نئی انقلابی فکر؟

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2014

ای میل

پاکستان کی افغان پالیسی ہندوستان کے گرد گھومنے کے بجائے افغان عوام کی رائے پر مبنی ہونی چاہئے۔
پاکستان کی افغان پالیسی ہندوستان کے گرد گھومنے کے بجائے افغان عوام کی رائے پر مبنی ہونی چاہئے۔

صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان موجودہ حالات میں سراہا جانا چاہئے، طویل المدت پراسیس کے لیے ان کے وعدے کو سمجھنا چاہئے،ان کے دورے سے پیدا ہونے والی توقعات پوری ہونے کی امید ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکے گا۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان باہمی شکوک و شبہات و منفی تصورات کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ماضی کے تلخیوں پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں کی دلچسپیاں اور اداروں کے تصورات اور ترجیحات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

اشرف غنی کا وژن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، وہ پاکستان کے تحفظات کو افغانستان کی خودمختاری پر مفاہمت کیے بغیر دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان کو یقیناً اسی وژن کا اظہار کرتے ہوئے افغان تحفظات کو دور کرنا چاہئے، ورنہ اشرف غنی پر پاکستان کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ملکی سطح پر تنقید بڑھ جائے گی۔

تجارت ، معاونت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافہ اور انہیں خطے میں چینی اور امریکی حمایت سے ہونے والے اقدامات سے ملانا جیسے 'ہارٹ آف ایشیائ' اور نئی شاہراہ ریشم، معیشت اور توانائی کی راہدریوں وغیرہ میں تعاون اور ان کی تکمیل میں تعاون ، پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

دونوں ممالک کی قیادت اپنی بات چیت اور معاہدوں میںان حقائق سے واقفیت کا احساس ظاہر کرنا چاہئے، اس حوالے سے پاکستانی رائے کافی پرجوش ہے، مگر مجھے لگتا ہے کہ افغان سیاسی رائے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

اسلام آباد کو افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں اور افغان انڈٰن سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے تحفظات ہیں، افغانستان میں پاکستانی اور دیگر عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹحکانے موجود ہیں جو وہاں سے حملے کرتے رہتے ہیں جس سے ضرب عضب اور خیبرون فوجی آپریشنز کی کامیابی کو خطرہ لاحق ہے۔

افغانستان کا ہندوستان سے بڑھتا ہوا سیکیورٹی تعاون پاکستان سے اس طرح کے تعاون کو غیرمتوازن کرنے کا سبب بن رہا ہے، پاکستان اس حوالے سے یہ تصور رکھتا ہے کہ اس سے افغانستان کے اگلی نسل کے سیکیورٹی فیصلہ سازوں سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان مخالف جذبات کو فروغ ملے گا۔

کابل اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ نئی اتحادی حکومت کی حمایت اور افغان طالبان کی معاونت کے درمیان کوئی واضح انتخاب کرے جو حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹانا چاہتے ہیں، طالبان ابھی تک شکست نہیں کھاسکے ہیں اور افغان سرزمین پر مغربی فوجی موجودگی تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے اور ان کی جانب سے افغانستان کے کچھ حصوں پر دوبارہ کنٹرول کے فوجی اقدامات بھی کمزور ہوتے جارہے ہیں جو نئی حکومت کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، علاوہ ازیں پاکستان ماضی میں اس ضرورت پر زور دے چکا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا تصفیہ ممکن ہو تو طالبان کو اقتدار میں شامل کیا جائے۔

افغان حکومت طالبان کی روک تھام کے لیے فوجی اور سیاسی جدوجہد پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان نے کابل میں 'غیردوستانہ' یا 'ہندوستان کی حامی' حکومت ہونے کی صورت میں ایک آزاد پالیسی پر غور شروع کردیا۔ طالبان سے ہٹ کر پاکستان کے پالیسی ساز گلبدین حکمت یار کو افغانستان میں اپنا قابل اعتماد وست کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اشرف غنی کی کوشش ہے کہ پاکستان کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ افغانستان میں اس کا واحد بہترین دوست افغان عوام اور ان کی منتخب حکومت ہے، خیالات کا یہ تضاد جو باہمی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے، کو اسی صورت میں حل کیا جاسکتا ہے کہ جب صدر اشرف غنی کے دورے سے پیدا ہونے والے حقیقی خیرسگالی کے جذبے کو مستحکم شکل دے کر آگے بڑھایا جائے۔

