چین: مسلم بچوں کو مذہب سے دور رکھنے کی کوشش

29 اکتوبر 2014

ای میل

چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کے اسکولوں میں اساتذہ اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسکول یا گھر پر مذہبی روایات عمل نہیں کریں گے—۔فوٹو بشکریہ ہفنگٹن پوسٹ
چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کے اسکولوں میں اساتذہ اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسکول یا گھر پر مذہبی روایات عمل نہیں کریں گے—۔فوٹو بشکریہ ہفنگٹن پوسٹ
چینی مسلم کمیونٹی کے بچے—۔فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
چینی مسلم کمیونٹی کے بچے—۔فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

بیجنگ: چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کے اسکولوں میں بچوں پر ان کے گھروں میں مذہب پر عمل پیرا ہونے کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان گلوبل ٹائم کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع کاشغر کے دو ہزار سے زائد کنڈر گارٹن، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے پرنسپلز نے ایک عہد نامے پر دستخط کیے ہیں، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ 'اسکولوں میں مذہبی رجحانات کے فروغ کو روکا جا ئے گا'۔

کاشغر کے محکمہ تعلیم کے عہدیدار کے مطابق عہد نامے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ 'پارٹی ممبران، اساتذہ اور چھوٹے بچے نہ تو اسکول اور نہ ہی گھر پر مذہبی روایات و اقدار پر عمل پیرا ہوں گے'۔

گلوبل ٹائمز کے مطابق کاشغر کے تعلیمی بیورو نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ طلباء جنہیں اسکولوں میں مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی، گھر جاکر اپنے والدین کے زیرِ سایہ مذہبی روایات و اقدار پر عمل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کاشغر کے تعلیمی بیورو کی جانب سے شدت پسندی کو روکنے کے لیے اسکولوں کے طلباء کے یونیفارم کو بھی مخصوص کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ چینی صوبے سنکیانگ میں چین کی مسلم اقلیتی کمیونٹی یوغور کی اکثریت ہے اور گزشتہ سال سے لے کر اب تک یہاں جاری کشیدگی کے باعث دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

چینی حکومت کی جانب سے اس کشیدگی کا ذمہ دار 'دہشت گرد' علیحدگی پسند گروپ کو ٹھہرایا جاتا ہے، جو چین سے آزادی حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ دائیں بازو گروپ کا کہنا ہے کہ یوغور کمیونٹی کی مذہبی اور ثقافتی روایات پر پابندیاں اس کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں۔

سنکیانگ میں ہونے والے حملوں کی شدت میں گزشتہ برس اضافہ ہوا اور یہ کشیدگی بتدریج سنکیانگ کے اطراف کے علاقوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

اس علاقے میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں پر مساجد میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل یہاں باریش مردوں اور نقاب یا اسکارف لینے والی خواتین کے بسوں میں سفر پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