سیاست اور اخلاقیات

18 نومبر 2014

ای میل

ضیاالحق کے دور سے تمام مرکزی جماعتوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں اپنی سیاست میں مذہب کا استعمال کرنا ہوگا۔
ضیاالحق کے دور سے تمام مرکزی جماعتوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں اپنی سیاست میں مذہب کا استعمال کرنا ہوگا۔

اخلاقیات کا سیاست کے ساتھ رشتہ ایک ایسا سوال ہے جس نے زمانہ قدیم سے دنیا بھر کے فلسفیوں کو جواب کی کھوج میں مصروف رکھا ہوا ہے۔ میکاولی، کینٹ، اور دیگر مغربی مفکروں کے خیالات کو عالمی طور پر شرفِ قبولیت بخشا گیا ہے، لیکن غیر مغربی فلسفیوں نے اس مسئلے کو سلجھانے میں اگر زیادہ نہیں، تو کم از کم مغربی فلسفیوں جتنا وقت ضرور لیا ہے۔ مثال کے طور پر گاندھی کے خیالات فرد اور معاشرے کے بارے میں ہزاروں سال پرانے خیالات پر ہی قائم ہیں۔

زیادہ تر قدیم اور جدید مفکر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بسا اوقات سیاست غیر اخلاقی ہوتی ہے، اور ایسا سب سے زیادہ اقتدار کے بلند ایوانوں میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سیاست کے مثالی ضوابط نہیں بنا سکتے، لیکن کئی فلاسفہ کا خیال ہے کہ اخلاقیات کے تصوراتی معیارات اصل زندگی میں ہونے والی سیاست سے بہت ہی کم مماثلت رکھتے ہیں۔

جدیدیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی اور سیاسی مسائل کا کسی خدائی قوت سے وابستہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقیات کا سرچشمہ صرف مذہب ہی نہیں، بلکہ سیاسی اقدامات کسی مذہب سے رہنمائی حاصل کیے بغیر بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، اور اٹھائے جانے چاہیئں۔

فلاسفہ اس بات کی بارہا نشاندہی کرتے ہیں کہ اخلاقیات اور سیاست کے درمیان موجود ربط انتہائی پیچیدہ ہے، لیکن دوسری طرف سیاست دان اس کی باریکی پر توجہ نہیں دیتے۔ وہ بار بار اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان کے تصورات اور ان کے فیصلے وسیع تر اخلاقی وجوہات پر قائم ہیں، مثلاً شہریوں کی اجتماعی بھلائی اور ان کے حقوق۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ہم خود کو باقیوں سے ممتاز کر کے دیکھتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اخلاقیات، مذہب، اور سیاست میں کوئی فرق کرنے کے قائل نہیں ہیں۔

عمران خان کے اخلاقیات پر نہ ختم ہونے والے خطابات سنیں، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ برحق عوامی نمائندہ ہونے کے دعویدار لیکن اخلاقیات سے عاری سیاستدانوں کے درمیان اخلاقیات کی آواز ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ بار بار اپنے سیاسی بیانات کی سچائی کے ثبوت کے طور پر اسلام کے حوالے دیتے ہیں، اور بار بار یاد دلاتے ہیں کہ تقدیر کے فیصلے کے مطابق صرف وہ ہی پاکستان بچا سکتے ہیں۔

عمران خان کے یہ بیانات دائیں بازو کی اس مذہبی جماعت جیسے ہیں جو پی ٹی آئی کی پسندیدہ سیاسی اتحادی بھی ہے۔ ضیاالحق کے دور کے بعد تمام مرکزی سیاسی جماعتوں نے خوشی سے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں اپنی سیاست میں مذہب کا استعمال کرنا ہوگا، یا ہچکچاتے ہوئے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ایسا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس ملک کے بڑے سے بڑے سیاسی بیانات کو اخلاقیات اور مذہبیت کا تڑکا لگایا جاتا ہے۔ اکثر اوقات سیاستدان (اور فوج بھی) 'دشمنانِ اسلام' کی سازشوں پر اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے برس پڑتے ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں اور افراد کے کردار کی بھی تعریفیں کی جاتی ہیں جن میں اسلام کی بہترین اقدار مجتمع ہیں یا تھیں۔

