام کہاں ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اسلام آباد میں جاری تماشے نے اس سب کو کس طرح نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دو مختلف لیکن آپس میں مربوط سوال ہیں۔

جولائی میں شائع ہونے والی سہہ ماہی رپورٹ کا اگر غور سے مطالعہ کریں، تو معلوم ہوگا کہ حکومت کا یہ خیالی شفٹ وہ نہیں ہے، جو بتایا گیا ہے۔ سہہ ماہی ڈیٹا کے مطابق گذشتہ مالی سال کی تیسری سہہ ماہی میں سال بہ سال بڑے پیمانے پر پیداوار، یا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ تیزی سے کم ہوئی ہے۔

ان نمبروں پر غور کریں، تو یہ واضح ہوجاتا ہے، کہ زیادہ تر گروتھ حکومت کے ابتدائی دنوں میں پاور سیکٹر کو دیے گئے 500 ارب روپوں پر منحصر رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں، جہاں سے گروتھ میں سب سے زیادہ بڑھوتری آئی ہے، وہاں ترقی کی شرح پہلے نصف میں 6.5 فیصد سے گر کر تیسرے کوارٹر میں 0.5 فیصد ہوگئی ہے۔

حقیقت میں ایکسپورٹس، سرمایہ کاری، اور صنعتوں کی قابلیت کا استعمال وغیرہ اسلام آباد میں اس سب تماشے کے شروع ہونے سے کافی پہلے سے ہی تنزلی کا شکار تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو اپریل اور مئی میں بڑھے، ان کے بارے میں بھی اسٹیٹ بینک نے یہی کہا تھا کہ "مثبت ترقیوں کا یہ تسلسل 2001 سے لے کر اب تک دیکھنے میں نہیں آیا ہے"، لیکن اصل کہانی اتنی زیادہ خوشگوار بھی نہیں ہے۔

کچھ ہی لائن بعد اس نے نیچے لکھا کہ بنیادی امور پر توجہ دیں، تو اتنی بہتری نظر نہیں آتی، اور اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں وارننگ بھی دی، کہ بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کی وجہ سے یہ ضروری ہوگیا ہے، کہ معیشت کی زرمبادلہ حاصل کرنے کی قابلیت کو بڑھایا جائے۔

جولائی میں جاری ہونے والی تیسری سہہ ماہی رپورٹ میں ان تمام مسائل پر بھلے ہی احتیاط کے ساتھ، مگر لیکن انگلی اٹھائی گئی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے، کہ ترقی کے بارے میں حکومت کی کہانی اسلام آباد میں تماشہ شروع ہونے اور سیلاب کے تباہی مچانے سے پہلے ہی کمزور ہوگئی تھی۔ تو اب ہم سب یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں، کہ ستمبر میں معاملات کہاں ہیں؟

ہمیں مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں اس بات کا جواب نہیں ملا۔ اس کے برعکس پالیسی اسٹیٹمنٹ نے تو ایک بالکل ہی مختلف کہانی کی بنیاد رکھ دی، وہ یہ کہ سیلاب اور دھرنوں سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن اب سب کچھ تباہی کی طرف جانے لگا ہے۔

ایک ایسی اسٹیٹمنٹ، جو اس بات سے شروع ہو، کہ "پچھلے کچھ مہینوں میں ہم نے معاشی صورتحال میں استحکام دیکھا ہے"، اور یہ کہ "حقیقی معاشی سرگرمیاں پورے مالی سال میں جاری رہنے کا امکان ہے"، سے ہم اور کیا مطلب نکالیں؟

ہمیں بتایا جارہا ہے، کہ معیشت کو اب صرف ایک رسک ہے، اور وہ آئی ایم ایف کی جانب سے اگلی قسط کے اجراء میں تاخیر، سیلابوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی، اور اگلے کچھ مہینوں میں پلان کردہ bond floatation and divestment کی ناکامی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی لفظ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ گذشتہ مالی سال کی ترقی کے اندر کیا خامیاں رہ گئی ہیں۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ external current account deficit میں تجارتی خسارہ غالب رہے گا۔

ایک اور جگہ پر لکھا گیا ہے کہ ترقی کی شرح قطعی طور پر زراعت پر منحصر ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ، جس نے پچھلے سال ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس سال توانائی کے بحران، آئی پی پیز کی پیداواری صلاحیت میں کمی، کھاد فیکٹریوں کو گیس فراہمی میں کمی، چینی کی مقامی اور عالمی مارکیٹ میں کم ہوتی قیمت، اور خوراک اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں کم ہوتی برآمدات سے کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہے گی۔

اس پچھلے پیراگراف کو دوبارہ پڑھیں، تو آپ یہ دیکھ سکتے ہیں، کہ یہ ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹیں ہیں، جس کی وجہ سے ترقی تناؤ کا شکار رہے گی۔ اور شاید ہی ان میں سے کسی مسئلے کا سیلاب یا دھرنوں سے لینا دینا ہے۔ اس کے باوجود اس پیراگراف میں جو آپ نے پڑھا ہے، اس سے زیادہ پنہاں ہے۔

کچھ حد تک یہ قابل فہم بھی ہے۔ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ کو پریس میں کافی سنسنی کے ساتھ لیا گیا، جو کہ ان حالات میں ہونا بھی تھا۔ لیکن اپنی کمزوریوں سے نظریں چرا کر سارا الزام سیلاب اور دھرنوں پر ڈال دینا شاید صرف اس لیے ہے، تاکہ اسلام آباد اپنے آپ کو تسلی دے سکے، بجائے اس کے کہ زمینی حقائق کو قبول کیا جائے۔ صرف امید ہی کی جاسکتی ہے کہ اگلی مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ یا سالانہ رپورٹ میں ہمیں زیادہ جامع اور معیشت کو لاحق مسائل کا ایک شفاف تجزیہ ملے گا۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر @khurramhusain کے نام سے لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 25 ستمبر 2014 کو شائع ہوا۔