ماہرہ خان کا سب سے بہترین ڈرامہ؟

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2014

ای میل

محبت؟

کسی کو دعاؤں میں بڑے خلوص سے مانگنا، کسی کو سوچنا اور بے اختیار مسکرا دینا، کسی کی خاطر اپنی انا کو کچل دینا، بنا لفظوں کے باتیں کرنا شا ید ایسا ہی کچھ۔

اس جذبے کی ہے کوئی حقیت ؟؟

اس پہیلی کی کھوج تو صدیوں سے لاتعداد افراد کر رہے ہیں، کسی نے اسے عیاشی کا سامان جانا تو کسی نے اسے محض دل بہلانے کا ذریعہ- مگر درحقیقت محبت ایک ایسا پاک جذبہ ہے جو کہ قدرت کی عطاء ہے اور اس کی مہر نصیب والوں کا مقدر بنتی ہے۔

ایسا جذبہ جسے محسوس کرنے کی خواہش کہیں نہ کہیں ہر دل میں ہوتی ہے، کتنی عجیب با ت ہے اپنی ہزار ہا کوششوں کے باوجود بھی نہ تو ہم اس جذبے کو پا سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے گریز کرسکتے ہیں کیونکہ محبت وہ احساس ہے جو اپنا انتخاب خود کرتی ہے، اپنا راستہ خود بناتی ہے اور اپنا انتقام بھی خود لیتی ہے-

گو کہ محبت کی پیمایش نہ ممکن ہے مگر مشاہدہ کہتا ہے کہ صنف نازک میں اس کی شدت مردوں سے زیادہ ہوتی ہے جس کی خاص وجہ ان کے جذبات کی پاکیزگی اور ان کا محبت کی طرف مخلصانہ رویہ ہے اور اگر بات کی جائے ایک ایسی لڑکی کی جس نے بچپن سے اپنے وجود کے ساتھ اپنی محبت کو پروان چڑھایا ہو، زندگی کے ہر لمحے میں اسے جیا ہو، ہر دکھ سکھ میں اس کی ذات کا حصہ رہی ہو ایسے میں محبت کا یہ احساس اس کے لیے کس قدر قیمتی ہو جاتا ہے، ڈرامہ سیریل "صدقے تمہارے" کی کہانی بھی ایسی ہی محبت کی ایک داستان ہے۔

ماہرہ خان
ماہرہ خان

بلگن کی رہاشی شانو (ماہرہ خان) کے والدین راشدہ (سمعیہ ممتاز) اور امین (ریحان شیخ ) نے بچپن میں ہی شانو کی نسبت اس کے خالہ زاد خلیل (عدنان ملک جو کہ لاہور می مقیم ہے) سے طے کر دیتے ہیں- اس احساس کے باعث شانو جذباتی طور پر خلیل سے مضبوط انسیت استوار کرلیتی ہے- یہاں تک کہ وہ لفظ خوشی کو "خُشی" لکھتی ہے وہ مانتی ہے کے "خ سے خلیل اور ش سے شانو" جبکہ درمیان میں " و" دوری پیدا کرتا ہے- اور خُشی تو شانو اور خلیل کے ملاپ میں ہے- اس کے برعکس خلیل (عدنان ملک) ایک پڑھا لکھا خوبصورت نوجوان ہے جو بچپن کی نسبت کو نہ تو مانتا ہے اور نہ جذباتی انسیت رکھتا ہے۔

عدنان ملک
عدنان ملک

کہانی باقاعدہ شروع ہوتی ہے جب دور گاؤں کی شادی میں خلیل اور شانو کے خاندان کا بلاوا ہوتا ہے، خلیل کی ماں اسے ساتھ چلنے پر زور دیتی ہے مگر وہ صاف انکار کردیتا ہے، اسی رات خواب میں وہ ایک لڑکی کو درگاہ پر دعا کرتے دیکھتا ہے- اس لڑکی کے گال کا تل خلیل کو بے چین کر دیتا ہے اور خلیل کو یہ جان کے حیرت ہوتی ہے کہ شانو کے گال پر بھی تل ہے۔