اخلاقیات اور سیاست کو ملا کر پیش کرنے میں صرف مرکزی اہمیت رکھنے والی جماعتیں، مذہبی دایاں بازو، اور ریاستی ادارے شامل نہیں، بلکہ ترقی پسند یا پروگریسِو بھی اب اپنی سیاست کو اخلاقیات کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔ اس شدید ہوتے ہوئے ٹرینڈ کی وجوہات اور نتائج میں دہشتگردی پر بیانات بھی شامل ہیں۔ جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہے جس میں معصوم افراد کی جانیں جاتی ہیں، تو اخلاقی مذمت اور غصہ ہر جگہ پھیل جاتا ہے۔ اس غصے کی بنیاد میں موجود سیاست زیادہ تر لبرل ورائیٹی کی ہوتی ہے، اور یہ آواز ان افراد کی جانب سے اٹھائی جاتی ہیں جو خود کو فکرمند شہری کہلواتے ہیں۔

آئین کے تحت مذہبی اقلیتوں میں شمار ہونے والے گروپوں اور خواتین کے خلاف بلاجواز تشدد کے واقعات لوگوں میں اخلاقی غصے اور کچھ مظاہروں کو بڑھاوا دیتے ہیں، لیکن یہ منظم سیاست کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوتے، شاید اس وجہ سے کہ جو پارٹیاں خود کو لبرل کہلواتی ہیں، وہ مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی ان اخلاقیات کی بالادستی کو چیلنج کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہیں، جو کہ مقبولِ عام نظریات کی بنیاد میں پائی جاتی ہے۔

ترقی پسند اپنی اس عاجزی کا ذمہ دار مذہبی دائیں بازو کو ٹھہراتے ہیں۔ لیکن اخلاقیات پر ہمارے اپنے لیکچروں اور سیاست کے بارے میں کیا کہیں؟ قصور میں ایک عیسائی جوڑے کے اندوہناک قتل کی مثال لیجیے۔ ترقی پسندوں کی جانب سے اس واقعے پر جو ردِعمل سامنے آیا، وہ کافی حد تک ممکنہ تھا، جس میں جوڑے کی زندگی کے بنیادی پہلوؤں کو نظرانداز کردیا گیا۔

یہ بات واضح ہے کہ میاں اور بیوی کو مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا۔ لیکن اس حقیقت کے بارے میں کیا کہیں یہ دونوں اور ان کا باقی خاندان اس بھٹے میں جبری مزدوری کرتے تھے، اور جہاں انہوں نے زندگی بھر اینٹیں بنائیں، وہیں ان کو جلا کر راکھ کردیا گیا۔

ہاں دولتمند مسیحی اور دوسرے مذہبی گروپ بھی ناانصافی و ظلم کا سامنا کرتے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں مذہبی شناخت اور طبقے کے درمیان ایک قریبی تعلق موجود ہے جسے کافی سارے ترقی پسند بھی نظرانداز کردیتے ہیں۔ اخلاقی غصے کا اظہار نہ ہی اس قریبی تعلق کو سمجھنے میں مددگار ہوتا ہے، اور نہ ہی اس کے خلاف سیاست کی بنیاد ڈالنے میں مدد کرتا ہے۔

سیاست اور اخلاقیات بلاشبہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں، لیکن اگر ترقی پسند چاہتے ہیں کہ مذہبی دائیں بازو کی بالادستی کو توڑا جاسکے، تو انہیں مذہبی دائیں بازو جیسی حرکات بند کرنی ہوں گی۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 7 نومبر 2014 کو شائع ہوا۔