ایسا صرف دونوں ممالک میں جائز، دوربین اور دلیر قیادت کی ہی بدولت ہوسکتا ہے، باہمی تجارت کو دوگنا کرنا، ٹرانزٹ ٹریڈ سہولیات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا، مشترکہ انفراسٹرکچر اور انرجی پراجیکٹس، موثر و حقیقی سرحدی انتظامات، انٹیلی جنس شیئرنگ، سیکیورٹی تعاون، میڈیا اور دیگر شعبوں کا ایکسچینج وغیرہ، اس نئے پھلتے پھولتے تعلقات کو ضروری بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ طالبان اور ان سے منسلک دیگر گروپس پر یہ واضح کردے کہ غیرملکی افواج کا انخلاءہورہا ہے اور کابل میں ایک دوستانہ حکومت ہے جو ان سے رابطہ کرنے کی خواہشمند ہے، انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد تشدد کی بجائے صرف قانونی سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے ہی حاصل کرسکتے ہیں اس خیال کو تقویت پاکستان میں منتخب کی بجائے مسلسل فوجی آپریشنز کے ذریعے دی جاسکتی ہے۔

خطے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی قیادت کا کردار فوجی قیادت کے مقابلے میں کافی کم ہے اور افغان صدر کے دورے کے موقع پر یہی تاثر ابھرا، اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ 'پہلی بار' وزارت خارجہ اور جی ایچ کیواس دورے کی اہمیت اور مواقعوں کے حوالے سے 'ایک ہی صفحے' پر ہیں۔

صدر غنی کی پاکستان آمد کے موقع پر ملک سے وزیراعظم کی غیرحاضری اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ وہ منظرنامے سے باہر ہیں، کچھ پاکستانی تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اشرف غنی'اپنا ہوم ورک' کرکے آئے تھے اور 'جانتے تھے کہ پاکستان میں اقتدار کا مرکز کونسا ہے'، مزید یہ کہ جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات کے دوران اشرف غنی نے تمام تر پروٹوکول ضابطے بالائے طاق رکھ کر اپنے مقاصد اور ورژن کا اظہار کیا کیونکہ وہ وہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بیک وقت افغانستان سے کشیدہ تعلقات اور ہندوستان سے تنازع برقرار رکھنے کے ساتھ پاک افغان تعلقات کو پاک ہندوستان تعلقات کا مغوی بنانا غیرضروری سفارتکاری ناکامی اور دیگر نقصانات کا باعث بنے گا، پاک انڈیا تعلقات زیادہ پرامید منظرنامے میں بھی زیادہ تیز رفتاری سے ممکن نہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ ایسا ممکن ہے، علاوہ ازیں یہ پاکستان کے لیے مفاد میں ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بہتر اور مستحکم تعلقات کی بنیاد رکھے، افغانستان میں پاک انڈیا کی مفادات کی جنگ نہ ہونا یقیناً پاکستان کے لیے زبردست فوائد کا باعث بنے گی۔

پاکستان کی افغان پالیسی ہندوستان کے گرد گھومنے کی بجائے اسے افغان عوام کی رائے پر مبنی ہونی چاہئے، ایک خود پر فخر اور اپنا احترام کرنے والے پڑوسی کے سر پر انتخاب تھوپنا جو پاکستان خود بھی تسلیم نہ کرے، دوستی اور باہمی یکجہتی کو فروغ دینا کا کوئی بہترین طریقہ نہیں۔

پاکستان کی افغان پالیسی میں مومود علاقائی تعصب اور تکبر جس نے سوویت یونین کے دوران پاکستان کے لیے خیرسگالی کے جذبات جو ہر افغان گھر میں پائے جاتے تھے کو ختم کرکے رکھ دیا، اس پالیسی کو زیادہ بہتر اور کھلے دل کی حکمت عمل یسے تبدیل کردینا چاہئے، سویلین سیاسی قیادت کو یہ ذمہ داری اٹھانا ہوگی اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

نریندرا مودی کا ہندوستان اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے افغانستان سے زیادہ بڑا چیلنج ہے، ٹھیک ہے کہ پاکستان کی انڈیا پالیسی کے دیگر مقاصد بھی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ افغان پالیسی کو مکمل اور آسان بنانے کی بھی ضرورت ہے، مثبت فیڈبیک زیادہ اہم ہے ناکہ دوسروں کو شکست دینے کا کھیل۔

انگریزی میں پڑھیں۔


لکھاری امریکا، ہندوستان اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر اور عراق و سوڈان میں یو این مشنز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