بدصورت چہرہ

25 اکتوبر 2014

ای میل

ترقی پسندوں کو انسدادِ دہشتگردی قوانین کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دایاں بازو دہشتگردی کرنے میں آزاد ہے۔
ترقی پسندوں کو انسدادِ دہشتگردی قوانین کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دایاں بازو دہشتگردی کرنے میں آزاد ہے۔

نوبیل پرائز کمیٹی کی جانب سے ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے کے اعلان کے بعد پاکستان میں کئی تبصرے دیکھنے میں آرہے ہیں، لیکن اس میں سب سے زیادہ عجیب تبصرہ اس طرح ہے کہ "آخرکار پاکستان بھی کسی مثبت چیز کے لیے پہچانا گیا ہے"۔

اسی تبصرے میں تھوڑی تبدیلی کے ساتھ شرمین عبید چنائے کو ملالہ کے ساتھ دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے طالبان اور ان کے حامیوں کی جانب سے قائم کردہ ملک کے منفی تاثر کے مقابلے میں ایک اچھی امیج پیدا کی ہے۔

ظاہر ہے کہ اچھی اور بری امیج کی بحث ضروری ہے، اور اچھا ہوگا کہ ہم شروع اس سوال سے کریں، کہ یہ امیج بنا کون رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمیں کیوں اس بات کی ضرورت پیش آئی، کہ ہم عالمی برادری، جو کہ سامراجی جنگیں روکنے کے بجائے چھیڑنا زیادہ پسند کرتی ہے، کا انتظار کریں کہ وہ ہمارے ہیروز پر انعامات کی برسات کرے۔ کیا ہمیں یہ پہلے نہیں کر لینا چاہیے تھا؟ اسی طرح کیا ہم دہشتگردی پر ان ماہرین کی باتیں تسلیم کریں جو پوری دنیا میں سیاسی فوائد والی اس دہشتگردی کو صرف پاکستان کا مسئلہ بنا کر پیش کرتے ہیں؟

اس سے بھی زیادہ اہم یہ، کہ کیا اچھے اور برے کا یہ مقابلہ پاکستان کی ساری نمائندگیوں میں موجود ہے؟ میرے خیال میں پاکستان کا ایک تیسرا چہرہ ہے، جو ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ اور آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ یہی وہ چہرہ ہے، جو سب سے زیادہ نمائندگی کرنے والا ہے۔

آصف علی زرداری کے اس دعوے، کہ پاکستان کی جیلوں میں موجود تمام سیاسی قیدیوں کو پی پی پی کے دورِ حکومت میں رہا کردیا گیا تھا، سے قطع نظر، اب صرف کچھ مٹھی بھر شرپسند ہی ملک کی جیلوں میں موجود ہیں۔ میں ان دائیں بازو کے دہشتگردوں کی بات نہیں کر رہا جو گرفتار ہونے کے بعد بھی باآسانی چھوٹ جاتے ہیں (گذشتہ سال کے بنوں جیل کی طرح)، بلکہ وہ ترقی پسند، جنہیں طویل عرصے کے لیے تنہا کردیا جاتا ہے، جہاں نا ان کے نام کے نعرے لگانے والا کوئی ہوتا ہے، اور نا ہی انہیں چھڑانے والا۔

پچھلے مہینے ہنزہ کے ایک سیاسی کارکن بابا جان کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کا جرم کیا تھا؟ اس پر لگائے گئے الزامات کے مطابق بابا جان نے ہنزہ میں امن کو خطرے میں ڈالا۔ اس پر خاص طور پر 2011 کے اوائل میں مقامی حکام کے خلاف ایک مشتعل ہجوم کی قیادت کرنے، اور کئی سرکاری عمارات نذرِ آتش کرنے کا الزام ہے۔

لیکن اگر حالات کا صحیح تناظر میں جائزہ لیں تو ایک اور ہی کہانی سامنے آتی ہے۔ ہنزہ کے وادی گوجال میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بابا جان جنوری 2010 میں مشہور ہونا شروع ہوا۔ اس نے عطاآباد جھیل کی طرف توجہ دلانی شروع کی، جس کا اخراج ویسے تو دریائے ہنزہ میں ہوتا ہے، لیکن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اس کا پانی اپ اسٹریم کی جانب جانا شروع ہوگیا تھا۔ بابا جان نے شدید سیلاب، دیہاتوں کی تباہی، اور جان و مال کے نقصانات سے بچنے کے لیے بہت آواز اٹھائی، لیکن حکام نے توجہ نہیں دی، اور تباہی بالکل سر پر منڈلانے لگی۔

بعد کے مہینوں میں بابا جان اور اس کے ساتھیوں نے مقامی حکام کے خلاف عطاآباد جھیل کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے مظاہرے کیے۔ ہنزہ کے علی آباد علاقے میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے فائر کھول دیا جس سے دو غیر مسلح لوگ مارے گئے۔ اس کے جواب میں مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت کو آگ لگا دی۔

بابا جان اس دن موجود نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود حکام نے اسے اس پورے معاملے میں گھسیٹا۔ اسے گلگت جیل میں بند کردیا گیا، جہاں اس نے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ دو سال قید کاٹی۔

کچھ وقت بعد جب یہ واضح ہوگیا کہ اس کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا، تو بابا جان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ لیکن اس نے اپنی جدوجہد چھوڑی نہیں، اور گندم پر سبسڈی کے خاتمے کے خلاف گلگت بلتستان میں عوامی شورش کا آغاز کیا۔ اس کے جواب میں قانون کی حکمرانی پھر ایکشن میں آئی، اور بابا جان کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا۔

بابا جان اور اس کے ساتھی انسدادِ دہشتگردی قوانین کے تازہ ترین شکار ہیں۔ ترقی پسند ٹریڈ یونینسٹس کو 2011 میں 490 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی کیونکہ انہوں نے فیصل آباد میں پاور لومز ورکروں کو آرگنائز کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک 70 سالہ ترقی پسند مزدور رہنما بھی دو سال سے شیخوپورہ جیل میں بند ہیں کیونکہ انہوں نے ڈیرہ سیگول فارم سے لوگوں کی بے دخلی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

پاکستان کے اچھے اور برے چہرے خبریں بناتے ہیں، لیکن ریاستی طاقت کا یہ بدصورت چہرہ اور اس کی زیادتیاں سب سے زیادہ لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جب ترقی پسندوں کو انسدادِ دہشتگردی قوانین کا بلا روک ٹوک نشانہ بنایا جاتا ہے، تب ہی دایاں بازو بلا روک ٹوک اپنی دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہے۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ پستے وہ لوگ بھی ہیں، جنہوں نے تھانیداروں، پٹواریوں، اور مجسٹریٹوں کے خلاف کبھی کچھ تبدیل کرنے کی کوشش تک نہیں کی۔ دوسری طرف بلوچوں اور سندھی قوم پرستوں کی سڑک کنارے پھینک دی جانے والی مسخ شدہ لاشیں۔

پاکستان کا یہی بدصورت چہرہ ہے، جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کہتا۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 17 اکتوبر 2014 کو شائع ہوا۔