یہ تجسس خلیل کو شادی میں لے جاتا ہے جہاں خلیل کی ملاقات شانو سے ہوتی ہے اور وہ پہلی ہی نظر میں اپنا دل ہار بیٹھتا ہے- اسی دوران (عبدالرحمان) خلیل کا باپ شانو کے باپ سے باقاعدہ منگنی کی بات کرتا ہے تو (امین) شانو کا باپ ٹال مٹول سے کام لے کر عبدالرحمان کو گھر آنے کا کہتا ہے۔

سمعیہ ممتاز
سمعیہ ممتاز

خلیل کے ماں باپ شانو کا باقاعدہ رشتہ لے کر جاتے ہیں تو امین صاف انکار کردیتا ہے، رشتے سے انکار کی وجہ شانو کی ماں (رشیدہ) کا انتقام ہوتا ہے کیونکہ خلیل کے باپ (عبدالرحمان) کی شادی شانو کی ماں (رشیدہ) سے طے ہوئی تھی، مگر حالات کے پیش نظر عبدالرحمان کی شادی رشیدہ کی بڑی بہن سے ہوگئی اور اب جبکہ رشیدہ کو یقین ہوگیا ہے کہ خلیل شانو کو پسند کرنے لگا ہے تو وہ بچپن کا رشتہ ختم کر کے انتقام لینا چاہتی ہے-

کہانی اس وقت بہت خوبصورت موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف شانو کی والہانہ محبّت ہے اور دوسری طرف اس کی ماں کا انتقام، محبت اپنا راستہ کیسے بناتی ہے یہ جاننا شائقین کے لئے کافی دلچسپ ہوگا۔


قبل ذکر رومانوی سین


'صدقے تمہارے' کے مختلف سین
'صدقے تمہارے' کے مختلف سین

خلیل کے خواب میں شانو کے گال کا تل نظر آنا، اس منظر کو شائقین نے کافی پسند کیا ہے، ذاتی طور پر مجھے خلیل اور شانو کی پہلی ملاقات کا سین بہت پسند آیا جس میں ساری دنیا سے بے خبر وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں۔


منفی پہلو


مختلف اداکاروں کا بار بار ایک ہی ڈائیلاگ کو اپنے انداز میں دہرانا سننے والوں کو ناگوار لگتا ہے، کرداروں کا مناسب تعارف نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی کہانی الجھ جاتی ہے، کس کی شادی کس سے ہوئی تھی کس نے کس کو دھوکہ دیا؟ کون کس کی اولاد ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔


آخری بات


خلیل ارحمان قمر کی تحریر یہ ڈرامہ بھی ان کی سابقہ تحریروں "لنڈا بازار اور پیارے افضل" کی طرح شائقین پر مکمل گرفت رکھتا ہے اور خاص کر یہ جاننے کے بعد کہ یہ کہانی ان کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے شائقین کی دلچسپی کئی گنا بڑھ گئی ہے جبکہ ماہرہ خان اور ڈیبیو اداکار عدنان ملک کی کیمسٹری بھی بہت لاجواب ہے۔


یہ ڈرامہ مومنہ درید اور ثمینہ ہمایوں کی پروڈکشن ہے جس کے ڈائریکٹر احتشام الد ین اور رائٹر خلیل الرحمان قمر ہیں- ڈرامے کے مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان، عدنان ملک، ریحان شیخ، سمعیہ ممتاز، فرحان علی آغا، قوی خان اور دیگر شامل ہیں- یہ ڈرامہ ہر جمعہ کی شب 8 بجے ہم ٹی وی پر نشر ہوتا ہے اور اب تک اس کی 7 اقساط نشر کی جا چکی ہیں۔