پاکستان پرامن اورترقی یافتہ افغانستان کا حامی ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2014

ای میل

وزیراعظم نواز شریف—۔فائل فوٹو/ رائٹرز
وزیراعظم نواز شریف—۔فائل فوٹو/ رائٹرز
افغان صدراشرف غنی—۔فوٹو اے ایف پی
افغان صدراشرف غنی—۔فوٹو اے ایف پی

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان پرامن اورترقی یافتہ افغانستان کا حامی ہے۔

ہفتے کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں افغان صدر اشرف غنی کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کے بعد مشترکہ پريس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اپنے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات اور افغانستان میں مذاکرات کا حامی ہے'۔

'ہم افغانستان کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اوراس سلسلے میں افغان حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے'۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اورافغانستان کا حال اور مستقبل آپس میں جڑا ہوا ہے، دونوں کو سیکیورٹی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی اور شدت پسندی کے چیلنج سے مل کر نمٹیں گے۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ افغانستان کی ترقی میں اشرف غنی کا اہم کردار ہے اور ہم اشرف غنی کو اپنے دوسرے گھر پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹاپی اور کاسا پروجیکٹس سے دونوں ممالک میں معاشی ترقی اور خوشحالی آئے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور پاکستان اس کے ساتھ ہے۔

مشترکہ بریفنگ کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے افغان عوام کی جانب سے واہگہ بارڈرواقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک غربت اور پسماندگی کے خاتمے پر متفق ہیں اور دونوں کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

'اسی لیے ہم نے 13 سال کی تجارتی رکاوٹوں کو 3 دن میں حل کرلیا'۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان خطےکی ترقی اور استحکام میں بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں جمہوری عمل کا تسلسل چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی ہاتھ ملاتے ہوئے—۔فوٹو اے ایف پی
وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی ہاتھ ملاتے ہوئے—۔فوٹو اے ایف پی

افغانستان نے ملٹری ٹریننگ کی پاکستان کی آفر قبول کرلی


افغانستان نے اپنی افواج کی تربیت پاکستان سے کرانے کی پیش کش قبول کرلی ہے۔

نمائندہ ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان نے ملٹری ٹریننگ کی پاکستان کی آفر قبول کرلی ہے، جس کے تحت پاکستان افغان فوجیوں کو تربیت فراہم کرے گا، تاہم اس کا طریقۂ کار بعد میں طے کیا جا ئے گا۔

وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور پاکستان کے دورے پر آئے افغان صدر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں جمہوری استحکام میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

جبکہ دونوں ممالک سرحد پردہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے بارڈر سیکیورٹی کے معاملات پر بھی متفق ہوگئے ہیں۔

پاکستان اورافغانستان کے رہنماؤں نے وسط ایشاء تک تجارت کے فروغ کے لیے ریل لنک کو ترقی دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔


افغان صدر کا وزیراعظم ہاؤس میں استقبال


افغان صدراشرف غني ہفتے کو وزيراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے وزيراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کيا گيا۔

اس موقع پر افغان صدر کو سلامی کے ساتھ گارڈ آف آنرپيش کيا گيا اور دونوں ممالک کے ترانوں کي دھنيں بجائي گئيں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اشرف غنی کا تعارف کابینہ میں شریک وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام سے کرایا، جس کے بعد باقاعدہ ملاقات کا آغاز ہوا۔

دونوں ممالک کے سربراہان کی ون آن ون ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے اموراور دوطرفہ تعلقات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد پاکستان اورافغانستان میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جس میں پاکستان کی جانب سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار، وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے پلاننگ و ڈیولپمنٹ احسن اقبال اوروزیر تجارت خرم دستگیر نے شرکت کی۔

اس سے قبل افغان صدر سے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یارولی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور پاکستان پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے ملاقاتیں کیں۔

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹراعتزاز احسن، سینیٹرفرحت اللہ بابر، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی، سینیٹرافراسیاب خٹک اور رکن اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی بھی افغان صدر سے ملے۔

افغان صدر نے پاکستانی سیاسی قیادت سے افغانستان میں مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

جس پر سیاسی رہنماؤں نے افغان صدر کو تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی تعاون کی ضرورت ہوگی، پاکستان حاضر ہوگا۔